ٹیگ کے محفوظات: عدم

اک تازہ زخم کی خواہش ہے اک صدمہ کم کرنے کے لیے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 101
پھر خون میں وحشت رقصاں ہے تجدیدِ ستم کرنے کے لیے
اک تازہ زخم کی خواہش ہے اک صدمہ کم کرنے کے لیے
ہم دن بھر دنیا داری میں ہنس ہنس کے باتیں کرتے ہیں
پھر ساری رات پگھلتے ہیں اک اشک رقم کرنے کے لیے
وہ وصل کے جس نے ہم دونوں کو ایسے بے بنیاد کیا
اب فرصت ہے آ مل بیٹھیں اُس وصل کا غم کرنے کے لیے
اک کاری زخم کی چاہت نے کیا کیا نہ ہمیں گلزار کیا
ہم کس کس سے منسوب ہوئے اک ہجر بہم کرنے کے لیے
انسان کے جینے مرنے کے مجبوری کے مختاری کے
یہ سارے کھیل ضروری ہیں تعمیرِ عدم کرنے کے لیے
عرفان ستار

ترے رُخ پہ آثارِ غم دیکھتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 120
ہے طرفہ قیامت جو ہم دیکھتے ہیں
ترے رُخ پہ آثارِ غم دیکھتے ہیں
غضب ہے نشیب و فرازِ زمانہ
نہ تم دیکھتے ہو، نہ ہم دیکھتے ہیں
تمنا ہے اب ہم کو بے حرمتی کی
سبھی کو یہاں محترم دیکھتے ہیں
چلو بے کمند و کماں آج چل کر
غزالوں کا اندازِ رم دیکھتے ہیں
یہی تو محبت ہے یارو کہ اب وہ
ہماری طرف کم سے کم دیکھتے ہیں
خدایا ترے حسنِ تقویم میں ہم
تضادِ وجود و عدم دیکھتے ہیں
نہ روٹھو جو لکھتے ہیں اوروں کو خط ہم
ذرا اپنا زورِ قلم دیکھتے ہیں
کھڑے ہو کہ ہم وقت کے حاششیے پر
فساداتِ دیر وحرم دیکھتے ہیں
جون ایلیا

خیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 174
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیں
دل آشفتگاں خالِ کنجِ دہن کے
سویدا میں سیرِ عدم دیکھتے ہیں
ترے سروِ قامت سے اک قدِ آدم
قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
تماشا کر اے محوِ آئینہ داری
تجھے کس تمنّا سے ہم دیکھتے ہیں
سراغِ تُفِ نالہ لے داغِ دل سے
کہ شب رَو کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہستی کے تئیں ہوتے عدم دیکھتے ہیں ہائے

دیوان دوم غزل 1010
اب اپنے قد راست کو خم دیکھتے ہیں ہائے
ہستی کے تئیں ہوتے عدم دیکھتے ہیں ہائے
سنتے تھے کہ جاتی ہے ترے دیکھنے سے جاں
اب جان چلی جاتی ہے ہم دیکھتے ہیں ہائے
کیا روتے ہیں یاران گذشتہ کے لیے ہم
جب راہ میں کچھ نقش قدم دیکھتے ہیں ہائے
کچھ عشق کی آتش کی لپٹ پہنچی ہمیں زور
سب تن بدن اپنے کو بھسم دیکھتے ہیں ہائے
دل چاک ہے جاں داغ جگر خوں ہے ہمارا
ان آنکھوں سے انواع ستم دیکھتے ہیں ہائے
مایوس نہ کس طور جہاں سے رہیں ہم میر
اب تاب بہت جان میں کم دیکھتے ہیں ہائے
میر تقی میر

تڑپا ہزار نوبت دل ایک ایک دم میں

دیوان دوم غزل 878
کیا کوفتیں اٹھائیں ہجراں کے درد وغم میں
تڑپا ہزار نوبت دل ایک ایک دم میں
گو قیس منھ کو نوچے فرہاد سر کو چیرے
یہ کیا عجب ہے ایسے ہوتے ہیں لوگ ہم میں
اہل نظر کسو کو ہوتی ہے محرمیت
آنکھوں کے اندھے ہم تو مدت رہے حرم میں
کلفت میں گذری ساری مدت تو زندگی کی
آسودگی کا منھ اب دیکھیں گے ہم عدم میں
کرتے ہیں میر مل کر واعظ سے حبس دم کا
کیا یہ بھی آگئے ہیں اس پوچ گو کے دم میں
میر تقی میر

پردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سے

دیوان اول غزل 475
کب سے نظر لگی تھی دروازئہ حرم سے
پردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سے
صورت گر اجل کا کیا ہاتھ تھا کہے تو
کھینچی وہ تیغ ابرو فولاد کے قلم سے
سوزش گئی نہ دل کی رونے سے روز و شب کے
جلتا ہوں اور دریا بہتے ہیں چشم نم سے
طاعت کا وقت گذرا مستی میں آب رز کی
اب چشم داشت اس کے یاں ہے فقط کرم سے
کڑھیے نہ رویئے تو اوقات کیونکے گذرے
رہتا ہے مشغلہ سا بارے غم و الم سے
مشہور ہے سماجت میری کہ تیغ برسی
پر میں نہ سر اٹھایا ہرگز ترے قدم سے
بات احتیاط سے کر ضائع نہ کر نفس کو
بالیدگی دل ہے مانند شیشہ دم سے
کیا کیا تعب اٹھائے کیا کیا عذاب دیکھے
تب دل ہوا ہے اتنا خوگر ترے ستم سے
ہستی میں ہم نے آکر آسودگی نہ دیکھی
کھلتیں نہ کاش آنکھیں خواب خوش عدم سے
پامال کرکے ہم کو پچھتائوگے بہت تم
کمیاب ہیں جہاں میں سر دینے والے ہم سے
دل دو ہو میر صاحب اس بدمعاش کو تم
خاطر تو جمع کرلو ٹک قول سے قسم سے
میر تقی میر

پھر ان دنوں میں دیدئہ خونبار نم ہوا

دیوان اول غزل 62
سمجھے تھے میر ہم کہ یہ ناسور کم ہوا
پھر ان دنوں میں دیدئہ خونبار نم ہوا
آئے برنگ ابر عرق ناک تم ادھر
حیران ہوں کہ آج کدھر کو کرم ہوا
تجھ بن شراب پی کے موئے سب ترے خراب
ساقی بغیر تیرے انھیں جام سم ہوا
کافر ہمارے دل کی نہ پوچھ اپنے عشق میں
بیت الحرام تھا سو وہ بیت الصنم ہوا
خانہ خراب کس کا کیا تیری چشم نے
تھا کون یوں جسے تو نصیب ایک دم ہوا
تلوار کس کے خون میں سر ڈوب ہے تری
یہ کس اجل رسیدہ کے گھر پر ستم ہوا
آئی نظر جو گور سلیماں کی ایک روز
کوچے پر اس مزار کے تھا یہ رقم ہوا
کاے سرکشاں جہان میں کھینچا تھا میں بھی سر
پایان کار مور کی خاک قدم ہوا
افسوس کی بھی چشم تھی ان سے خلاف عقل
بار علاقہ سے تو عبث پشت خم ہوا
اہل جہاں ہیں سارے ترے جیتے جی تلک
پوچھیں گے بھی نہ بات جہاں تو عدم ہوا
کیا کیا عزیز دوست ملے میر خاک میں
نادان یاں کسو کا کسو کو بھی غم ہوا
میر تقی میر

جن پہ برسائے گئے سنگِ ستم، کتنے ہی تھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 68
اُس جگہ تنہا نہ تھے تم اور ہم، کتنے ہی تھے
جن پہ برسائے گئے سنگِ ستم، کتنے ہی تھے
اُنگلیوں سے جو نشانِ فتح لہراتے ہوئے
بڑھ رہے تھے سوئے مقتل دم بدم، کتنے ہی تھے
کر سکو گے صفحۂ منظر پہ دھبوں کا شمار
وُہ جو کٹ کے گر گئے دست و قلم کتنے ہی تھے
گا ہے شب روشن ہوئی اور گا ہے دن تیرہ ہوا
آنکھ کو حیرت کے یہ ساماں بہم کتنے ہی تھے
خود سے مُنکر کیا ہوا بس سلسلہ ہی چل پڑا
میرے دورِ ہست میں دورِ عدم کتنے ہی تھے
نارسائی کام آئی، ورنہ سلجھاتے کہاں
گیسوئے سرکشن کہ جس میں پیچ و خم کتنے ہی تھے
آفتاب اقبال شمیم

یہی ہیں ہر دھرم کے ساتھ کاغذ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 160
پڑے ہیں جو قلم کے ساتھ کاغذ
یہی ہیں ہر دھرم کے ساتھ کاغذ
جلا آیا جلوسِ دانشِ دِین
شعورِ محترم کے ساتھ کاغذ
جڑے بس رہ گئے ہیں داستاں میں
ترے عہدِ ستم کے ساتھ کاغذ
یہی بس التماسِ دل کہ رکھنا
یہ دیوارِ حرم کے ساتھ کاغذ
پرندے بنتے جاتے ہیں مسلسل
ترے فضل و کرم کے ساتھ کاغذ
میانوالی میں آئے ہیں فلک سے
یہ امکانِ عدم کے ساتھ کاغذ
خود اپنے قتل نامے کا کسی کو
دیا پورے بھرم کے ساتھ کاغذ
کسی مبہم سی انجانی زباں میں
پڑے ہیں ہر قدم کے ساتھ کاغذ
الٹنے ہیں پلٹنے ہیں لحد تک
خیالِ بیش و کم کے ساتھ کاغذ
یہ وہ تہذیب ہے جو بیچتی ہے
ابھی دام و درم کے ساتھ کاغذ
کسی کو دستخط کرکے دیے ہیں
سرِ تسلیم خم کے ساتھ کاغذ
درازوں میں چھپانے پڑ رہے ہیں
کلامِ چشمِ نم کے ساتھ کاغذ
انہیں عباس نے لکھا ہے خوں سے
یہ چپکا دے علم کے ساتھ کاغذ
چمکتے پھر رہے ہیں آسماں کے
چراغِ ذی حشم کے ساتھ کاغذ
بدل جاتے ہیں اکثر دیکھتا ہوں
مری تاریخِ غم کے ساتھ کاغذ
ابد کے قہوہ خانے میں ملے ہیں
کسی تازہ صنم کے ساتھ کاغذ
ہوئے ہیں کس قدر منصور کالے
یہ شب ہائے الم کے ساتھ کاغذ
منصور آفاق

ورنہ اک قافلہ ملک عدم ہیں ہم لوگ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 102
کوئی سمجھے تو زمانے کا بھرم ہیں ہم لوگ
ورنہ اک قافلہ ملک عدم ہیں ہم لوگ
دیکھئے کون سی منزل ہمیں اپناتی ہے
راندۂ میکدہ و دیر و حرم ہیں ہم لوگ
مسکراہٹ کو سمجھ لیتے ہیں دل کا پر تو
آشنا دہر کے انداز سے کم ہیں ہم لوگ
یاد آئیں گے زمانے کو ہم آتے آتے
اک تری بھولی ہوئی طرز ستم ہیں ہم لوگ
کوئی نسبت نہیں ارباب نظر سے باقیؔ
سائے کی طرح پس ساغر جم ہیں ہم لوگ
باقی صدیقی