ٹیگ کے محفوظات: عافیت

باقی سب خیریت ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 71
جینا ایک اذیت ہے
باقی سب خیریت ہے
ہم نے جی کر دیکھ لیا
مرنے میں عافیت ہے
سب نقلوں کی نقلیں ہیں
اور یہی اصلیت ہے
وقت کے لاتعدادوں میں
کس کی کیا حیثیت ہے
معنی کے بھی معنی ہیں
یعنی سب رمزیت ہے
اس میں رنگِ مے بھرے لے
منظر بے کیفیت ہے
گھر میں بھی اور باہر بھی
یار! بڑی بوریت ہے
آفتاب اقبال شمیم

عافیت

اسی میں عافیت ہے ہم

صبح سے شام تک پتلے ورق

ان پتلیوں میں گاڑتے جائیں

اُچٹتی کوری تحریریں

ادق حرفوں کو دہرائیں

سویرے سے ہی اپنے خالی چہرے پر

کسی بھی تمتماتے جوش کو کس کے چڑھائیں

اور لکڑی سے بنے تختے کے نیچے ٹانگیں جوڑیں

سر جھکائیں

اجنبی بے صوت سی دنیا میں کھو جائیں

اسی میں عافیت ہے جو وہ کہتے ہیں

ہم اپنے آپ کی جانب

کبھی بھی لوٹ نہ پائیں …

گلناز کوثر