ٹیگ کے محفوظات: طلسم

کہ اپنا اسم مجھے ہر کسی کا اسم لگے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 56
نئے شعور، نئے وقت کا طلسم لگے
کہ اپنا اسم مجھے ہر کسی کا اسم لگے
ہمیشہ اپنی فنا میں بقا تلاش کرے
بڑی عجیب مجھے جستجوئے جسم لگے
گرا جو نارِ زمانہ میں ، سرفراز ہوا
یہ آگ آتش نمرود کی ہی قسمِ لگے
یہ واہمہ ہے کہ افسوں ،کہ وصفِ خاص اُس کا
کبھی وہ سایہ لگے اور کبھی وہ جسم لگے
جو دُور ہو تو جگائے ہوس فسوں کیا کیا
قریب آئے تو ہر چیز بے طلسم لگے
آفتاب اقبال شمیم

نگار خانۂ جاں کا طلسم ایسا تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 86
بدن کے قفل چٹختے تھے اسم ایسا تھا
نگار خانۂ جاں کا طلسم ایسا تھا
دہکتے ہونٹ اسے چھونے کو مچلتے تھے
سیہ گلابوں کی جیسی ہے قسم ایسا تھا
جگہ جگہ پہ دراڑیں تھیں ندّی نالے تھے
سوادِ چشم میں پانی کا رِسم ایسا تھا
کسی کا پاؤں اٹھا رہ گیا کسی کا ہاتھ
تمام شہر تھا ساکت، طلسم ایسا تھا
ہر ایک چیز برہنہ تھی بے کے نقطے میں
الف فروزاں تھا جس میں وہ بسم ایسا تھا
یہ اور بات کہ شیشہ تھا درمیاں منصور
چراغ ہوتا ہے جیسے وہ جسم ایسا تھا
منصور آفاق