ٹیگ کے محفوظات: عدن

جاوداں ہوتا ہے روحوں کا ملن، سنتے ہیں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 14
کیف کھو دیتے ہیں صہبائے بدن، سنتے ہیں
جاوداں ہوتا ہے روحوں کا ملن، سنتے ہیں
موج بنتی ہے، بگڑتی ہے، فنا ہوتی ہے!
صبر دریا میں ہے اعصاب شکن سنتے ہیں
سنتے آئے ہیں تصور ہی شراکت کا نہیں
ایک معشوق ہے اور ایک عدن سنتے ہیں
کیوں تری یاد کے بستر سے مٹائیں شکنیں
قرب دلداروں کا ہے نیک شگن سنتے ہیں
کھڑکھڑاتے ہیں مرے صحن میں سوکھے پتّے
ان کے گیتوں کی صدا روح و بدن سنتے ہیں
ساغرِ خواب نہ ٹوٹے کسی نادانی سے
زندگی بھر نہیں جاتی یہ چبھن سنتے ہیں!
نینا عادل

ہم عجب پھول ترے صحنِ چمن سے نکلے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 559
اوس سے اخذ ہوئے، پہلی کرن سے نکلے
ہم عجب پھول ترے صحنِ چمن سے نکلے
ہم نے اس کے گل و گلزار سے کیا لینا ہے
اپنے اجداد تھے جس باغِ عدن سے نکلے
رات بھر قوسِ قزح پھیلی رہی کمرے میں
رنگ کیا کیا تری خوشبوئے بدن سے نکلے
دیکھ اے دیدئہ عبرت مرے چہرے کی طرف
ایسے وہ ہوتا ہے جو اپنے وطن سے نکلے
سائباں دھوپ کے ہی صرف نہیں وحشت میں
درد کے پیڑ بھی کچھ سایہ فگن سے نکلے
بستیاں ہیں مری، ماضی کے کھنڈر پر آباد
ذہن کیسے بھلا آسیبِ کہن سے نکلے
فوج اب ختم کرے اپنا سیاسی کردار
یہ مرا ملک خداداد گھٹن سے نکلے
یوں جہنم کو بیاں کرتے ہیں کرنے والے
جیسے پھنکار لپکتے ہوئے پھن سے نکلے
تیرے اشعار تغزل سے ہیں خالی منصور
ہم سخن فہم تری بزم سخن سے نکلے
منصور آفاق

کچھ سوچتے نہیں ہیں کفن بیچتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 510
یہ بے ضمیر قوم و وطن بیچتے ہوئے
کچھ سوچتے نہیں ہیں کفن بیچتے ہوئے
کچھ دیکھتے کہاں ہیں یہ سوداگرانِ خاک
دریا، پرند، برگ و سمن بیچتے ہوئے
گنتے ہیں غیر ملکی کرنسی کے صرف نوٹ
حکام بیٹیوں کے بدن بیچتے ہوئے
خوش ہیں امیر شہر محلات میں بہت
ابلیس کو دیارِ عدن بیچتے ہوئے
اس عہدِ زر پرست کی آواز بن گئے
اپنے قلم کو اہلِ سخن بیچتے ہوئے
ہیں اہتمامِ رقصِ طوائف میں منہمک
منصور باغبان چمن بیچتے ہوئے
منصور آفاق