ٹیگ کے محفوظات: صاف

جا بیٹھیں میکدے میں مسجد سے اٹھ کے صاف اب

دیوان سوم غزل 1104
ماہ صیام آیا ہے قصد اعتکاف اب
جا بیٹھیں میکدے میں مسجد سے اٹھ کے صاف اب
مسلم ہیں رفتہ رو کے کافر ہیں خستہ مو کے
یہ بیچ سے اٹھے گا کس طور اختلاف اب
جو حرف ہیں سو ٹیڑھے خط میں لکھے ہیں شاید
اس کے مزاج میں ہے کچھ ہم سے انحراف اب
مجرم ٹھہر گئے ہم پھرنے سے ساتھ تیرے
بہتر ہے جو رکھے تو اس سے ہمیں معاف اب
گو لگ گیا گلے میں مت کھینچ تیغ مجھ پر
اپنے گنہ کا میں تو کرتا ہوں اعتراف اب
کیا خاک میں ملاکر اپنے تئیں موا ہے
پیدا ہو گورمجنوں تو کیجیے طواف اب
کھنچتے ہیں جامے خوں میں کن کن کے میر دیکھیں
لگتی ہے سرخ اس کے دامن کے تیں سنجاف اب
میر تقی میر

راستی یہ ہے کہ وعدے ہیں تمھارے سب خلاف

دیوان اول غزل 249
آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف
راستی یہ ہے کہ وعدے ہیں تمھارے سب خلاف
آہ برچھی سی لگی تھی تیر سی دل کی طپش
ہجر کی شب مجھ پہ گذری غیرت روز مصاف
ایک دن میں نے لکھا تھا اس کو اپنا درد دل
آج تک جاتا نہیں سینے سے خامے کے شگاف
پائوں پر سے اپنے میرا سر اٹھانے مت جھکو
تیغ باندھی ہے میاں تم نے کمر میں خوش غلاف
صف الٹ جا عاشقوں کی گر ترے ابرو ہلیں
ایک دم تلوار کے چلنے میں ہووے ملک صاف
شیخ مت روکش ہو مستوں کا تو اس جبے اپر
لیتے استنجے کو ڈھیلا تیری ٹل جاتی ہے ناف
عشق کے بازار میں سودا نہ کیجو تو تو میر
سر کو جب واں بیچ چکتے ہیں تو یہ ہے دست لاف
میر تقی میر

پھر آنسوئوں کا وہ اسراف کر رہا ہے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 437
دریچے یاد کے شفاف کر رہا ہے کوئی
پھر آنسوئوں کا وہ اسراف کر رہا ہے کوئی
نکھرتی جاتی ہے شبنم اداس آنکھوں میں
کسی گلاب کو سی آف کر رہا ہے کوئی
گرا رہے ہیں در و بام چند بلڈوزر
سنا ہے شہر مرا ، صاف کر رہا ہے کوئی
بتا رہا ہے بدن کی نزاکتوں کا ناپ
بیان حسن کے اوصاف کر رہا ہے کوئی
بڑھا رہا ہے سرِشام وصل کی خواہش
وہ روشنی کا سوئچ آف کر رہا ہے کوئی
وہ لکھ رہا ہے کہ کرنا ہے رات کو کیا کیا
شبِفراق کا اصراف کر رہا ہے کوئی
بڑھارہا ہے محبت کے وائرس منصور
شبِ وصال سے انصاف کر رہا ہے کوئی
منصور آفاق