ٹیگ کے محفوظات: طرف

شوق کا وہ رنگ بدن آئے گا کب، ہم نفسو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 68
شکل بھی اک رنگ کی ہو، رنگ کی شب، ہم نفسو
شوق کا وہ رنگ بدن آئے گا کب، ہم نفسو
جب وہ دل و جانِ ادا ہو گا یہاں نشہ فزا
میری ادائیں بھی ذرا دیکھیو تب، ہم نفسو
تم سے ہو وہ عذر کناں، مجھ سے ہو وہ شکوہ کناں
اور میں خود مست رہوں، بات ہے جب، ہم نفسو
شعلہ بسی سے ہے سخن، معنیِ بالائے سخن
اور سخن سوز بھی ہے شعلہ لب، ہم نفسو
آج ہے سوچو تو ذرا، کس کی یہاں منتظری
رقصِ طرف ہم نفسو، شورِ طرف ہم نفسو
اس کی مری دید کا اک طور کہو، کچھ بھی کہو
کیا کہوں میں، کیسے کہوں، ہے وہ عجب، ہم نفسو
نیم شبی کی ہے فضا، ہم بھی ابھی ہوش میں ہیں
اس کو جو آنا ہے تو پھر آئے بھی، ہم نفسو
اپنے سے ہر پل ہیں پرے، ہم ہیں کہاں اپنے در پے
کیسی تمنا نفسی، کس کی طلب ہم نفسو
جون ایلیا

مٹھ بھیڑ اگر ہو گئی اس تیغ بکف سے

دیوان سوم غزل 1298
کٹ کر گریں گے راہ میں مشتاق علف سے
مٹھ بھیڑ اگر ہو گئی اس تیغ بکف سے
جاتا ہے کوئی دشت عرب کو جو بگولا
کہہ دوں ہوں دعا مجنوں کو میں اپنی طرف سے
دریا تھا مگر آگ کا دریاے غم عشق
سب آبلے ہیں میرے درونے میں صدف سے
دل اور جگر یہ تو جلے آتش غم میں
جی کیونکے بچائوں کہو اس آگ کی تف سے
شب اس کے سگ کو نے ہمیں پاس بٹھایا
ہم اپنے تئیں دور نہ کیوں کھینچیں شرف سے
چھاتی میں بھری آگ ہے کیا جس سے شب و روز
چنگاریاں گرتی ہیں مری پلکوں کی صف سے
اے میر گدائی کروں دروازے کی اس کے
مانگوں ہوں یہی آٹھ پہر شاہ نجف سے
میر تقی میر

جو غلامِ نجف نہیں ہوتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 524
وہ کسی کا ہدف نہیں ہوتے
جو غلامِ نجف نہیں ہوتے
خاک کچھ اور لوگ ہوتے ہیں
میرے جیسے تلف نہیں ہوتے
بس یونہی اعتبار ہوتا ہے
دوستی میں حلف نہیں ہوتے
ان فقیروں کا احترام کرو
جو کسی کی طرف نہیں ہوتے
یہ قطاریں ہیں کیسی مژگاں پر
تارے تو صف بہ صف نہیں ہوتے
اک سمندر ہے قطرۂ جاں میں
ہم صدف در صدف نہیں ہوتے
بات آخر پہنچتی ہے منصور
ایسے جملے حزف نہیں ہوتے
منصور آفاق

قیام روشنی کرتی رہی صدف میں بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 473
مقیم صبح مری چاند کے شرف میں بھی
قیام روشنی کرتی رہی صدف میں بھی
میں تیرا ساتھ صداقت کو چھوڑ کر دونگا
کہا نہیں ہے یہ میں نے کسی حلف میں بھی
لڑائی ایک صلیب و ہلال میں بھی ہے
ہے اس طرف میں بھی پیکار اس طرف میں بھی
ہے گولہ باری مسلسل غزہ کی پٹی میں
بپا ہے معرکۂ خیر و شر نجف میں بھی
تمام عمر کی خود پہ ہی فائرنگ منصور
قیام میرا رہا ہے مرے ہدف میں بھی
منصور آفاق

تم نے میری طرف نہیں ہونا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 47
فائروں کا ہدف نہیں ہونا
تم نے میری طرف نہیں ہونا
نام میرا مٹا دے ہر شے سے
میں نے دل سے حزف نہیں ہونا
ایک موتی ہی پاس ہے اس کے
مجھ سے خالی صدف نہیں ہونا
تم پیو گے تو میں بھی پی لوں گا
یونہی ساغر بکف نہیں ہونا
دیکھتی کیا ہو سوٹ کھدرکا
میں نے اندر سے رف نہیں ہونا
عشق کرنا خیال سے منصور
حسن نے باشرف نہیں ہونا
منصور آفاق