ٹیگ کے محفوظات: صحرائی

شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی

ترے خیال سے لو دے اُٹھی ہے تنہائی
شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی
تو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی
اُنھیں بھی دیکھ جنھیں راستے میں نیند آئی
پکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب
بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی
ٹھہر گئے ہیں سرِ راہ خاک اُڑانے کو
مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی
رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لیے
یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی
یہ سانحہ بھی محبت میں بارہا گزرا
کہ اُس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی
دلِ فسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اُٹھا
یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی
میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا
تمام رات ترے پہلوئوں سے آنچ آئی
جہاں بھی تھا کوئی فتنہ تڑپ کے جاگ اُٹھا
تمام ہوش تھی مستی میں تیری انگڑائی
کھلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا
وہ لوگ تھے نہ وہ جلسے نہ شہرِ رعنائی
وہ تابِ درد وہ سودائے انتظار کہاں
اُنھی کے ساتھ گئی طاقتِ شکیبائی
پھر اُس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصرؔ
بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی
ناصر کاظمی

یار گیا مجلس سے دیکھیں کس کس کی اب آئی ہے

دیوان چہارم غزل 1495
حال نہیں ہے دل میں مطلق شور و فغاں رسوائی ہے
یار گیا مجلس سے دیکھیں کس کس کی اب آئی ہے
آنکھیں مل کر کھولیں ان نے عالم میں آشوب اٹھا
بال کھلے دکھلائی دیا سو ہر کوئی سودائی ہے
ڈول بیاں کیا کوئی کرے اس وعدہ خلاف کی دیہی کا
ڈھال کے سانچے میں صانع نے وہ ترکیب بنائی ہے
نسبت کیا ان لوگوں سے ہم کو شہری ہیں دیوانے ہم
ہے فرہاد اک آدم کوہی مجنوں اک صحرائی ہے
ہے پتھر سا چھاتی میں میری کثرت غم کی حیرت سے
کیا کہیے پہلو سے دل کے سخت اذیت پائی ہے
باغ میں جاکر ہم جور ہے سو اور دماغ آشفتہ ہوا
کیا کیا سر پہ ہمارے آ کر بلبل شب چلائی ہے
کیسا کیسا عجز ہے اپنا کیسے خاک میں ملتے ہیں
کیا کیا ناز و غرور اس کو ہے کیا کیا بے پروائی ہے
قصہ ہم غربت زدگاں کا کہنے کے شائستہ نہیں
بے صبری کم پائی ہے پھر دور اس سے تنہائی ہے
چشمک چتون نیچی نگاہیں چاہ کی تیری مشعر ہیں
میر عبث مکرے ہے ہم سے آنکھ کہیں تو لگائی ہے
میر تقی میر

صحرا نے پھر خاک اڑائی پانی کی

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 3
ریت پہ جب تصویر بنائی پانی کی
صحرا نے پھر خاک اڑائی پانی کی
خون کی ندیاں بہہ جانے کے بعد کھلا
دونوں کے ہے بیچ لڑائی پانی کی
کشتی کب غرقاب ہوئی معلوم نہیں
آنکھوں نے تصویر بنائی پانی کی
ہم تو خون جلا کر بھوکے رہتے ہیں
کھاتے ہیں کچھ لوگ کمائی پانی کی
اس میں جتنے لوگ بھی اترے ڈوب گئے
کون بتائے اب گہرائی پانی کی
منہ میں اب تک اس کی لذت باقی ہے
جو نمکینی تھی صحرائی پانی کی
میری خاطر خاک میں جو تحلیل ہوئے
یاد آئے تو یاد نہ آئی پانی کی
آج وہ مجھ کو ٹوٹ کے یاد آیا توقیر
آنکھوں میں پھر رت گدرائی پانی کی
توقیر عباس