ٹیگ کے محفوظات: صبر

کہ بیتاب دل کی بنا صبر ہے

دیوان پنجم غزل 1748
کوئی نام اس کا نہ لو جبر ہے
کہ بیتاب دل کی بنا صبر ہے
نہ سوز جگر خاک میں بھی گڑا
موئے پر پرآتش مری قبر ہے
گلستاں کے ہیں دونوں پلے بھرے
بہار اس طرف اس طرف ابر ہے
جو درویش پہنے ہے ببری لباس
تو پھر عینہٖ شیر ہے ببر ہے
در کعبہ پر کفر بکتا ہے میر
مسلماں نہیں وہ کہن گبر ہے
میر تقی میر