ٹیگ کے محفوظات: عراق

فروزاں خواب کیے تیرہ طاق نے کیا کیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 122
تری طلب نے ترے اشتیاق نے کیا کیا
فروزاں خواب کیے تیرہ طاق نے کیا کیا
میں جا رہا تھا کہیں اور عمر بھر کے لیے
بدل دیا ہے بس اک اتفاق نے کیا کیا
عشائے غم کی تلاوت رہے تہجد تک
سکھا دیا ہے یہ دینِ فراق نے کیا کیا
نری تباہی ہے عاشق مزاج ہونا بھی
دکھائے غم ہیں دلِ چست و چاق نے کیا کیا
وہ لب کھلے تو فسانہ بنا لیا دل نے
گماں دیے ترے حسنِ مذاق نے کیا کیا
مقامِ خوک ہوئے دونوں آستانِ وفا
ستم کیے ہیں دلوں پر نفاق نے کیا کیا
ہر ایک دور میں چنگیزیت مقابل تھی
لہو کے دیپ جلائے عراق نے کیا کیا
ہر اک شجر ہے کسی قبر پر کھڑا منصور
چھپا رکھا ہے زمیں کے طباق نے کیا کیا
منصور آفاق