ٹیگ کے محفوظات: صحراؤں

سُکھ کی شِیرِینی کو چیونٹیاں چاٹتی ہیں چِنتاؤں کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
شہر کی ناآسودگیاں اور اُجڑی یادیں گاؤں کی
سُکھ کی شِیرِینی کو چیونٹیاں چاٹتی ہیں چِنتاؤں کی
آمر آمر کے سائے میں خلقِ خدا نے پنپنا کیا
رات کی رانی پلنے لگی ہے کوُکھ میں کب صحراؤں کی
وہ بھی کسی کسی بختاور کے حصے میں آتی ہے
آخر کو سرہانے سجتی ہے جو تختی ناؤں کی
کھیل میں بد خُلقی کے ناتے وہ کہ ہے جو شہ زور بنا
زِچ لگتا ہے کیا کیا،کوشش کرتے آخری داؤں کی
بھلے وہ حق میں ہو اولاد کے، خالص اور پوِتّر بھی
پھولنے پھلنے پائی ہے کب چاہت بیوہ ماؤں کی
ہم کہ جنموں کے ہیں مسافر مغوی طیّاروں کے،ہمیں
جانے کیا کیا باقی ہے ملنی تعزِیر خطاؤں کی
بادلوں میں بھی دیکھو ماجِد ابکے یہ کیا پھوٹ پڑی
چھائے دشت نوردوں کے سر ٹُکڑی ٹُکڑی چھاؤں کی
ماجد صدیقی

تمنا کی تصور زاد دنیاؤں میں رہنا ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 48
کہیں چھاؤں نہیں لیکن ہمیں چھاؤں میں رہنا ہے
تمنا کی تصور زاد دنیاؤں میں رہنا ہے
ہمیں اگلا سفر شاید کہ لا محدود کر دے گا
وہاں تک اک نہ اک زنجیر کو پاؤں میں رہنا ہے
مناسب ہے ان آنکھوں کا بہا دینا سرابون میں
کہ آخر عمرِ بےمعنی کے صحراؤں میں رہنا ہے
یہی ہم پر کُھلا، ردِّ عقیدہ بھی عقیدہ ہے
کلیساؤں سے باہر بھی کلیساؤں میں رہنا ہے
ہُوا اک بار پھر ناکام منصوبہ بغاوت کا
ابھی اُس کشتِ زارِ جبر کے گاؤں میں رہنا ہے
گرفت ریگ سے کچھ کربلائیں تم بنا لو گے!
رواں رہنے کا پھر بھی عزم دریاؤں میں رہنا ہے
آفتاب اقبال شمیم