ٹیگ کے محفوظات: ضیا

دریا میں وفور آب کا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
ہر سُو جو چھلک چھلک چلا ہے
دریا میں وفور آب کا ہے
چُوزوں ہی پہ چِیل چِیل جِھپٹے
مظلوم ہی دار پر کِھنچا ہے
اب تک نہ لگا کسی کنارے
لب پر جو سفینۂ دُعا ہے
ذرّے مجھے مہر دیں دکھائی
قدموں میں لگے ،بِچھی ضیا ہے
چندا میں ہے اُس کا چاند چہرہ
اور ایلچی اُس کی یہ صبا ہے
مُونس ہے ہر اِک لُٹے پُٹے کا
ماجِد کہ نِعَم میں خود پلا ہے
ماجد صدیقی

اونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 54
کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی
اونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی
شاید ہی کوئی آ سکے اس موڑ سے آگے
اس موڑ سے آگے تو قضا تک نہیں آتی
وہ گل نہ رہے نکہتِ گل خاک ملے گی
یہ سوچ کے گلشن میں صبا تک نہیں آتی
اس شورِ تلاطم میں کوئی کس کو پکارے
کانوں میں یہاں اپنی صدا تک نہیں آتی
خوددار ہوں کیوں آؤں درِ ابلِ کرم پر
کھیتی کبھی خود چل کے گھٹا تک نہیں آتی
اس دشت میں قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہے ہو
پیڑوں سے جہاں چھن کے ضیا تک نہیں آتی
یا جاتے ہوئے مجھ سے لپٹ جاتی تھیں شاخیں
یا میرے بلانے سے صبا تک نہیں آتی
کیا خشک ہوا روشنیوں کا وہ سمندر
اب کوئی کرن آبلہ پا تک نہیں آتی
چھپ چھپ کے سدا جھانکتی ہیں خلوتِ گل میں
مہتاب کی کرنوں کو حیا تک نہیں آتی
یہ کون بتائے عدم آباد ہے کیسا
ٹوٹی ہوئی قبروں سے صدا تک نہیں آتی
بہتر ہے پلٹ جاؤ سیہ خانۂِ غم سے
اس سرد گپھا میں تو ہوا تک نہیں آتی
شکیب جلالی

چاند ہے اور چراغوں سے ضیا چاہتی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 341
ہم سے وہ جانِ سخن ربطِ نوا چاہتی ہے
چاند ہے اور چراغوں سے ضیا چاہتی ہے
اُس کو رہتا ہے ہمیشہ مری وحشت کا خیال
میرے گم گشتہ غزالوں کا پتا چاہتی ہے
میں نے اتنا اسے چاہا ہے کہ وہ جانِ مراد
خود کو زنجیرِ محبت سے رہا چاہتی ہے
چاہتی ہے کہ کہیں مجھ کو بہا کر لے جائے
تم سے بڑھ کر تو مجھے موجِ فنا چاہتی ہے
روح کو روح سے ملنے نہیں دیتا ہے بدن
خیر‘ یہ بیچ کی دیوار گرا چاہتی ہے
ہم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہیں آزاد
گھر کو چلتے ہیں کہ اب شام ہوا چاہتی ہے
ہم نے ان لفظوں کے پیچھے ہی چھپایا ہے تجھے
اور انہیں سے تری تصویر بنا چاہتی ہے
عرفان صدیقی

جبیں اُٹھا، کہ یہ بندہ خدا نہ ہونے پائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 253
نیاز عشق بھی حد سے سوا نہ ہونے پائے
جبیں اُٹھا، کہ یہ بندہ خدا نہ ہونے پائے
مرے عدو، ترے ترکش میں آخری ہے یہ تیر
تو دیکھ، اب کے نشانہ خطا نہ ہونے پائے
عجب یہ کہنہ سرا ہے، عجب چراغ ہیں ہم
کہ ساری رات جلیں اور ضیاء نہ ہونے پائے
ہمارا دل بھی اک آئینہ ہے مگر اس میں
وہ عکس ہے جو کبھی رونما نہ ہونے پائے
عرفان صدیقی

پل بھر میں نہ دریا تھا نہ میں تھا نہ گھٹا تھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 234
یہ کون سے صحرا کی پُراسرار ہوا تھی
پل بھر میں نہ دریا تھا نہ میں تھا نہ گھٹا تھی
جنگل تھا نہ بادل تھا نہ ساحل تھا نہ دل تھا
آندھی تھی نہ بارش تھی گرج تھی نہ صدا تھی
طائر سفر آمادہ تھے گھر تھا کہ شجر تھا
جھیلوں کا بلاوا تھا، پہاڑوں کی ندا تھی
کل نیند کی آنکھوں میں چمکتے تھے ستارے
کل خواب بچھونوں پہ کھلونوں کی ضیا تھی
کل رات سناتی تھی فرشتوں کی کہانی
کل نرم رداؤں میں ڈُعاؤں کی ضیا تھی
بانہوں پہ نگاہوں کے بندھے رہتے تھے تعویذ
گھیروں سے سویروں کو نکلنے پہ سزا تھی
دالانوں میں سو جاتے تھے سہمے ہوئے بچے
افسوں تھا کہ شب گشت فقیروں کی صدا تھی
چھت نار درختوں میں چھپی رہتی تھی دوپہر
اک آم کی گٹھلی میں نفیری کی ندا تھی
مٹی کے چراغوں میں جلا کرتی تھیں راتیں
چڑیوں کے بسیروں میں سویروں کی صدا تھی
پلکوں سے گرا کرتے تھے بھیگے ہوئے جگنو
پھیلے ہوئے ہاتھوں پہ شفق تھی نہ حنا تھی
عرفان صدیقی

سلام تجھ پہ ہو، باد صبا سلامتی ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 236
تُو لائے یار کی خوشبو، سدا سلامتی ہو
سلام تجھ پہ ہو، باد صبا سلامتی ہو
میں دھڑکنوں کے تلاطم سے لطف لیتا ہوں
ہزار وحشتِ موجِ ہوا سلامتی ہو
مری حیاتِ گذشتہ سے لوٹ آتی ہوئی
صباحتِ لب و رخ کی صدا سلامتی ہو
ملالِ شامِ مسلسل کی حکمرانی ہے
الم نصیب، دلِ باوفا سلامتی ہو
تمام کون و مکاں کے لیے دعائے خیر
فقط یہاں ہی نہیں جا بجا سلامتی ہو
وہاں بچھانی ہے اک جانماز میں نے بھی
کنارِ چشمہء حمد و ثنا سلامتی ہو
میں چل رہا تھا کسی بد کلام بستی میں
کسی نے مجھ کو اچانک کہا سلامتی ہو
سیاہ دن سے گزرتی ہوئی سفید قبا
اٹھے ہوئے ہیں یہ دست دعا سلامتی ہو
پڑوس میں بھی ترے دم سے کچھ اجالا ہے
سلامتی مرے گھر کا دیا سلامتی ہو
میں خوشہ چین ہوں غالب ترے گلستاں کا
اے کائناتِ سخن کے خدا سلامتی ہو
شبِ فراق چمکتی ہے تیرے جلووں سے
اے مہتاب کی دھیمی ضیا سلامتی ہو
یہیں پہ خیر بھی رہتی ہے شر بھی ہے آباد
مری زمین پہ منصور کیا سلامتی ہو
منصور آفاق

منزلیں دیں گی کسے اپنا پتا میرے بعد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 157
کس طرف جائے گی اب راہ فنا میرے بعد
منزلیں دیں گی کسے اپنا پتا میرے بعد
رات کا دشت تھا کیا میرے لہو کا پیاسا
آسماں کتنا سحر پوش ہوا میرے بعد
یہ تو ہر طرح مرے جیسا دکھائی دے گا
کوزہ گر چاک پہ کیا تو نے رکھا میرے بعد
"کون پھر ہو گا حریفِ مے مرد افگنِ عشق؟”
کون دنیا کے لیے قبلہ نما میرے بعد
لڑکھڑاتی ہوئی گلیوں میں پھرے گی تقویم
وقت کا خاکہ اڑائے گی ہوا میرے بعد
میں خدا تو نہیں اس حسن مجسم کا مگر
کم نہیں میرا کیا اس نے گلہ میرے بعد
میں وہ سورج ہوں کہ بجھ کر بھی نظر آتا ہوں
اب نظر بند کرو میری ضیا میرے بعد
دشت میں آنکھ سمندر کو اٹھا لائی ہے
اب نہیں ہو گا کوئی آبلہ پا میرے بعد
تیرے کوچہ میں بھٹکتی ہی رہے گی شاید
سالہا سال تلک شام سیہ میرے بعد
گر پڑیں گے کسی پاتال سیہ میں جا کر
ایسا لگتا ہے مجھے ارض و سما میرے بعد
بعد از میر تھا میں میرِ سخن اے تشبیب
’کون کھولے گا ترے بند قبا میرے بعد‘
رات ہوتی تھی تو مہتاب نکل آتا تھا
اس کے گھر جائے گا اب کون بھلا میرے بعد
رک نہ جائے یہ مرے کن کی کہانی مجھ پر
کون ہو سکتا ہے آفاق نما میرے بعد
بزم سجتی ہی نہیں اب کہیں اہلِ دل کی
صاحبِ حال ہوئے اہل جفا میرے بعد
پھر جہالت کے اندھیروں میں اتر جائے گی
سر پٹختی ہوئی یہ خلق خدا میرے بعد
پہلے تو ہوتا تھا میں اوس بھی برگِ گل بھی
ہونٹ رکھے گی کہاں باد صبا میرے بعد
مجھ سے پہلے تو کئی قیس کئی مجنوں تھے
خاک ہو جائے گا یہ دشتِ وفا میرے بعد
بس یہی درد لیے جاتا ہوں دل میں اپنے
وہ دکھائے گی کسے ناز و ادا میرے بعد
جانے والوں کو کوئی یاد کہاں رکھتا ہے
جا بھی سکتے ہیں کہیں پائے حنا میرے بعد
زندگی کرنے کا بس اتنا صلہ کافی ہے
جل اٹھے گا مری بستی میں دیا میرے بعد
اس کو صحرا سے نہیں میرے جنون سے کد تھی
دشت میں جا کے برستی ہے گھٹا میرے بعد
میرے ہوتے ہوئے یہ میری خوشامد ہو گی
شکریہ ! کرنا یہی بات ذرا میرے بعد
میں ہی موجود ہوا کرتا تھا اُس جانب بھی
وہ جو دروازہ کبھی وا نہ ہوا میرے بعد
میرا بھی سر تھا سرِ صحرا کسی نیزے پر
کیسا سجدہ تھا… ہوا پھر نہ ادا میرے بعد
کاٹنے والے کہاں ہو گی یہ تیری مسند
یہ مرا سرجو اگر بول پڑا میرے بعد
پہلے تو ہوتی تھی مجھ پر یہ مری بزم تمام
کون اب ہونے لگا نغمہ سرا میرے بعد
میں کوئی آخری آواز نہیں تھا لیکن
کتنا خاموش ہوا کوہ ندا میرے بعد
میں بھی کر لوں گا گریباں کو رفو دھاگے سے
زخم تیرا بھی نہیں ہو گا ہرا میرے بعد
تیری راتوں کے بدن ہائے گراں مایہ کو
کون پہنائے گا سونے کی قبا میرے بعد
شمع بجھتی ہے‘ تو کیا اب بھی دھواں اٹھتا ہے
کیسی ہے محفلِ آشفتہ سرا میرے بعد
میں ہی لایا تھا بڑے شوق میں برمنگھم سے
اس نے پہنا ہے جو ملبوس نیا میرے بعد
عشق رکھ آیا تھا کیا دار و رسن پر منصور
کوئی سجادہ نشیں ہی نہ ہوا میرے بعد
منصور آفاق

دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 33
صبح دم شہرِ مدنیہ کی ہوا احمد رضا
دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا
حمد کی بہتی کرن وہ نعت کی اجلی شعاع
مدحتوں کے باغ کی بادِصبا احمد رضا
زندہ و جاوید رکھتا ہے انہیں عشقِ رسول
عشق کی بابت فنا نا آشنا احمد رضا
یہ سرِ فہرست عشاقِ محمدمیں ہے کون ؟
پوچھنے والے نے پھر خود ہی کہا احمد رضا
خانہ ء تاریک میں بھر دے اجالے لفظ سے
فیض کا سر چشمۂ صدق و صفا احمد رضا
کنزالایماں سے منور صحنِ اردو ہو گیا
آیتوں کا اختتامِ ترجمہ احمد رضا
روک دیتے ہیں بہارِ حکمت و عرفان سے
بد عقیدہ موسموں کا سلسلہ احمد رضا
آسماں کی بے کراں چھاتی پہ روز حشر تک
صبح نے کرنوں سے اپنی، لکھ دیا، احمد رضا
جل اٹھے ان سے سبھی علمِ عقائد کے چراغ
راستی کا روشنی کا راستہ احمد رضا
صاحبِ علم الکلام و حاملِ علم شعور
حاصلِ عہد علومِ فلسفہ احمد رضا
عالمِ علم لدنی ، عاملِ تسخیرِ ذات
روح و جاں میں قربِ احساسِ خدا احمد رضا
وہ صفاتِ حرف کی رو سے مخارج کے امیں
محرمِ احکامِ تجوید و نوا احمد رضا
بابتِ تفسیر قرآں جانتے تھے ایک ایک
معنی و تفہیمِ الہامِ الہ احمد رضا
وہ روایت اور درایت آشنا شیخ الحدیث
علمِ احوالِ نبی کے نابغہ احمد رضا
مالکی وشافعی ہوں یا کہ حنفی حنبلی
فقہ اربعہ پہ حرف انتہا احمد رضا
علمِ استخراجیہ ہویا کہ استقرائیہ
دیدہ ء منطق میں ہے چہرہ نما احمد رضا
علم ہندسہ و ریاضی کے نئے ادوار میں
موئے اقلیدس کی اشکال و ادا احمد رضا
علم جامع و جفر کی ہر ریاضت گاہ میں
جو ہرِ اعداد کی صوت و صدا احمد رضا
وہ بروج فلکیہ میں انتقال شمس ہیں
صاحبِعلمِ نجوم و زائچہ احمد رضا
وقت کی تاریخ ان کے ہاتھ پر تحریر ہے
جانتے ہیں سرگزشتِ ماجرا احمد رضا
روشنی علمِ تصوف کی انہی کی ذات سے
کثرتِ جاں میں لبِ وحدت سرا احمد رضا
حرفِ آخر تھے وہی عربی ادب پر ہند میں
والی ء تختِ علوم عربیہ احمد رضا
علمِ جاں ، علمِ فضائلِ علمِ لغت ،علم سیر
در علومِ خیرتجسیمِ ضیا احمد رضا
آسمانِ معرفت ، علمِ سلوک وکشف میں
منظرِبدرالدجیٰ ، شمس الضحیٰ احمد رضا
صبحِ عرفانِ الہی ، عابد شب زندہ دار
مسجدِ یاد خدا و مصطفی احمد رضا
عجز کا پندار ہے میرے قلم کی آنکھ میں
جو کچھ لکھا میں نے، کہیں اُس سے سوا احمد رضا
ٹوٹے پھوٹے لفظ تیری بارگاہ میں پیش ہیں
گرقبول افتدزہے عزوعطا احمد رضا
اعلی حضرت اہلِ سنت کے امام و پیشوا
اک نگہ مجھ پہ کرم کی اک نگہ احمد رضا
منصور آفاق

اہل غم جانے تجھ کو کیا سمجھے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 233
بات کو جرم ناسزا سمجھے
اہل غم جانے تجھ کو کیا سمجھے
اپنے دعوے کو کیا غلط کہتے
تیری نفرت کو بھی ادا سمجھے
چھوڑئیے بھی اب آئینے کا خیال
دیکھ پائے کوئی تو کیا سمجھے
اک ستارہ فلک سے ٹوٹا تھا
ہم جسے صبح کی ضیا سمجھے
اس کے غم کا علاج کیا باقیؔ
جو محبت ہی کو دوا سمجھے
باقی صدیقی

کوئی اٹھ جائے بلا سے تیری

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 162
رنگ محفل ہے ادا سے تیری
کوئی اٹھ جائے بلا سے تیری
دل تری بزم میں لے آتا ہے
ہم تو واقف ہیں رضا سے تیری
مرگ و ہستی کی حدیں ملنے لگیں
بات چل نکلی وفا سے تیری
تیرے جانے پہ ہوا ہے معلوم
شمع روشن تھی ضیا سے تیری
وقت جب چال کوئی چلتا ہے
یاد دیتی ہے دلاسے تیری
تیری آمد کا بہانہ ہے بہار
پھول کھلتے ہیں صدا سے تیری
بوئے گل دیکھی ہے رسوا ہوتے
کیا کریں بات صبا سے تیری
کرتے پھرتے ہیں بگولے باقیؔ
بات ہر آبلہ پا سے تیری
باقی صدیقی