ٹیگ کے محفوظات: صیّاد

جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
اب کے برس دستورِستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے
پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برس
سارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے
پہلے بھی طوافِ شمعِ وفا تھی، رسم محبت والوں کی
ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصور ہوئے، فرہاد ہوئے
اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن میں کہرام مچا
اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے
فیض، نہ ہم یوسف نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے؎۱
اپنی کیا، کنعاں میں رہے یا مصر میں‌ جا آباد ہوئے
؎۱ غنی روزِ سیاہ پیرِ کنعاں را تماشا کن ۔۔۔۔ کہ نورِ دیدہ اش روشن کند چشمِ زلیخا را
فیض احمد فیض