ٹیگ کے محفوظات: طبق

سب اصل کی نقلیں ہیں ، ذہنوں کے ورق دیکھو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 31
کیا معجزہ کرتے ہیں ، آلاتِ صدا اُن کے
سب اصل کی نقلیں ہیں ، ذہنوں کے ورق دیکھو
سچائی کا لفظ آئے لب پر کبھی بھُولے سے
پھر چہرۂ دنیا کو ہوتے ہوئے فق دیکھو
زنجیر اُتروا دیں دروازوں کی مستک سے
کب شہر مکینوں کو ملتا ہے یہ حق دیکھو
کیا جانئے کیا ہووے معیار نئے دن کا
تا شام بُھلا ڈالو صبح جو سبق دیکھو
سینہ شبِ ظلمت کا، انوار سے شق دیکھو
ہاں مطلع خواہش پر خوابوں کی شفق دیکھو
وعدے کی کرن چمکی امکان کی دوری سے
روشن تو ہوئے کچھ کچھ تاریک طبق دیکھو
آفتاب اقبال شمیم

علم بس عشق کے سبق پر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 613
آنکھ کے قطرۂ عرق پر ہے
علم بس عشق کے سبق پر ہے
منزلِ ہجر سے ذرا آگے
اپنا گھر چشمۂ قلق پر ہے
کوئی آیا ہے میرے آنگن میں
ابر صحرائے لق و دق پر ہے
ایک ہی نام ایک ہی تاریخ
ڈائری کے ورق ورق پر ہے
شامِ غم کے نگار خانے میں
زخم پھیلا ہوا شفق پر ہے
سن رہا ہوں کہ میرے ہونے کی
روشنی چودھویں طبق پر ہے
دیکھ کر کارِ امت شبیر
لگ رہا ہے یزید حق پر ہے
منصور آفاق