ٹیگ کے محفوظات: صفت

کہتے ہیں اپنی ٹوپی سے بھی مشورت کرو

دیوان سوم غزل 1238
گر قصدترک سر ہے کہو شرم مت کرو
کہتے ہیں اپنی ٹوپی سے بھی مشورت کرو
اچھی ہے اس کی تیغ تو باندھو گلے سے میر
مرتا ہوں میں تو آگے مرے مت صفت کرو
میر تقی میر

میں پیاز ایسی کہیں صفت نہیں چاہتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 22
تری ہر پرت میں کوئی پرت نہیں چاہتا
میں پیاز ایسی کہیں صفت نہیں چاہتا
اسے رقص گاہ میں دیکھنا کبھی مست مست
مرے دوستو میں اسے غلط نہیں چاہتا
کسی ذہن میں ، کسی خاک پر یا کتاب میں
میں یزید کی کہیں سلطنت نہیں چاہتا
مرے چشم و لب میں کرختگی ہے شعور کی
میں سدھارتھا، ترے خال و خط نہیں چاہتا
فقط ایک جام پہ گفتگو مری شان میں
سرِ شام ایسی منافقت نہیں چاہتا
مرے ساتھ شہر نے جو کیا مجھے یاد ہے
میں کسی کی کوئی بھی معذرت نہیں چاہتا
منصور آفاق