ٹیگ کے محفوظات: شیر

بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 17
منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا
بات کر، تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا
رات کیا سویا کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی
خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا
جس طرح بادل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے
میں نے وہ عالم بھی دیکھا ہے تری تصویر کا
کس طرح پایا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے
مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا
عشق میں سر پھوڑنا بھی کیا کہ یہ بے مہر لوگ
جوئے خوں کو نام دے دیتے ہیں جوئے شیر کا
جس کو بھی چاہا اسے شدت سے چاہا ہے فراز
سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا
احمد فراز

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 82
نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
کاوکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا
جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
بس کہ ہوں غالب، اسیری میں بھی آتش زیِر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

سفک دم میں میرے اب کیا دیر ہے

دیوان ششم غزل 1878
میں ہوں تو ہے درمیاں شمشیر ہے
سفک دم میں میرے اب کیا دیر ہے
خضر دشت عشق میں مت جا کہ واں
ہر قدم مخدوم خوف شیر ہے
راہ تک تک کر ہوئے ہیں جاں بہ لب
پر وہی اب تک بھی یاں اوسیر ہے
جو گرسنہ دل تھا اس دیدار کا
اپنے جینے ہی سے وہ اب سیر ہے
کچھ نہیں جاں ان کے پیش تار مو
گھر میں شمعی رنگوں کے اندھیر ہے
پاک ہی ہوتی رہی کشتی خلق
ہر زبردست اس جواں کا زیر ہے
طائروں نے گل فشاں کی میری گور
سامنے پھولوں کا گویا ڈھیر ہے
آشنا ڈوبے بہت اس دور میں
گرچہ جامہ یار کا کم گھیر ہے
آنچل اس دامن کا ہاتھ آتا نہیں
میر دریا کا سا اس کا پھیر ہے
میر تقی میر

ایسا نہ ہو کہ کام ہی اس کا اخیر ہو

دیوان دوم غزل 919
ہر صبح شام تو پئے ایذاے میر ہو
ایسا نہ ہو کہ کام ہی اس کا اخیر ہو
ہو کوئی بادشاہ کوئی یاں وزیر ہو
اپنی بلا سے بیٹھ رہے جب فقیر ہو
جنت کی منت ان کے دماغوں سے کب اٹھے
خاک رہ اس کی جن کے کفن کا عبیر ہو
کیا یوں ہی آب و تاب سے ہو بیٹھیں کار عشق
سوکھے جگر کا خوں تو رواں جوے شیر ہو
چھاتی قفس میں داغ سے ہو کیوں نہ رشک باغ
جوش بہار تھا کہ ہم آئے اسیر ہو
یاں برگ گل اڑاتے ہیں پرکالۂ جگر
جا عندلیب تو نہ مری ہم صفیر ہو
اس کے خیال خط میں کسے یاں دماغ حرف
کرتی ہے بے مزہ جو قلم کی صریر ہو
زنہار اپنی آنکھ میں آتا نہیں وہ صید
پھوٹا دوسار جس کے جگر میں نہ تیر ہو
ہوتے ہیں میکدے کے جواں شیخ جی برے
پھر درگذر یہ کرتے نہیں گوکہ پیر ہو
کس طرح آہ خاک مذلت سے میں اٹھوں
افتادہ تر جو مجھ سے مرا دستگیر ہو
حد سے زیادہ جور و ستم خوشنما نہیں
ایسا سلوک کر کہ تدارک پذیر ہو
دم بھر نہ ٹھہرے دل میں نہ آنکھوں میں ایک پل
اتنے سے قد پہ تم بھی قیامت شریر ہو
ایسا ہی اس کے گھر کو بھی آباد دیکھیو
جس خانماں خراب کا یہ دل مشیر ہو
تسکین دل کے واسطے ہر کم بغل کے پاس
انصاف کریے کب تئیں مخلص حقیر ہو
یک وقت خاص حق میں مرے کچھ دعا کرو
تم بھی تو میر صاحب و قبلہ فقیر ہو
میر تقی میر

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

دیوان اول غزل 523
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
جن کی خاطر کی استخواں شکنی
سو ہم ان کے نشان تیر ہوئے
نہیں آتے کسو کی آنکھوں میں
ہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے
آگے یہ بے ادائیاں کب تھیں
ان دنوں تم بہت شریر ہوئے
اپنے روتے ہی روتے صحرا کے
گوشے گوشے میں آب گیر ہوئے
ایسی ہستی عدم میں داخل ہے
نے جواں ہم نہ طفل شیر ہوئے
ایک دم تھی نمود بود اپنی
یا سفیدی کی یا اخیر ہوئے
یعنی مانند صبح دنیا میں
ہم جو پیدا ہوئے سو پیر ہوئے
مت مل اہل دول کے لڑکوں سے
میر جی ان سے مل فقیر ہوئے
میر تقی میر

شیر

میرے نال دے استاداں

اپنی عزت اپنی تھاں دا

حق منگن لئی

کیتی اج ہڑتاں

کالج دے منڈیاں دا آگو

استاداں دے جتھے دے وچ

ترپدا ترپدا آیا

تے آندیاں ائی

اُچی اچی آکھن لگا

ساڈیاں نمبراں ساڈیاں لیکچراں وچ

رعایت دا اعلان

جے نیئیں او کردے

تے فیر بھلکے

اسیں تہاڈیاں

ٹنگاں بانہواں بھن دیواں گے

اُس آگو مُنڈے توں ہٹ کے

اوہدے نال دے ائی دومنڈے

آکھ رے سن

’’ویکھو ساڈے شیر دے سنگھ چ

؁کیہدا پیسہ چھنک رہیا اے‘‘

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)