ٹیگ کے محفوظات: ضرور

بڑا ہی دور سِر اَوج طور اُترا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
زمیں پہ جب بھی کبھی اُس کا نور اُترا ہے
بڑا ہی دور سِر اَوج طور اُترا ہے
جو پھوٹتا ہے کبھی تلخیوں کی شدّت سے
لہو کی تہ میں کچھ ایسا سرور اُترا ہے
مرے سکوں کا پیمبر اسی میں ہو شاید
ابھی ابھی لبِ دریا جو پُور اُترا ہے
رہا ہے ایک سا موسم نہ بادوباراں کا
چڑھا ہے جو بھی وہ دریا ضرور اُترا ہے
نگاہِ حرص لگی ہے اُسی پرندے پر
تلاشِ رزق میں ہو کر جو چُور اُترا ہے
سنی نہ ہم نے کبھی ایسی شاعری واعظ
سخن میں آپ کے کیا عکسِ حور اُترا ہے
تجھے بھی اہلِ ہوس پر کچھ اعتماد سا ہے
ترے بھی ذہن میں ماجدؔ فتور اُترا ہے
ماجد صدیقی

سمجھو کہ خواب تھا کہ سحر اس میں گم ہوئی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 143
منظر سا تھا کوئی کہ نظر اس میں گم ہوئی
سمجھو کہ خواب تھا کہ سحر اس میں گم ہوئی
سودائے رنگ وہ تھا کہ اترا خود اپنا رنگ
پھر یہ کہ ساری جنسِ ہنر اس میں گم ہوئی
وہ میرا اک گمان کہ منزل تھا جس کا نام
ساری متاعِ شوقِ سفر اس میں گم ہوئی
دیوار کے سوا نہ رہا کچھ دلوں کے بیچ
ہر صورتِ کشایشِ در اس میں گم ہوئی
لائے تھے رات اس کی خبر قاصدانِ دل
دل میں وہ شور اٹھا کہ خبر اس میں گم ہوئی
اک فیصلے کا سانس تھا اک عمر کا سفر
لیکن تمام راہگزر اس میں گم ہوئی
بس جون کیا کہوں کہ مری ذاتِ نفع جو
جس کام میں یہاں تھا ضرور اس میں گم ہوئی
جون ایلیا

قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 194
منظورتھی یہ شکل تجلّی کو نور کی
قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی
اِک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں
پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
واعظ! نہ تم پیو نہ کسی کو پلاسکو
کیا بات ہے تمہاری شرابِ طہور کی!
لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل، کہ کیوں اٹھا؟
گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی
آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
گو واں نہیں، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
کعبے سےِان بتوں کو بھی نسبت ہے د ور کی
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی
گرمی سہی کلام میں، لیکن نہ اس قدر
کی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کی
غالب گر اِس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں
حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
مرزا اسد اللہ خان غالب

حواس گم ہیں دماغ کم ہے رہا سہا بھی گیا شعور اب

دیوان چہارم غزل 1352
ہوا جو دل خوں خرابی آئی ہر ایک اعضا میں ہے فتور اب
حواس گم ہیں دماغ کم ہے رہا سہا بھی گیا شعور اب
مریں گے غائب ہزار یوں تو نظر میں ہرگز نہ لاوے گا تو
کریں گے ضائع ہم آپ ہی کو بتنگ ہوکر ترے حضور اب
وجوب و امکاں میں کیا ہے نسبت کہ میر بندے کا پیش صاحب
نہیں ہے ہونا ضرور کچھ تو مجھے بھی ہونا ہے کیا ضرور اب
میر تقی میر

لڑکا سا ان دنوں تھا اس کو شعور کیا تھا

دیوان چہارم غزل 1322
دیوانگی میں مجنوں میرے حضور کیا تھا
لڑکا سا ان دنوں تھا اس کو شعور کیا تھا
گردن کشی سے اپنی مارے گئے ہم آخر
عاشق اگر ہوئے تھے ناز و غرور کیا تھا
غم قرب و بعد کا تھا جب تک نہ ہم نے جانا
اب مرتبہ جو سمجھے وہ اتنا دور کیا تھا
اے وائے یہ نہ سمجھے مارے پڑیں گے اس میں
اظہار عشق کرنا ہم کو ضرور کیا تھا
مرتا تھا جس کی خاطر اس کی طرف نہ دیکھا
میر ستم رسیدہ ظالم غیور کیا تھا
میر تقی میر

شمع روشن کے منھ پہ نور نہیں

دیوان اول غزل 341
بزم میں جو ترا ظہور نہیں
شمع روشن کے منھ پہ نور نہیں
کتنی باتیں بنا کے لائوں ایک
یاد رہتی ترے حضور نہیں
خوب پہچانتا ہوں تیرے تئیں
اتنا بھی تو میں بے شعور نہیں
قتل ہی کر کہ اس میں راحت ہے
لازم اس کام میں مرور نہیں
فکر مت کر ہمارے جینے کا
تیرے نزدیک کچھ یہ دور نہیں
پھر جئیں گے جو تجھ سا ہے جاں بخش
ایسا جینا ہمیں ضرور نہیں
عام ہے یار کی تجلی میر
خاص موسیٰ و کوہ طور نہیں
میر تقی میر

اس روے دل فروز کا سب میں ظہور تھا

دیوان اول غزل 91
پھر شب نہ لطف تھا نہ وہ مجلس میں نور تھا
اس روے دل فروز کا سب میں ظہور تھا
کیا کیا عزیز خلع بدن ہائے کر گئے
تشریف تم کو یاں تئیں لانا ضرور تھا
کیونکر تو میری آنکھ سے ہو دل تلک گیا
یہ بحر موج خیز تو عسرالعبور تھا
شاید نشے میں اس سے یہ سفاکیاں ہوئیں
زخمی جو اس کے ہاتھ کا نکلا سو چور تھا
جیتے جی پاس ہوکے نہ نکلا کسو کے میر
وہ دور گرد بادیۂ عشق دور تھا
میر تقی میر

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

دیوان اول غزل 1
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا
پیدا ہر ایک نالے سے شورنشور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم
یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا
مجلس میں رات ایک ترے پر توے بغیر
کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا
اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا
دیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا
منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا
اس رند کی بھی رات گذر گئی جو عور تھا
ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر
اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا
کل پائوں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میر
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا
میر تقی میر

اُنہی کے دم سے منوّر ہوا شعور مرا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 4
ہزیمتیں جو فنا کر گئیں غرور مرا
اُنہی کے دم سے منوّر ہوا شعور مرا
میں حیرتی کسی منصور کی تلاش میں ہوں
کرے جو آ کے یہ آئینہ چُور چُور مرا
رواجِ ذہن سے میں اختلاف رکھتا تھا
سرِ صلیب مجھے لے گیا فتور مرا
وہ اجنبی ہے مگر اجنبی نہیں لگتا
یہی کہ اُس سے کوئی ربط ہے ضرور مرا
میں ڈوب کر بھی کسی دَور میں نہیں ڈوبا
رہا ہے مطلعِٔ اِمکان میں ظہور مرا
اِسے اب عہدِ الم کی عنایتیں کہئے
کہ ظلمتوں میں اُجاگر ہوا ہے نور مرا
میں اِس لحاظ سے بے نام، نام آور ہوں
کہ میرے بعد ہوا ذکر دُور دُور مرا
آفتاب اقبال شمیم

دل سے ہمیں فرزانہ جانے دیوانہ مشہور کرے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 266
ہم نے اسے محبوب کیا یہ سوچ کے جی میں غرور کرے
دل سے ہمیں فرزانہ جانے دیوانہ مشہور کرے
اس کا نام ہی انتم سر ہے مری صدا کے سرگم کا
اس کے آگے سناٹا ہے کوئی اگر مجبور کرے
حرف میں اپنے جانِ سخن نے دونوں مطلب رکھے ہیں
جب چاہے افسردہ کردے‘ جب چاہے مسرور کرے
کیا کیا طور اسے آتے ہیں دل کو شکیبا رکھنے کے
لغزش پہ ناراض نہ ہو اور خواہش نا منظور کرے
شب کو جو محوِ خوابِ گراں ہو گل ہوں ستارہ چاند چراغ
صبح کو جب وہ جامہ چساں ہو جگ میں نور ظہور کرے
ہم کو تو دلبر خوب ملا خیر اپنی اپنی قسمت ہے
پھر بھی جو کوئی رنج اُٹھانا چاہے عشق ضرور کرے
عرفان صدیقی

مرے لیے یہ ذرا سا چراغِ طور بہت

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 142
گمانِ صبح ہے کافی، خیالِ نور بہت
مرے لیے یہ ذرا سا چراغِ طور بہت
میں بارگاہِ محبت میں کس طرح جاؤں
مرے گناہ بہت ہیں مرے قصور بہت
یہی بہت کہ خزاں میں بہار ہے مجھ پر
ہے پھول پھول، یہی شاخ کو شعور بہت
تمام عہد نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھے ہیں
ہوا ہے شعر میں شاید مرا ظہور بہت
یہ میرے بیگ میں رکھ دے نا کانچ کے ٹکڑے
میں بھیج دوں گا نئی چوڑیاں ، ضرور، بہت
نصیب، نسبتِ دشتِ عرب جسے منصور
بروز حشر وہی سایۂ کھجور بہت
منصور آفاق

وہ زمانے سے دور ہوتا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 245
جو تمہارے حضور ہوتا ہے
وہ زمانے سے دور ہوتا ہے
اپنی اپنی وفاؤں پر سب کو
تھوڑا تھوڑا غرور ہوتا ہے
بے رُخی کا گلہ کریں نہ کریں
دل کو صدمہ ضرور ہوتا ہے
بخش دیجے تو کوئی بات نہیں
آدمی سے قصور ہوتا ہے
مئے الفت کی بات کیا باقیؔ
اور ہی کچھ سرور ہوتا ہے
باقی صدیقی