ٹیگ کے محفوظات: صراط

کسو سے شہر میں کچھ اختلاط مجھ کو نہیں

دیوان سوم غزل 1197
گرفتہ دل ہوں سر ارتباط مجھ کو نہیں
کسو سے شہر میں کچھ اختلاط مجھ کو نہیں
جہاں ہو تیغ بکف کوئی سادہ جا لگنا
اب اپنی جان کا کچھ احتیاط مجھ کو نہیں
کرے گا کون قیامت کو ریسماں بازی
دل و دماغ گذار صراط مجھ کو نہیں
جسے ہو مرگ سا پیش استحالہ کیوں نہ کڑھے
اس اپنے جینے سے کچھ انبساط مجھ کو نہیں
ہوا ہوں فرط اذیت سے میں تو سن اے میر
تمیز رنج و خیال نشاط مجھ کو نہیں
میر تقی میر

روح کے اختلاط سے گزرا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 27
رنگ اپنے محاط سے گزرا
روح کے اختلاط سے گزرا
عشق ڈھائیں قیامتیں کیا کیا
دل کئی پل صراط سے گزرا
روزمحشر بھی اسکے پہلو سے
میں بڑی احتیاط سے گزرا
ہر جگہ نقشِ پا ہیں کیوں میرے
کب میں شہرِ رباط سے گزرا
پھول سے قمقمے تھے پانی میں
جب میں نہرِ نشاط سے گزرا
نور کی پتیوں کی بارش میں
دل شبِ انبساط سے گزرا
میں الف کی شبیہ بنانے میں
بے کے کتنے نقاط سے گزرا
ہائے وہ جو تراشنے کے بعد
ایک سو دس قراط سے گزرا
شب گزرتی ہے جیسے یوں منصور
زندگی کی بساط سے گزرا
منصور آفاق

احتیاط و احتیاط

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 9
اس قدر یہ انبساط
احتیاط و احتیاط
دو گھروں کے درمیاں
تیغ تیور پل صراط
شیشہء جاں پھوڑ کر
بہہ گیا آبِ نشاط
آ گرے ہیں سین پر
شین کے تینوں نقاط
دوست امریکا کا وہ
اور کیا میری بساط
بڑھ رہا ہے باغ میں
موسموں کا اختلاط
وہ شکاری وہ محیط
میں گرفتہ میں محاط
منصور آفاق