ٹیگ کے محفوظات: طرب

کیا لکھیے سرِ دامنِ شب، سوچ رہے ہیں

لَودے اٹھے وہ حرفِ طلب سوچ رہے ہیں
کیا لکھیے سرِ دامنِ شب، سوچ رہے ہیں
کیا جانیے منزل ہے کہاں، جاتے ہیں کس سمت
بھٹکی ہوئی اس بھیڑ میں سب سوچ رہے ہیں
بھیگی ہوئی اک شام کی دہلیز پہ بیٹھے
ہم دل کے سُلگنے کا سبب سوچ رہے ہیں
ٹوٹے ہوئے پتّوں سے د رختوں کو تعلق؟
ہم دور کھڑے کنجِ طرب سوچ رہے ہیں
بُجھتی ہوئی شمعوں کا دھواں ہے سرِ محفل
کیا رنگ جَمے آخرِ شب سوچ رہے ہیں
اس لہر کے پیچھے بھی رَواں ہیں نئی لہریں
پہلے نہیں سوچا تھا، جو اب سوچ رہے ہیں
ٹو ٹے ہو ئے پتّوں کو درختوں سے تعلق؟
ہم دُور کھڑے شہرِ طرب سوچ رہے ہیں
ہم اُبھر ے بھی ،ڈو بے بھی سیا ہی کے بھنو ر میں
ہم سو ئے نہیں شب ، ہمہ شب سوچ رہے ہیں
ایما ن کی شہ رگ ہُوں ، میں انِسا ن کا دل ہوں
کیا آپ مرا نا م و نَسَب سوچ رہے ہیں
شکیب جلالی

مدہوش نہیں تشنہ بہ لَب سوچ رہے ہیں

محجوب ہے کیوں بنتِ عَنَب سوچ رہے ہیں
مدہوش نہیں تشنہ بہ لَب سوچ رہے ہیں
بُجھتی ہوئی شمعوں کا دھواں ہے سرِ محفل
کیا رنگ جمے آخرِ شب سوچ رہے ہیں
ٹوٹے ہوئے پتّوں کو درختوں سے تعلّق؟
ہم دُور کھڑے شہرِ طرب سوچ رہے ہیں
تبدیلیِ حالات نے بَدلے ہیں خیالات
پہلے نہیں سوچا تھا جو اب سوچ رہے ہیں
ہم ابھرے بھی، ڈوبے بھی سیاہی کے بھنور میں
ہم سوئے نہیں شب، ہمہ شب سوچ رہے ہیں
ایمان کی شہ رگ ہُوں میں اِنسان کا دل ہوں
کیا آپ مرا نام و نَسَب سوچ رہے ہیں
شکیب جلالی

اَیسی فَرسُودہ رسومات کو اَب رہنے دو

جو بھی دِل میں ہے کَہو، پاسِ اَدَب رہنے دو
اَیسی فَرسُودہ رسومات کو اَب رہنے دو
تِیر کِس سمت سے آیا ہے یہی کافی ہے
تِیر اَنداز کا اَب نام و نَسَب رہنے دو
مُجھ سے اُترے ہوئے چہرے نہیں دیکھے جاتے
کوئی پُوچھے بھی تَو کہتا ہُوں ، سَبَب رہنے دو
جِس کو خُورشیدِ قَیامَت سے اُجالا نہ مِلے
کیا عَجَب گَر وہ کہے ظُلمَتِ شَب رہنے دو
دِل کا اصرار ہے جو دِل میں ہے کہہ دُوں اُن سے
ذہن کہتا ہے، وہ اَب وہ نہیں ، اَب رہنے دو
کون رکھتا ہے رہ و رَسمِ زمانہ کا خیال
صِرف کہنے کی یہ باتیں ہیں ، یہ سَب رہنے دو
مُجھ کو طُوفاں نے ڈبویا نہیِں ، خُود ڈُوبا ہُوں
اہلِ ساحِل سے کہو جَشنِ طَرَب رہنے دو
عَکسِ قاتِل نَظَر آجائے نہ زَخموں میں کہیِں
جیسے مَقتَل میں پَڑا ہُوں اسی ڈَھَب رہنے دو
قحطِ اَقدار میں یہ مِہر و مُرَوَّت، ضامنؔ!
کیا ضرورَت ہے تکلّف کی یہ سَب رہنے دو
ضامن جعفری

آنکھ کہتی ہے ترے دل میں طلب ہے کوئی

تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئی
آنکھ کہتی ہے ترے دل میں طلب ہے کوئی
آنچ آتی ہے ترے جسم کی عریانی سے
پیرہن ہے کہ سلگتی ہوئی شب ہے کوئی
ہوش اُڑانے لگیں پھر چاند کی ٹھنڈی کرنیں
تیری بستی میں ہوں یا خوابِ طرب ہے کوئی
گیت بنتی ہے ترے شہر کی بھرپور ہوا
اجنبی میں ہی نہیں تو بھی عجب ہے کوئی
لیے جاتی ہیں کسی دھیان کی لہریں ناصر
دُور تک سلسلۂ تاکِ طرب ہے کوئی
ناصر کاظمی

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست
تو مصیبت میں عجب یاد آیا
دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
تیرا بھولا ہوا پیمانِ وفا
مر رہیں گے اگر اب یاد آیا
پھر کئی لوگ نظر سے گزرے
پھر کوئی شہرِ طرب یاد آیا
حالِ دل ہم بھی سناتے لیکن
جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا
بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصر
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا
ناصر کاظمی

ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی

یاد آتا ہے روز و شب کوئی
ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی
لبِ جو چھاؤں میں درختوں کی
وہ ملاقات تھی عجب کوئی
جب تجھے پہلی بار دیکھا تھا
وہ بھی تھا موسمِ طرب کوئی
کچھ خبر لے کہ تیری محفل سے
دُور بیٹھا ہے جاں بلب کوئی
نہ غمِ زندگی نہ دردِ فراق
دل میں یونہی سی ہے طلب کوئی
یاد آتی ہیں دُور کی باتیں
پیار سے دیکھتا ہے جب کوئی
چوٹ کھائی ہے بارہا لیکن
آج تو درد ہے عجب کوئی
جن کو مٹنا تھا مٹ چکے ناصرؔ
اُن کو رسوا کرے نہ اب کوئی
ناصر کاظمی

لوگ رخصت ہوے کب یاد نہیں

سفرِ منزلِ شب یاد نہیں
لوگ رخصت ہوے کب یاد نہیں
اوّلیں قرب کی سرشاری میں
کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں
دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی
تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں
وہ ستارا تھی کہ شبنم تھی کہ پھول
ایک صورت تھی عجب یاد نہیں
کیسی ویراں ہے گزرگاہِ خیال
جب سے وہ عارض و لب یاد نہیں
بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار
یاد آئیں بھی تو سب یاد نہیں
ایسا اُلجھا ہوں غمِ دنیا میں
ایک بھی خوابِ طرب یاد نہیں
رشتۂ جاں تھا کبھی جس کا خیال
اُس کی صورت بھی تو اب یاد نہیں
یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
یاد ہے سیرِ چراغاں ناصرؔ
دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں
ناصر کاظمی

گزری جو ترے ساتھ وہ شب یاد رہے گی

کم فرصتئی خوابِ طرب یاد رہے گی
گزری جو ترے ساتھ وہ شب یاد رہے گی
ہرچند ترا عہدِ وفا بھول گئے ہم
وہ کشمکشِ صبر طلب یاد رہے گی
سینے میں امنگوں کا وہی شور ہے اب تک
وہ شوخیٔ یک جنبشِ لب یاد رہے گی
پھر جس کے تصوّر میں برسنے لگیں آنکھیں
وہ برہمیٔ صحبتِ شب یاد رہے گی
گو ہجر کے لمحات بہت تلخ تھے لیکن
ہر بات بعنوانِ طرب یاد رہے گی
ناصر کاظمی

وہ جو پُر لطف تھے روزوشب موڑ دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
مجھ سے جو چھن گئے،میرے رب موڑ دے
وہ جو پُر لطف تھے روزوشب موڑ دے
فاختاؤں کے حق میں خلافِ ستم
رگ بہ رگ تھا جو رنج و تعب موڑ دے
ساتھ اپنے ہی جس میں سخن اور تھے
خلوتوں کی وہ بزمِ طرب موڑ دے
جس سے مُکھ تھا انگاروں سا دہکا ہوا
مُو بہ مُو تھی جو وہ تاب و تب موڑ دے
الجھنوں کا تھا جن پر نہ سایہ تلک
ہاں وہ لمحاتِ خندہ بہ لب موڑ دے
نام اوروں کے جتنے شرف ہیں مرے
مجھ کو موڑے نہ تھے جو، وہ اب موڑ دے
رنج جو بھی ملے ،عفو کی شکل میں
دینے والوں کو ماجِد وہ سب موڑ دے
ماجد صدیقی

ہمارے شہر کا موسم عجب ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے
ہمارے شہر کا موسم عجب ہے
وہ دیکھو ماہِ رخشاں بادلوں سے
لپٹ کر کس قدر محوِ طرب ہے
پئے عرفانِ منزل، گمرہوں کو
کہیں ہم جو بھی کچھ، لہو و لعب ہے
کچھار اپنی بنا لو حفظِ جہاں کو
نگر میں اب یہی جینے کا ڈھب ہے
ہمارے ہی لئے کیوں ایک ماجد
مزاجِ دہر میں رنج و تعب ہے
ماجد صدیقی

یہ بات ہے بڑی دلِ عاشق طلب سے دور

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 48
یوں پاس بوالہوس رہیں چشمِ غضب سے دور
یہ بات ہے بڑی دلِ عاشق طلب سے دور
دیوانہ میں نہیں کہ انا لیلیٰ لب پہ آئے
باتیں خلافِ وضع ہیں اہلِ ادب سے دور
مجھ کو سنا کے کہتے ہیں ہمدم سے، یاد ہے؟
اک آدمی کو چاہتے تھے ہم بھی اب سے دور
جو لطف میں بھی پاس پھٹکنے نہ دے کبھی
رکھیو الٰہی! ایسے کے مجھ کو غضب سے دور
کیوں کر میں انجمن میں تمہاری شریک ہوں
اربابِ رنج رہتے ہیں اہلِ طرب سے دور
ہم سے اسے معاملہ تھا جان و جسم کا
ہرگز ملا نہ گاہ، ہوا ہائے جب سے دور
تو بھی جو میرے پاس نہ آئے تو کیا کروں
تیرے ہی پاس سے تو میں رہتا ہوں سب سے دور
میں غیرِ بوالہوس نہیں ڈرتے ہو کس لئے
مجھ کو نہ رکھو بوسے میں تم لب کو لب سے دور
بوس و کنار کی نہ کروں گا ہوس کبھی
یہ خواہشیں ہیں عاشقِ حسرت طلب سے دور
آغازِ عمر ہی میں ہے ہم کو خیالِ حج
دلی جو شیفتہ ہے دیارِ عرب سے دور
مصطفٰی خان شیفتہ

بے قراری کو جانے تب کوئی

دیوان اول غزل 455
مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئی
بے قراری کو جانے تب کوئی
ہاں خدا مغفرت کرے اس کو
صبر مرحوم تھا عجب کوئی
جان دے گو مسیح پر اس سے
بات کہتے ہیں تیرے لب کوئی
بعد میرے ہی ہو گیا سنسان
سونے پایا تھا ورنہ کب کوئی
اس کے کوچے میں حشر تھے مجھ تک
آہ و نالہ کرے نہ اب کوئی
ایک غم میں ہوں میں ہی عالم میں
یوں تو شاداں ہے اور سب کوئی
ناسمجھ یوں خفا بھی ہوتا ہے
مجھ سے مخلص سے بے سبب کوئی
اور محزوں بھی ہم سنے تھے ولے
میر سا ہوسکے ہے کب کوئی
کہ تلفظ طرب کا سن کے کہے
شخص ہو گا کہیں طرب کوئی
میر تقی میر

پھر اُس سے آج وہی رنجِ بے سبب کیا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 324
وہ اُن دِنوں تو ہمارا تھا، لیکن اَب کیا ہے
پھر اُس سے آج وہی رنجِ بے سبب کیا ہے
تم اُس کا وَار بچانے کی فکر میں کیوں ہو
وہ جانتا ہے مسیحائیوں کا ڈھب کیا ہے
دبیز کہر ہے یا نرم دُھوپ کی چادر
خبر نہیں ترے بعد اَے غبارِ شب کیا ہے
دِکھا رہا ہے کسے وقت اَن گنت منظر
اگر میں کچھ بھی نہیں ہوں تو پھر یہ سب کیا ہے
اَب اِس قدر بھی سکوں مت دِکھا بچھڑتے ہوئے
وہ پھر تجھے نہ کبھی مل سکے عجب کیا ہے
میں اَپنے چہرے سے کسی طرح یہ نقاب اُٹھاؤں
سمجھ بھی جا کہ پسِ پردۂ طرب کیا ہے
یہاں نہیں ہے یہ دَستورِ گفتگو، عرفانؔ
فغاں سنے نہ کوئی، حرفِ زیرِ لب کیا ہے
عرفان صدیقی

چلو یہ شام سرِ جوئے لب گذارتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 181
ذرا سا وقت کہیں بے سبب گذارتے ہیں
چلو یہ شام سرِ جوئے لب گذارتے ہیں
تو اک چراغِ جہانِ دگر ہے کیا جانے
ہم اس زمین پہ کس طرح شب گذارتے ہیں
ہمارا عشق ہی کیا ہے‘ گذارنے والے
یہاں تو نذر میں نام و نسب گذارتے ہیں
خراج مانگ رہی ہے وہ شاہ بانوئے شہر
سو ہم بھی ہدیۂ دستِ طلب گذارتے ہیں
سنا تو ہو گا کہ جنگل میں مور ناچتا ہے
ہم اس خرابے میں فصلِ طرب گذارتے ہیں
عرفان صدیقی

فکر و نظر تک چھین لئے ہیں رحمتِکل کے قہرو غضب نے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 561
جانے کیسے جرم کئے ہیں اِس امتِ تجدید طلب نے
فکر و نظر تک چھین لئے ہیں رحمتِکل کے قہرو غضب نے
اپنے غم کے ساتھ جہاں کے دکھ بھی پیش کئے ہیں میں نے
بے شک دل تحریر کئے ہیں اپنی اپنی نعت میں سب نے
پاس پڑا ہے ایٹم بم اور خوفزدہ ہیں ہم دشمن سے
چھوڑا نہیں افسوس کہیں کا مال و زر نے عیش و طرب نے
شوقِ شہادت رکھنے والے تیرے مجاہد قاتل ٹھہرے
صبح کے سچے متوالوں کو دہشت گرد کہا ہے شب نے
ویراں موٹر وے یورپ کے ، بس اسٹاپ بھی خالی خالی
تہذبیوں کی جنگ ہے جاری ، بند کیا ہے تیل عرب نے
منصور آفاق

ان کے دروازے کھلے ہیں تم طلب کرتے رہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 239
مصحفِ دل کی تلاوت روز و شب کرتے رہو
ان کے دروازے کھلے ہیں تم طلب کرتے رہو
شاملِ توفیق ان کی رحمتیں ہو جائیں گی
مسئلے جو بھی بیاں کرنے ہیں سب کرتے رہو
زندگی ممنون ہے جس کی ، اُسی کے نام سے
اپنے دل کے بھی دھڑکنے کا سبب کرتے رہو
نام ہو ان کا تو مایوسی سراسر کفر ہے
اپنی بخشش کی دعا ساغر بہ لب کرتے رہو
اک ذرا بس ان کا ذکرِ خیر پہلے دوستو
بات اپنی جو تمہیں کرنی ہے ، اب کرتے رہو
عزم زندہ ہو تو ساری بیڑیاں کٹ جائیں گی
کوششیں اپنی بصد رنج و تعب کرتے رہو
آنکھ میں منصور روشن ہوں ستارے اور دئیے
آنسوئوں سے تم بپا شامِ طرب کرتے رہو
منصور آفاق