ٹیگ کے محفوظات: ظلمات

خدا گواہ کہ برسات ہو گئی ہو گی

کبھی جو پُرسشِ حالات ہو گئی ہو گی
خدا گواہ کہ برسات ہو گئی ہو گی
جو راہِ شوق میں حائل تھے فاصلے تو کیا!
نظر نظر میں ملاقات ہو گئی ہو گی
ہوا سے آپ کی زلفیں بکھر گئی ہوں گی
فضا میں بارشِ ظلمات ہو گئی ہو گی
کسی نے شرم سے چہرہ چھپا لیا ہو گا
نگاہ محوِ جمالات ہو گئی ہو گی
وہ اجنبی کی طرح پیش آئے ہوں گے، شکیبؔ
جو راستے میں ملاقات ہو گئی ہو گی!
شکیب جلالی

حیات صَرفِ خرابات ہو گئی ہو گی

شکست خوردہِ حالات ہو گئی ہو گی
حیات صَرفِ خرابات ہو گئی ہو گی
کبھی جو پُرسشِ حالات ہو گئی ہو گی
خدا گواہ کہ برسات ہو گئی ہو گی
جو راہِ شوق میں حائل تھا اک جہان تو کیا
نظر نظر میں ملاقات ہو گئی ہو گی
جہانِ تازہ کی شمعیں بھی بجھ گئی ہوں گی
مرے جہاں میں اگر رات ہو گئی ہو گی
ہَوا سے آپ کی زلفیں بکھر گئی ہوں گی
فضا میں بارشِ ظلمات ہو گئی ہو گی
کسی نے شرم سے چہرہ چھپا لیا ہو گا
نگاہ محوِ جمالات ہو گئی ہو گی
وہ اجنبی کی طرح پیش آئے ہوں گے، شکیبؔ
جو راستے میں ملاقات ہو گئی ہو گی
شکیب جلالی

جو بات میرے دل میں تھی وہ بات نئیں ہوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 215
ایسا تو نئیں کہ ان سے ملاقات نئیں ہوئی
جو بات میرے دل میں تھی وہ بات نئیں ہوئی
بہتر یہ ہے کہ وہ تنِ شاداب ادھر نہ آئے
برسوں سے میرے شہر میں برسات نئیں ہوئی
پیش ہوس تھا خوانِ دو عالم سجا ہوا
اس رزق پر مگر بسر اوقات نئیں ہوئی
تیرے بغیر بھی غم جاں ہے وہی کہ نئیں
نکلا نہ ماہتاب تو کیا رات نئیں ہوئی
ہم کون پیرِ دل زدگاں ہیں کہ عشق میں
یاراں بڑے بڑوں سے کرامات نئیں ہوئی
کیا سہل اس نے بخش دیا چشمۂ حیات
جی بھر کے سیرِ وادیِ ظلمات نئیں ہوئی
میرے جنوں کو ایک خرابے کی سلطنت
یہ تو کوئی تلافیِ مافات نئیں ہوئی
اپنا نسب بھی کوئے ملامت میں بار ہے
لاکھ اپنے پاس عزتِ سادات نئیں ہوئی
یاقوتِ لب تو کارِ محبت کا ہے صلہ
اجرت ہوئی حضور یہ سوغات نئیں ہوئی
کب تک یہ سوچ سوچ کے ہلکان ہو جیسے
اب تک تری طرف سے شروعات نئیں ہوئی
عرفان صدیقی