ٹیگ کے محفوظات: ظہور

قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 194
منظورتھی یہ شکل تجلّی کو نور کی
قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی
اِک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں
پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
واعظ! نہ تم پیو نہ کسی کو پلاسکو
کیا بات ہے تمہاری شرابِ طہور کی!
لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل، کہ کیوں اٹھا؟
گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی
آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
گو واں نہیں، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
کعبے سےِان بتوں کو بھی نسبت ہے د ور کی
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی
گرمی سہی کلام میں، لیکن نہ اس قدر
کی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کی
غالب گر اِس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں
حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
مرزا اسد اللہ خان غالب

اس روے دل فروز کا سب میں ظہور تھا

دیوان اول غزل 91
پھر شب نہ لطف تھا نہ وہ مجلس میں نور تھا
اس روے دل فروز کا سب میں ظہور تھا
کیا کیا عزیز خلع بدن ہائے کر گئے
تشریف تم کو یاں تئیں لانا ضرور تھا
کیونکر تو میری آنکھ سے ہو دل تلک گیا
یہ بحر موج خیز تو عسرالعبور تھا
شاید نشے میں اس سے یہ سفاکیاں ہوئیں
زخمی جو اس کے ہاتھ کا نکلا سو چور تھا
جیتے جی پاس ہوکے نہ نکلا کسو کے میر
وہ دور گرد بادیۂ عشق دور تھا
میر تقی میر

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

دیوان اول غزل 1
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا
پیدا ہر ایک نالے سے شورنشور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم
یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا
مجلس میں رات ایک ترے پر توے بغیر
کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا
اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا
دیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا
منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا
اس رند کی بھی رات گذر گئی جو عور تھا
ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر
اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا
کل پائوں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میر
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا
میر تقی میر

اُنہی کے دم سے منوّر ہوا شعور مرا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 4
ہزیمتیں جو فنا کر گئیں غرور مرا
اُنہی کے دم سے منوّر ہوا شعور مرا
میں حیرتی کسی منصور کی تلاش میں ہوں
کرے جو آ کے یہ آئینہ چُور چُور مرا
رواجِ ذہن سے میں اختلاف رکھتا تھا
سرِ صلیب مجھے لے گیا فتور مرا
وہ اجنبی ہے مگر اجنبی نہیں لگتا
یہی کہ اُس سے کوئی ربط ہے ضرور مرا
میں ڈوب کر بھی کسی دَور میں نہیں ڈوبا
رہا ہے مطلعِٔ اِمکان میں ظہور مرا
اِسے اب عہدِ الم کی عنایتیں کہئے
کہ ظلمتوں میں اُجاگر ہوا ہے نور مرا
میں اِس لحاظ سے بے نام، نام آور ہوں
کہ میرے بعد ہوا ذکر دُور دُور مرا
آفتاب اقبال شمیم

دل سے ہمیں فرزانہ جانے دیوانہ مشہور کرے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 266
ہم نے اسے محبوب کیا یہ سوچ کے جی میں غرور کرے
دل سے ہمیں فرزانہ جانے دیوانہ مشہور کرے
اس کا نام ہی انتم سر ہے مری صدا کے سرگم کا
اس کے آگے سناٹا ہے کوئی اگر مجبور کرے
حرف میں اپنے جانِ سخن نے دونوں مطلب رکھے ہیں
جب چاہے افسردہ کردے‘ جب چاہے مسرور کرے
کیا کیا طور اسے آتے ہیں دل کو شکیبا رکھنے کے
لغزش پہ ناراض نہ ہو اور خواہش نا منظور کرے
شب کو جو محوِ خوابِ گراں ہو گل ہوں ستارہ چاند چراغ
صبح کو جب وہ جامہ چساں ہو جگ میں نور ظہور کرے
ہم کو تو دلبر خوب ملا خیر اپنی اپنی قسمت ہے
پھر بھی جو کوئی رنج اُٹھانا چاہے عشق ضرور کرے
عرفان صدیقی

مرے لیے یہ ذرا سا چراغِ طور بہت

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 142
گمانِ صبح ہے کافی، خیالِ نور بہت
مرے لیے یہ ذرا سا چراغِ طور بہت
میں بارگاہِ محبت میں کس طرح جاؤں
مرے گناہ بہت ہیں مرے قصور بہت
یہی بہت کہ خزاں میں بہار ہے مجھ پر
ہے پھول پھول، یہی شاخ کو شعور بہت
تمام عہد نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھے ہیں
ہوا ہے شعر میں شاید مرا ظہور بہت
یہ میرے بیگ میں رکھ دے نا کانچ کے ٹکڑے
میں بھیج دوں گا نئی چوڑیاں ، ضرور، بہت
نصیب، نسبتِ دشتِ عرب جسے منصور
بروز حشر وہی سایۂ کھجور بہت
منصور آفاق

وہ دل کہ خاص محرم بزم حضور تھا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 1
اب باریاب انجمن عام بھی نہیں
وہ دل کہ خاص محرم بزم حضور تھا
روز وداع بھی شب ہجراں سے کم نہ تھا
کچھ صبح ہی سے شام بلا کا ظہور تھا
حالیؔ کو ہجر میں بھی جو دیکھا شادماں
تھا حوصلہ اسی کا کہ اتنا صبور تھا
الطاف حسین حالی