ٹیگ کے محفوظات: عبارت

امتدادِ وقت سے دُھندلی، عبارت ہو گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
کاوشِ انساں کا کیا، کی اور اکارت ہو گئی
امتدادِ وقت سے دُھندلی، عبارت ہو گئی
چلتی گاڑی سے جو ٹکرا کر گری وہ فاختہ
تھی تلاشِ رزق میں نکلی کہ غارت ہو گئی
زیر بار اُس کے ہوئے ایسے، نہ رُخ موڑا گیا
ہوتے ہوتے درد سے ایسی سفارت ہو گئی
رہبری کا اہل ٹھہرا ہے وہی اپنے یہاں
رہزنی کے باب میں جس کو مہارت ہو گئی
لمس اُس پارس کا سپنوں تک کو کندن کر گیا
اُس کے دم سے اپنی غربت بھی امارت ہو گئی
ماجد صدیقی

شہرِ مشرق میں بپا روزِ قیامت ہو چکا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 16
میں جسے ملنے یہاں آیا وہ رخصت ہو چکا
شہرِ مشرق میں بپا روزِ قیامت ہو چکا
اب درِ آئندگاں پہ جا کے دستک دیجئے
یارِ خواب افروز اب کا بے مروّت ہو چکا
اُن سے کہنا خامۂ امکاں سے پھر لکھیں اُسے
وُہ سنہرا لفظ جو حرفِ عبارت ہو چکا
کل وہ پھر جائیں گے جاں دینے فرازِ دار پر
اور ایسا دیکھنا برسوں کی عادت ہو چکا
اب بیاض شوق کا اگلا ورق اُلٹائیے
آج کا منظر تو خونِ دل سے لت پت ہو چکا
میں کھنڈر سا رہ گیا اے رفتگاں ! اے رفتگاں !
اپنے ہی لشکر کے ہاتھوں شہر غارت ہو چکا
آفتاب اقبال شمیم

ترے لہو کی تڑپتی ہوئی حرارت ہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 81
وہ شے جو ایک نئے دور کی بشارت ہے
ترے لہو کی تڑپتی ہوئی حرارت ہے
نظامِ کہنہ کے سائے میں عافیت سے نہ بیٹھ
نظامِ کہنہ تو گرتی ہوئی عمارت ہے
وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں
یہ تیرے جسم، تری روح سے عبارت ہے
یہ کہہ رہی ہے صدا ٹوٹتے سلاسل کی
کہ زندگی تو فقط اک حسیں جسارت ہے
یہ اک جھلک ہے بدلتے ہوئے زمانوں کی
جبیں جبیں پہ شکن بھی کوئی بجھارت ہے
چمن میں اہلِ چمن کے یہ طور، ارے توبہ
کلی کلی کی ہنسی خندۂ حقارت ہے
دلوں کی جھونپڑیوں میں بھی روشنی اترے
جو یوں نہیں تو یہ سب سیلِ نور اکارت ہے
مجید امجد