ٹیگ کے محفوظات: طرفدار

اِنساں تھے ، سرِ کوہ کے اشجار نہیں تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
ٹھہرے جو بھسم ، مِلکِ ستم گار نہیں تھے
اِنساں تھے ، سرِ کوہ کے اشجار نہیں تھے
اب کے بھی پرندے وُہی ، ژالوں میں سڑے ہیں
جو ابر کی خصلت سے خبردار نہیں تھے
الزام محافظ پہ بھی تھا کچھ تو ، نقب کا
افراد اگر شہر کے بیدار نہیں تھے
رکھتے تھے مہک پاس جو ماجد کے ہنر کی
جھونکے تھے ، کچھ اُس کے وہ طرفدار نہیں تھے
ماجد صدیقی

جرعۂ قرب سے اُس کے گئے آزار بہت

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
لطفِ باہم سے ہوئے وصل میں سرشار بہت
جرعۂ قرب سے اُس کے گئے آزار بہت
شخص و ناشخص کی پُرسش کا نشانہ ٹھہرے
ہم کہ کرتے رہے ہر درد کا پرچار بہت
خاک سے مہرِ سرِ حشر کرے ہے پیدا
آج کے دَور کا انسان ہے بیدار بہت
آخر اُس کو بھی ہمیں سی ہے تُفِ گرد ملی،
تھے بہم شاخِ شگفتہ کو بھی شہکار بہت
کھول کر رکھ گئی ہر راز، شد و بودِ حباب
ہم کو تسلیمِ حقیقت سے تھا انکار بہت
ہے کہاں رفعتِ فن، شرطِ ستائش ماجدؔ
وہی فنکار ہے جس کے ہیں طرفدار بہت
ماجد صدیقی

دیکھو کنکھیوں ہی سے گنہگار کی طرف

دیوان پنجم غزل 1653
کیا نیچی آنکھوں دیکھو ہو تلوار کی طرف
دیکھو کنکھیوں ہی سے گنہگار کی طرف
آوارگی کے محو ہیں ہم خانماں خراب
مطلق نہیں نظر ہمیں گھر بار کی طرف
مانا ہے قبلہ کعبہ خدا فرط شوق سے
جاتے ہیں سر رگڑتے ہوئے یار کی طرف
شاید متاع حسن کھلی ہے کسو کی آج
ہنگامہ حشر کا سا ہے بازار کی طرف
عاشق کی اور نازکناں جاوے ہے کبھو
جیسے طبیب جاوے ہے بیمار کی طرف
ہرگز طرف نہ ہوسکے رخسار یار کے
پھیکی ہے اس کے سامنے گلزار کی طرف
کچھ گل صبا کا لاگو نہیں اس چمن میں میر
کرتے ہیں سب ہی اپنے طرفدار کی طرف
میر تقی میر

کون سے درد و ستم کا یہ طرفدار نہ تھا

دیوان اول غزل 109
کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا
کون سے درد و ستم کا یہ طرفدار نہ تھا
آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہ
آئینہ تھا یہ ولے قابل دیدار نہ تھا
دھوپ میں جلتی ہیں غربت وطنوں کی لاشیں
تیرے کوچے میں مگر سایۂ دیوار نہ تھا
صد گلستاں تہ یک بال تھے اس کے جب تک
طائر جاں قفس تن کا گرفتار نہ تھا
حیف سمجھا ہی نہ وہ قاتل ناداں ورنہ
بے گنہ مارنے قابل یہ گنہگار نہ تھا
عشق کا جذب ہوا باعث سودا ورنہ
یوسف مصر زلیخا کا خریدار نہ تھا
نرم تر موم سے بھی ہم کو کوئی دیتی قضا
سنگ چھاتی کا تو یہ دل ہمیں درکار نہ تھا
رات حیران ہوں کچھ چپ ہی مجھے لگ گئی میر
درد پنہاں تھے بہت پر لب اظہار نہ تھا
میر تقی میر

کون اس فوج کا سالار ہے میں کیا جانوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 134
میں تو اک بکھری ہوئی صف کا پیادہ ٹھہرا
کون اس فوج کا سالار ہے میں کیا جانوں
تو فرستادۂ سرکار نہیں ہے نہ سہی
ہاتھ میں محضرِ سرکار ہے میں کیا جانوں
شحنۂ شہر کی خدمت میں لگے ہیں سب لوگ
کون غالب کا طرفدار ہے میں کیا جانوں
اک نیا رنگ ہویدا ہے مری آنکھوں میں
آج کیا سرخئ اخبار ہے میں کیا جانوں
تجھ کو سیلاب کے آنے کی خبر دے دی ہے
تیرا در ہے تری دیوار ہے میں کیا جانوں
میں نمو کرنے پہ راضی نہیں بے موجِ بہار
موسمِ دَرہم و دِینار ہے میں کیا جانوں
سرِ پندار تو مجھ کو بھی نظر آتا ہے
اور کیا کیا تہہِ دستار ہے میں کیا جانوں
قحط میں کب سے دکاں میری پڑی ہے خالی
عشق سے گرمئ بازار ہے میں کیا جانوں
ہے کہیں صبحِ خوش آثار بھی لیکن فی الحال
میرے آگے تو شبِ تار ہے میں کیا جانوں
مجھ کو آتی ہے ترے حرف سے احساس کی آنچ
سب تری گرمئ گفتار ہے میں کیا جانوں
عرفان صدیقی