ٹیگ کے محفوظات: عذاب

جو چاہیں آپ کہتے رہیں میرے باب میں

کہنا نہیں ہے جب مجھے کچھ بھی جواب میں
جو چاہیں آپ کہتے رہیں میرے باب میں
اب تو گنوا رہے ہو شب و روز خواب میں
پھر ڈھونڈتے پھرو گے جوانی خضاب میں
تھی روشنی کی جن کو ہوس راکھ ہو گئے
تھے بے خبر کہ آگ بھی ہے آفتاب میں
آنکھیں بُجھے ہوئے تو زمانہ ہوا مگر
دل کے لیے ہنوز کشش ہے سَراب میں
آؤ کہِگن سکوں گا نہ شامیں فراق کی
یہ انگلیاں تو ختم ہوئیں سب حساب میں
بیدار ہوں کہ سوئے رہیں اِس سے کیا غرض
رہنا ہے جب ہمیشہ ہمیں ایک خواب میں
ہم ہیں کہ بس سمیٹتے رہتے ہیں چاندنی
کچھ لوگ جا بسے ہیں دلِ ماہتاب میں
ہے مستقل سکون بھی اک وجہِ اضطراب
ممکن ہے کچھ سکون ملے اضطراب میں
آنکھیں بہانے ڈھونڈتی رہتی ہیں نیند کے
شاید وہ دلربا نظر آ جائے خواب میں
باصرِؔ کہاں تم اور کہاں اُس کی جستجو
بیٹھے بٹھائے پڑ گئے یہ کس عذاب میں
باصر کاظمی

میں تِیرہ بخت ہوں ،دے، آفتاب دے مُجھ کو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
نئی رُتوں،نئی فصلوں کی تاب دے مُجھ کو
میں تِیرہ بخت ہوں ،دے، آفتاب دے مُجھ کو
جو مُجھ کو حوصلہ، جِینے کا حوصلہ دے دیں
اُڑوں میں جِن کے سہارے وُہ خواب دے مُجھ کو
یہ تُو جو خود ہی کرے شاد، پِھر کرے ناشاد
یہ کیا مذاق ہے بس یہ جواب دے مُجھ کو
مری بساط بھی دیکھ اے خُدا! خُدا ہے جو تُو
میں جِن کا اہل ہوں ایسے عذاب دے مُجھ کو
ہُوا جو مجھ پہ ہر اُس ظلم کی تلافی ہو
مرے زماں!کوئی ایسا خطاب دے مُجھ کو
مجھے جو دے تو کوئی نعمتِ فراواں دے
تووں سا تپنے لگا ہُوں سحاب دے مُجھ کو
لہو کے بیچ سے جو حِدّتِ سکوں بخشے
رگوں سے خِلق ہو جو وُہ شراب دے مُجھ کو
ماجد صدیقی

جُگ بیت گئے ماجدؔ، اِس جاں پہ عذاب آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
پتھر کے تلے اگتے اور زیرِ عتاب آئے
جُگ بیت گئے ماجدؔ، اِس جاں پہ عذاب آئے
پھر اِذن دیا اُس نے، اظہارِ غم دل کا
پھر شاخِ لب و جاں پر، کھِلنے کو گلاب آئے
مائل ہوں جو شفقت پر اور جانیں، برسنا بھی
کھیتوں پہ لئے بوندیں ایسی، نہ سحاب آئے
ایوان نشینوں سے کیا آس، مُرادوں کی
کٹیاؤں کو پہلے بھی کب ایسے جواب آئے
جب بادِ صبا تک نے، لی ذات بدل اپنی
پودوں کے قد و رُخ پر، کیا رنگِ شباب آئے
جس طور لپکتی ہیں لینے کو، ہمیں موجیں
اُس پار کا ساحل بھی، اے کاش! شتاب آئے
ماجد صدیقی

ہوئی ہے مدّت ہی ہاتھ میں وہ کتاب آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
وُہ رُوئے روشن، وُہ حسن کا انتخاب آئے
ہوئی ہے مدّت ہی ہاتھ میں وہ کتاب آئے
سوال جو بھی کرو گے اس گنبدِ فلک میں
تمہارا اپنا کہا ہی بن کر جواب آئے
وُہ گل بہ شاخِ نظر ہو یا آس کا ثمر ہو
جِسے بھی آنا ہے پاس اپنے شتاب آئے
کھِنچا کھنچا سا لگے وُہ سانسوں میں بسنے والا
برس ہوئے ہیں ہمِیں پہ اِک یہ عتاب آئے
جھُلانے آئیں نہ رات کی رانیوں سی نیندیں
نہ لوریوں کو کہیں کوئی ماہتاب آئے
فلک سے اُتری ہے برق کب بُوند بُوند ماجدؔ
زدستِ انساں ہی خاک پر ہر عذاب آئے
ماجد صدیقی

یہ سہم سا خواب خواب کیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 87
دہشت ہے کہ اضطراب کیا ہے
یہ سہم سا خواب خواب کیا ہے
کھولا ہے یہ راز رہزنوں نے
کمزور کا احتساب کیا ہے
دھرتی یہ فلک سے پُوچھتی ہے
پاس اُس کے اَب اور عذاب کیا ہے
مشکل ہوئی اب تمیز یہ بھی
کیا خُوب ہے اور خراب کیا ہے
کہتے ہیں جو دل میں آئے ماجدؔ!
ایسا بھی ہمیں حجاب کیا ہے
ماجد صدیقی

ہَوا اسیر ہے لیکن ابھی حباب میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 136
بجا کہ زور بہت کچھ گرفتِ آب میں ہے
ہَوا اسیر ہے لیکن ابھی حباب میں ہے
کرم کے ساتھ غضب بھی ہے اُس سے وابستہ
اگر ہے آب تو پھر برق بھی سحاب میں ہے
نہ بے زباں ہے نہ قادر ہے نطق پر اپنے
ہر ایک شخص مسلسل اِسی عذاب میں ہے
نہاں بھی ہے تو کہاں تک رہے گا پوشیدہ
جو حرف وقت کی تعزیّتی کتاب میں ہے
کوئی تو معجزہ دکھلائے گا فراق اُس کا
ہر ایک رگ میں لہو جس سے اضطراب میں ہے
سبھی رُتوں کی طرف سے اُسے سلام کہ جو
کھِلے گلاب کی مانند کشتِ خواب میں ہے
بنی ہے شہر میں جو خارِ ہر زباں ماجد!ؔ
وہ ساری بات ترے ایک شعر ناب میں ہے
ماجد صدیقی

برائی دیکھی، بھلائی دیکھی، عذاب دیکھا، ثواب دیکھا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 21
ہماری آنکھوں نے بھی تماشا عجب عجب انتخاب دیکھا
برائی دیکھی، بھلائی دیکھی، عذاب دیکھا، ثواب دیکھا
نہ دل ہی ٹھہرا، نہ آنکھ جھپکی، نہ چین پایا، نہ خواب آیا
خدا دکھائے نہ دشمنوں کو، جو دوستی میں عذاب دیکھا
نظر میں ہے تیری کبریائی، سما گئی تیری خود نمائی
اگر چہ دیکھی بہت خدائی، مگر نہ تیرا جواب دیکھا
پڑے ہوئے تھے ہزاروں پردے کلیم دیکھوں تو جب بھی خوش تھے
ہم اس کی آنکھوں کے صدقے جس نے وہ جلوہ یوں بے حجاب دیکھا
یہ دل تو اے عشق گھر ہے تیرا، جس کو تو نے بگاڑ ڈالا
مکاں سے تالا دیکھا، تجھی کو خانہ خراب دیکھا
جو تجھ کو پایا تو کچھ نہ پایا، یہ خاکداں ہم نے خاک پایا
جو تجھ کو دیکھا تو کچھ نہ دیکھا، تمام عالم خراب دیکھا
داغ دہلوی

شوقِ خیال تازہ ہے یعنی عذاب چاہیے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 237
مجھ کو شبِ وجود میں تابشِ خواب چاہیے
شوقِ خیال تازہ ہے یعنی عذاب چاہیے
آج شکستِ ذات کی شام ہے مجھ کو آج شام
صرف شراب چاہیے ، صرف شراب چاہیے
کچھ بھی نہیں ہے ذہن میں کچھ بھی نہیں سو اب مجھے
کوئی سوال چاہیے کوئی جواب چاہیے
اس سے نبھے گا رشتۂِ سودوزیاں بھی کیا بھلا
میں ہوں بَلا کا بدحساب اس کو حساب چاہیے
امن و امانِ شہرِ دل خواب و خیال ہے ابھی
یعنی کہ شہرِ دل کا حال اور خراب چاہیے
جانِ گماں ہمیں تو تم صرف گمان میں رکھو
تشنہ لبی کو ہر نفس کوئی سراب چاہیے
کھل تو گیا ہے دل میں ایک مکتبِ حسرت و امید
جون اب اس کے واسطے کوئی نصاب چاہیے
جون ایلیا

لَبِ دریا سراب بیچے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 124
سرِ صحرا حباب بیچے ہیں
لَبِ دریا سراب بیچے ہیں
اور تو کیا تھا بیچنے کے لیے
اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں
خود سوال ان لبوں سے کرکے میاں
خود ہی ان کے جواب بیچے ہیں
زُلف کوچوں میں شانہ کش نے ترے
کتنے ہی پیچ و تاپ بیچے ہیں
شہر میں خراب حالوں نے
حال اپنے خراب بیچے ہیں
جانِ مَن تیری بے نقابی نے
آج کتنے نقاب بیچے ہیں
میری فریاد نے سکوت کے ساتھ
اپنے لب کے عذاب بیچے ہیں
جون ایلیا

پہلو کا عذاب پی رہا ہوں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 92
میں دل کی شراب پی رہا ہوں
پہلو کا عذاب پی رہا ہوں
میں اپنے خرابہء عبث میں
بے طرح خراب پی رہا ہوں
ہے میرا حساب بے حسابی
دریا میں سراب پی رہا ہوں
ہیں سوختہ میرے چشم و مژگاں
میں شعلہء خواب پی رہا ہوں
دانتوں میں ہے میرے شہہ رگ جاں
میں خونِ شباب پی رہا ہوں
میں اپنے جگر کا خون کر کے
اے یار شتاب پی رہا ہوں
میں شعلہء لب سے کر کے سیّال
طاؤس و رباب پی رہا ہوں
وہ لب ہیں بَلا کے زہر آگئیں
میں جن کا لعاب پی رہا ہوں
جون ایلیا

کرنا جو کچھ ہو تم کو سو کرلو شتاب اب

دیوان ششم غزل 1810
آیا ہے شیب سر پہ گیا ہے شباب اب
کرنا جو کچھ ہو تم کو سو کرلو شتاب اب
بگڑا بنا ہوں عشق سے سو بار عاقبت
پایا قرار یہ کہ رہوں میں خراب اب
خوں ریزی عاشقوں کی ہے ظالم اگر ثواب
تو تو ہوا ہے تجھ کو بہت سا ثواب اب
بھڑکی دروں میں آتش سوزندہ عشق کی
دل رہ گیا ہے پہلو میں ہوکر کباب اب
ہوں اس بہشتی رو سے جدا میں جحیم میں
رہتا ہے میری خاک کو ہر دم عذاب اب
قاصد جو آیا چپ ہے نشاں خط کا کچھ نہیں
دیکھیں جو لاوے باد کوئی کیا جواب اب
کیا رنج و غم کو آگے ترے میں کروں شمار
یاں خود حسابی میری تو ہے بے حساب اب
جھپکی ہیں آنکھیں اور جھکی آتی ہیں بہت
نزدیک شاید آیا ہے ہنگام خواب اب
آرام کریے میری کہانی بھی ہوچکی
کرنے لگو گے ورنہ عتاب و خطاب اب
جانا سبھوں نے یہ کہ تو معشوق میر ہے
خلع العذار سے نہ گیا ہے حجاب اب
میر تقی میر

بے دماغی سے با خطاب رہا

دیوان ششم غزل 1785
اپنے ہوتے تو با عتاب رہا
بے دماغی سے با خطاب رہا
ہو کے بے پردہ ملتفت بھی ہوا
ناکسی سے ہمیں حجاب رہا
نہ اٹھا لطف کچھ جوانی کا
کم بہت موسم شباب رہا
کارواں ہائے صبح ہوتے گیا
میں ستم دیدہ محو خواب رہا
ہجر میں جی ڈھہا گرے ہی رہے
ضعف سے حال دل خراب رہا
گھر سے آئے گلی میں سو باری
یار بن دیر اضطراب رہا
ہم سے سلجھے نہ اس کے الجھے بال
جان کو اپنی پیچ و تاب رہا
پردے میں کام یاں ہوا آخر
واں سدا چہرے پر نقاب رہا
سوزش سینہ اپنے ساتھ گئی
خاک میں بھی ہمیں عذاب رہا
حیف ہے میر کی جناب سے میاں
ہم کو ان سمجھے اجتناب رہا
میر تقی میر

خوں بستہ ہیں گی آنکھیں آوے گی خواب کیونکر

دیوان پنجم غزل 1614
تڑپے ہے غم زدہ دل لاوے گا تاب کیونکر
خوں بستہ ہیں گی آنکھیں آوے گی خواب کیونکر
پر ناتواں ہوں مجھ پر بھاری ہے جی ہی اپنا
مجھ سے اٹھیں گے اس کے ناز و عتاب کیونکر
اس بحر میں ہے مٹنا شکل حباب ہر دم
ابھرا رہے ہمیشہ نقش پرآب کیونکر
پانی کے دھوکے پیاسے کیا کیا عزیز مارے
سر پر نہ خاک ڈالے اپنے سراب کیونکر
آب رواں نہ تھا کچھ وہ لطف زندگانی
جاتی رہی جوانی اپنی شتاب کیونکر
سینے میں میرے کب سے اک سینک ہی رہے ہے
قلب و کبد نہ ہوویں دونوں کباب کیونکر
شلّاق خواری کی تھی خجلت جو کچھ نہ بولا
منھ کیا ہے نامہ بر کا نکلے جواب کیونکر
سوز دل و جگر سے جلتا ہے تن بدن سب
میں کیا کوئی ہو کھینچے ایسے عذاب کیونکر
چہرہ کتابی اس کا مجموعہ میر کا ہے
اک حرف اس دہن کا ہوتا کتاب کیونکر
میر تقی میر

ضائع ہے جیب و دامن جوں جنس آب دیدہ

دیوان سوم غزل 1249
کب تک رہیں گے یارب ہر دم ہم آبدیدہ
ضائع ہے جیب و دامن جوں جنس آب دیدہ
اس حور سے شبوں کا ملنا گیا سو چپ ہوں
جاتا نہیں کہا کچھ جوں گنگ خواب دیدہ
راز محبت اپنا رسوا نہ اس قدر ہو
گر ہو نہ اشک افشاں خانہ خراب دیدہ
جب دیکھو لگ رہا ہے در کی طرف اسی کے
ہے جیسے کہیے ویسے ذلت کا باب دیدہ
دوزخ میں میر ہوں میں یار بہشت رو بن
جاں ہے ستم رسیدہ دل ہے عذاب دیدہ
میر تقی میر

اس سے آنکھیں لگیں تو خواب کہاں

دیوان دوم غزل 879
عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں
اس سے آنکھیں لگیں تو خواب کہاں
بے کلی دل ہی کی تماشا ہے
برق میں ایسے اضطراب کہاں
خط کے آئے پہ کچھ کہے تو کہے
ابھی مکتوب کا جواب کہاں
ہستی اپنی ہے بیچ میں پردہ
ہم نہ ہوویں تو پھر حجاب کہاں
گریۂ شب سے سرخ ہیں آنکھیں
مجھ بلانوش کو شراب کہاں
عشق ہے عاشقوں کے جلنے کو
یہ جہنم میں ہے عذاب کہاں
داغ رہنا دل و جگر کا دیکھ
جلتے ہیں اس طرح کباب کہاں
محو ہیں اس کتابی چہرے کے
عاشقوں کو سرکتاب کہاں
عشق کا گھر ہے میر سے آباد
ایسے پھر خانماں خراب کہاں
میر تقی میر

میں اٹھ گیا ولے نہ اٹھا بیچ سے حجاب

دیوان دوم غزل 774
تابوت پر بھی میرے نہ آیا وہ بے نقاب
میں اٹھ گیا ولے نہ اٹھا بیچ سے حجاب
اس آفتاب حسن کے جلوے کی کس کو تاب
آنکھیں ادھر کیے سے بھر آتا ہے ووہیں آب
اس عمر برق جلوہ کی فرصت بہت ہے کم
جو کام پیش آوے تجھے اس میں ہو شتاب
غفلت سے ہے غرور تجھے ورنہ ہے بھی کچھ
یاں وہ سماں ہے جیسے کہ دیکھے ہے کوئی خواب
اس موج خیز دہر نے کس کے اٹھائے ناز
کج بھی ہوا نہ خوب کلہ گوشۂ حباب
یہ بستیاں اجڑ کے کہیں بستیاں بھی ہیں
دل ہو گیا خراب جہاں پھر رہا خراب
بیتابیاں بھری ہیں مگر کوٹ کوٹ کر
خرقے میں جیسے برق ہمارے ہے اضطراب
ٹک دل کے نسخے ہی کو کیا کر مطالعہ
اس درس گہ میں حرف ہمارا ہے اک کتاب
مجنوں نے ریگ بادیہ سے دل کے غم گنے
ہم کیا کریں کہ غم ہیں ہمارے تو بے حساب
کاش اس کے روبرو نہ کریں مجھ کو حشر میں
کتنے مرے سوال ہیں جن کا نہیں جواب
شاید کہ ہم کو بوسہ بہ پیغام دست دے
پھرتا ہے بیچ میں تو بہت ساغر شراب
ہے ان بھوئوں میں خال کا نقطہ دلیل فہم
کی ہے سمجھ کے بیت کسو نے یہ انتخاب
گذرے ہے میر لوٹتے دن رات آگ میں
ہے سوز دل سے زندگی اپنی ہمیں عذاب
میر تقی میر

پردہ رہا ہے کون سا ہم سے حجاب کیا

دیوان دوم غزل 760
منھ پر اس آفتاب کے ہے یہ نقاب کیا
پردہ رہا ہے کون سا ہم سے حجاب کیا
اے ابرتر یہ گریہ ہمارا ہے دیدنی
برسے ہے آج صبح سے چشم پرآب کیا
دم گنتے گنتے اپنی کوئی جان کیوں نہ دو
وہ پاس آن بیٹھے کسو کے حساب کیا
سو بار اس کے کوچے تلک جاتے ہیں چلے
دل ہے اگر بجا تو یہ ہے اضطراب کیا
بس اب نہ منھ کھلائو ہمارا ڈھکے رہو
محشر کو ہم سوال کریں تو جواب کیا
دوزخ سو عاشقوں کو تو دوزخ نہیں رہا
اب واں گئے پہ ٹھہرے ہے دیکھیں عذاب کیا
ہم جل کے ایک راکھ کی ڈھیری بھی ہو گئے
ہے اب تکلف آگے جلے گا کباب کیا
ہستی ہے اپنے طور پہ جوں بحر جوش میں
گرداب کیسا موج کہاں ہے حباب کیا
دیکھا پلک اٹھاکے تو پایا نہ کچھ اثر
اے عمر برق جلوہ گئی تو شتاب کیا
ہر چند میر بستی کے لوگوں سے ہے نفور
پر ہائے آدمی ہے وہ خانہ خراب کیا
میر تقی میر

آنکھیں کھلیں تری تو یہ عالم ہے خواب سا

دیوان دوم غزل 688
اس موج خیز دہر میں تو ہے حباب سا
آنکھیں کھلیں تری تو یہ عالم ہے خواب سا
برقع اٹھاکے دیکھے ہے منھ سے کبھو ادھر
بارے ہوا ہے ان دنوں رفع حجاب سا
وہ دل کہ تیرے ہوتے رہے تھا بھرا بھرا
اب اس کو دیکھیے تو ہے اک گھر خراب سا
دس روز آگے دیکھا تھا جیسا سو اب نہیں
دل رہ گیا ہے سینے میں جل کر کباب سا
اس عمر میں یہ ہوش کہ کہنے کو نرم گرم
بگڑا رہے ہے ساختہ مست شراب سا
ہے یہ فریب شوق کہ جاتے ہیں خط چلے
واں سے وگرنہ کب کا ہوا ہے جواب سا
کیا سطر موج اشک روانی کے ساتھ ہے
مشتاق گریہ ابر ہے چشم پر آب سا
دوزخ ہوا ہے ہجر میں اس کے جہاں ہمیں
سوز دروں سے جان پہ ہے اک عذاب سا
مدت ہوئی کہ دل سے قرار و سکوں گئے
رہتا ہے اب تو آٹھ پہر اضطراب سا
مواج آب سا ہے ولیکن اڑے ہے خاک
ہے میر بحربے تہ ہستی سراب سا
میر تقی میر

دل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا

دیوان دوم غزل 668
پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا
دل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا
کاٹے ہیں خاک اڑا کر جوں گردباد برسوں
گلیوں میں ہم ہوئے ہیں اس بن خراب کیا کیا
کچھ گل سے ہیں شگفتہ کچھ سرو سے ہیں قد کش
اس کے خیال میں ہم دیکھے ہیں خواب کیا کیا
انواع جرم میرے پھر بے شمار و بے حد
روز حساب لیں گے مجھ سے حساب کیا کیا
اک آگ لگ رہی ہے سینوں میں کچھ نہ پوچھو
جل جل کے ہم ہوئے ہیں اس بن کباب کیا کیا
افراط شوق میں تو رویت رہی نہ مطلق
کہتے ہیں میرے منھ پر اب شیخ و شاب کیا کیا
پھر پھر گیا ہے آکر منھ تک جگر ہمارے
گذرے ہیں جان و دل پر یاں اضطراب کیا کیا
آشفتہ اس کے گیسو جب سے ہوئے ہیں منھ پر
تب سے ہمارے دل کو ہے پیچ و تاب کیا کیا
کچھ سوجھتا نہیں ہے مستی میں میر جی کو
کرتے ہیں پوچ گوئی پی کر شراب کیا کیا
میر تقی میر

دریاے موج خیز جہاں کا سراب ہے

دیوان اول غزل 614
ہے خاک جیسے ریگ رواں سب نہ آب ہے
دریاے موج خیز جہاں کا سراب ہے
روز شمار میں بھی محاسب ہے گر کوئی
تو بے حساب کچھ نہ کر آخر حساب ہے
اس شہر دل کو تو بھی جو دیکھے تو اب کہے
کیا جانیے کہ بستی یہ کب کی خراب ہے
منھ پر لیے نقاب تو اے ماہ کیا چھپے
آشوب شہر حسن ترا آفتاب ہے
کس رشک گل کی باغ میں زلف سیہ کھلی
موج ہوا میں آج نپٹ پیچ و تاب ہے
کیا دل مجھے بہشت میں لے جائے گا بھلا
جس کے سبب یہ جان پہ میری عذاب ہے
سن کان کھول کر کہ تنک جلد آنکھ کھول
غافل یہ زندگانی فسانہ ہے خواب ہے
رہ آشناے لطف حقیقت کے بحر کا
ہے رشک زلف و چشم جو موج حباب ہے
آتش ہے سوز سینہ ہمارا مگر کہ میر
نامے سے عاشقوں کے کبوتر کباب ہے
میر تقی میر

پر تمامی عتاب ہیں دونوں

دیوان اول غزل 366
لب ترے لعل ناب ہیں دونوں
پر تمامی عتاب ہیں دونوں
رونا آنکھوں کا رویئے کب تک
پھوٹنے ہی کے باب ہیں دونوں
ہے تکلف نقاب وے رخسار
کیا چھپیں آفتاب ہیں دونوں
تن کے معمورے میں یہی دل و چشم
گھر تھے دو سو خراب ہیں دونوں
کچھ نہ پوچھو کہ آتش غم سے
جگر و دل کباب ہیں دونوں
سو جگہ اس کی آنکھیں پڑتی ہیں
جیسے مست شراب ہیں دونوں
پائوں میں وہ نشہ طلب کا نہیں
اب تو سرمست خواب ہیں دونوں
ایک سب آگ ایک سب پانی
دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں
بحث کاہے کو لعل و مرجاں سے
اس کے لب ہی جواب ہیں دونوں
آگے دریا تھے دیدۂ تر میر
اب جو دیکھو سراب ہیں دونوں
میر تقی میر

نہ گلے سے میرے اترا کبھو قطرہ آب تجھ بن

دیوان اول غزل 357
یہ غلط کہ میں پیا ہوں قدح شراب تجھ بن
نہ گلے سے میرے اترا کبھو قطرہ آب تجھ بن
یہی بستی عاشقوں کی کبھو سیر کرنے چل تو
کہ محلے کے محلے پڑے ہیں خراب تجھ بن
میں لہو پیوں ہوں غم میں عوض شراب ساقی
شب میغ ہو گئی ہے شب ماہتاب تجھ بن
گئی عمر میری ساری جیسے شمع بائو کے بیچ
یہی رونا جلنا گلنا یہی اضطراب تجھ بن
سبھی آتشیں ہیں نالے سبھی زمہریری آہیں
مری جان پر رہا ہے غرض اک عذاب تجھ بن
ترے غم کا شکر نعمت کروں کیا اے مغبچے میں
نہ ہوا کہ میں نہ کھایا جگر کباب تجھ بن
نہیں جیتے جی تو ممکن ہمیں تجھ بغیر سونا
مگر آنکہ مر کے کیجے تہ خاک خواب تجھ بن
برے حال ہوکے مرتا جو درنگ میر کرتا
یہ بھلا ہوا ستمگر کہ موا شتاب تجھ بن
میر تقی میر

جاتا ہے جی چلا ہی مرا اضطراب میں

دیوان اول غزل 288
آیا کمال نقص مرے دل کی تاب میں
جاتا ہے جی چلا ہی مرا اضطراب میں
دوزخ کیا ہے سینہ مرا سوز عشق سے
اس دل جلے ہوئے کے سبب ہوں عذاب میں
مت کر نگاہ خشم یہی موت ہے مری
ساقی نہ زہر دے تو مجھے تو شراب میں
بیدار شور حشر نے سب کو کیا ولے
ہیں خون خفتہ اس کے شہیدوں کے خواب میں
دل لے کے رو بھی ٹک نہیں دیتے کہیں گے کیا
خوبان بد معاملہ یوم الحساب میں
جاکر در طبیب پہ بھی میں گرا ولے
جز آہ ان نے کچھ نہ کیا میرے باب میں
عیش و خوشی ہے شیب میں ہو گوپہ وہ کہاں
لذت جو ہے جوانی کے رنج و عتاب میں
دیں عمر خضر موسم پیری میں تو نہ لے
مرنا ہی اس سے خوب ہے عہد شباب میں
آنکلے تھے جو حضرت میر اس طرف کہیں
میں نے کیا سوال یہ ان کی جناب میں
حضرت سنو تو میں بھی تعلق کروں کہیں
فرمانے لاگے روکے یہ اس کے جواب میں
تو جان لیک تجھ سے بھی آئے جو کل تھے یاں
ہیں آج صرف خاک جہان خراب میں
میر تقی میر

جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا

دیوان اول غزل 14
بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا
جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا
پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا
اپنے کیے کا ان نے ثمرہ شتاب دیکھا
دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے
تیرے بلاکشوں کا ہم نے حساب دیکھا
آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت
اس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا
یوں خاک میں ملا یاں اس بن کہ کچھ نہ پوچھو
اس ظلم دیدہ دل کا ہم اضطراب دیکھا
واعظ زبون مت کہہ میخانے کو کہ اس جا
پیراہن نکویاں رہن شراب دیکھا
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہو
ہے خیر میر صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
میر تقی میر

اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 34
آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
بامِ مینا سے ماہتاب اُترے
دستِ ساقی میں، آفتاب آئے
ہر رگِ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے
عمر کے ہر ورق پہ دل کو نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے
جل اُٹھے بزم غیر کے دروبام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے
اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے
فیض تھی راہ سربسر منزل
ہم جہاں پہنچے، کامیاب آئے
فیض احمد فیض

عذاب

اپنے ثواب میں نیکی اپنے عذاب سے غافل رہ جائے تو

چھن جاتی ہیں جینے کی سب خوشیاں

ٹوٹ کے رہ جاتا ہے بھروسا اپنا اس نیکی پر

گھل جاتی ہے اپنے آپ سے نفرت میں اپنی ہر اچھائی

اپنے قلب کو اب کوئی چاہے جس قالب میں بھی ڈھالے

اب سب پچھتاوے ٹیسیں ہیں

اب دنیا کی آخری حد تک پھیلے ہوئے ان بادلوں کے نیچے یوں

پلکیں جھکا کر اپنے غموں کی پرستش بے مصروف ہے

باہر اب صرف آنکھیں دیکھتی ہیں۔۔۔ اور

باقی سارے بدن تیزابوں کے تالابوں میں تحلیل ہیں

آنکھیں دیکھتی ہیں۔۔۔ اور اس سے زیادہ کیا دیکھیں گی

سارے خداؤں نے منہ پھیر لیے ہیں

مجید امجد

ذرا سمیٹ بدن کے گلاب شاخِ گل

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 214
یہ تیرا خار بھی ہے محوِ خواب شاخِ گل
ذرا سمیٹ بدن کے گلاب شاخِ گل
مرے نصیب میں کانٹوں کی فصل آئی تھی
نہ مانگ مجھ سے گلوں کا حساب شاخِ گل
مری بہار کے بارے نہ پوچھا کر مجھ سے
ہے جھوٹ بولنا مجھ پہ عذاب شاخِ گل
کنارِ آب رواں ہمسفر زمانوں سے
خرامِ زندگی، موجِ کتاب، شاخِ گل
ورق ورق پہ پڑی ہیں شعاعیں خوشبو کی
کتاب زیست کا ہے انتساب شاخِ گل
خزاں کی شام ملی ہے مجھے تو گلشن میں
کہاں پہ آتا ہے تجھ پر شباب شاخِ گل
تلاش میں ہیں ہوائیں بہار کی منصور
کہاں لہکتی ہے خانہ خراب شاخ گل
منصور آفاق

ساقی ہزار شکر خدا کی جناب میں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 28
قاضی بھی اب تو آئے ہیں بزمِ شراب میں
ساقی ہزار شکر خدا کی جناب میں
جا پائی خط نے اس کے رخِ بے نقاب میں
سورج گہن پڑا شرفِ آفتاب میں
دامن بھرا ہوا تھا جو اپنا شراب میں
محشر کے دن بٹہائے گئے آفتاب میں
رکھا یہ تم نے پائے حنائی رکاب میں
یا پھول بھر دئیے طبقِ آفتاب میں
تیرِ دعا نشانے پہ کیونکر نہ بیٹھتا
کچھ زور تھا کماں سے سوا اضطراب میں
وہ ناتواں ہوں قلعۂ آہن ہو وہ مجھے
کر دے جو کوئی بند مکانِ حباب میں
حاجت نہیں تو دولتِ دنیا سے کام کیا
پھنستا ہے تشنہ دام فریبِ سراب میں
مثلِ نفس نہ آمد و شد سے ملا فراغ
جب تک رہی حیات، رہے اضطراب میں
سرکش کا ہے جہاں میں دورانِ سر مآل
کیونکر نہ گرد باد رہے پیچ و تاب میں
چاہے جو حفظِ جان تو نہ کر اقربا سے قطع
کب سوکھتے ہیں برگِ شجر آفتاب میں
دل کو جلا تصور حسنِ ملیح سے
ہوتی ہے بے نمک کوئی لذت، کباب میں
ڈالی ہیں نفسِ شوم نے کیا کیا خرابیاں
موذی کو پال کر میں پڑا کس عذاب میں
اللہ رے تیز دستیِ مژگانِ رخنہ گر
بے کار بند ہو گئے ان کی نقاب میں
چلتا نہیں ہے ظلم تو عادل کے سامنے
شیطاں ہے پردہ در کہ ہیں مہدی حجاب میں
کچھ ربط حسن و عشق سے جائے عجب نہیں
بلبل بنے جو بلبلہ اٹھّے گلاب میں
چومے جو اس کا مصحفِ رخ زلف میں پھنسے
مارِ عذاب بھی ہے طریقِ ثواب میں
ساقی کچھ آج کل سے نہیں بادہ کش ہیں بند
اس خاک کا خمیر ہوا ہے شراب میں
جب نامہ بر کیا ہے کبوتر کو اے امیر
اس نے کباب بھیجے ہیں خط کے جواب میں
امیر مینائی

ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 10
وہ کون تھا جو خرابات میں خراب نہ تھا
ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا
شبِ فراق میں کیوں یارب انقلاب نہ تھا
یہ آسمان نہ تھا یا یہ آفتاب نہ تھا
لحاظ ہم سے نہ قاتل کا ہو سکا دمِ قتل
سنبھل سنبھل کے تڑپتے وہ اضطراب نہ تھا
اُسے جو شوقِ سزا ہے مجھے ضرور ہے جرم
کہ کوئی یہ نہ کہے قابلِ عذاب نہ تھا
شکایت اُن سے کوئی گالیوں کی کیا کرتا
کسی کا نام کسی کی طرف خطاب نہ تھا
نہ پوچھ عیش جوانی کا ہم سے پیری میں
ملی تھی خواب میں وہ سلطنت شباب نہ تھا
دماغ بحث تھا کس کو وگر نہ اے ناصح
دہن نہ تھا کہ دہن میں مرے جواب نہ تھا
وہ کہتے ہیں شبِ وعدہ میں کس کے پاس آنا
تجھے تو ہوش ہی اے خانماں خراب نہ تھا
ہزار بار گلا رکھ دیا تہِ شمشیر
میں کیا کروں تری قسمت ہی میں ثواب نہ تھا
فلک نے افسرِ خورشید سر پہ کیوں رکھا
سبوئے بادہ نہ تھا ساغرِ شراب نہ تھا
غرض یہ ہے کہ ہو عیش تمام باعث مرگ
وگرنہ میں کبھی قابلِ خطاب نہ تھا
سوال وصل کیا یا سوال قتل کیا
وہاں نہیں کے سوا دوسرا جواب نہ تھا
ذرا سے صدمے کی تاب اب نہیں وہی ہم میں
کہ ٹکڑے ٹکڑے تھا دل اور اضطراب نہ تھا
کلیم شکر کرو حشر تک نہ ہوش آتا
ہوئی یہ خیر کہ وہ شوق بے نقاب نہ تھا
یہ بار بار جو کرتا تھا ذکر مے واعظ
پئے ہوئے تو کہیں خانماں خراب نہ تھا
امیر اب ہیں یہ باتیں جب اُٹھ گیا وہ شوخ
حضور یار کے منہ میں ترے جواب نہ تھا
امیر مینائی

اس طرح بھی جواب ملتا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 244
آب مانگو، سراب ملتا ہے
اس طرح بھی جواب ملتا ہے
سینکڑوں گردشوں کے بعد کہیں
ایک جام شراب ملتا ہے
یا مقدر کہیں نہیں ملتا
یا کہیں محو خواب ملتا ہے
جتنا جتنا خلوص ہو جس کا
اتنا اتنا عذاب ملتا ہے
غم کی بھی کوئی حد نہیں باقیؔ
جب ملے بے حساب ملتا ہے
باقی صدیقی

اج دا دن تے ماجداُ دن سی جویں، عذاب دا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 48
دُکھ نے انت وکھا لیا، خورے کیہڑے خواب دا
اج دا دن تے ماجداُ دن سی جویں، عذاب دا
موت جھلارا خوف دا، مُڑیا اِنج پچھتاوندا
جیئوں جیون دی تاہنگ سی، کھِڑیا پھل گلاب دا
لاپرواہی سی آپنی، کجھ اوہدیاں بے مہریاں
اِک اِک ورقہ پھولیا، دُکھ دی بھری کتاب دا
کل تیکن تے زہر سی، دُکھاں دی کڑوان وی
اج میں سمجھاں موت وی، ہے اک جام شراب دا
جینا کَیڈ گناہ سی اوہ وی جھولی موت دی
رّب مینتھوں کی پچھسی، کی اے روز حساب دا؟
کنّے لوک نگاہ وچ، رہئیے سن رنگ بکھیر دے
کوئی کوئی ماں دا لعل سی ماجدُ تیرے جواب دا
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)