ٹیگ کے محفوظات: شیدائی

انجمن میں کھا گیا احساسِ تنہائی مجھے

یہ ہُوا مانع کسی کا پاسِ رُسوائی مجھے
انجمن میں کھا گیا احساسِ تنہائی مجھے
اے دیارِ حسن! لے آئی تھی امّیدِ وفا
تیری دنیا میں وہی عنقا نظر آئی مجھے
زندگی بھر ٹھوکریں تھیں مَر کے زیبِ دوش ہُوں
مل گئے کیسے اچانک اتنے شیدائی مجھے
وہ جنوں پَروَر تھے یہ عقدہ تَو آخر میں کھُلا
کر گئی دَر گور ناصح تیری دانائی مجھے
حسن کی پیہم ادائے ناز پر قدغن نہیں
دیتے ہیں ضامنؔ سبھی درسِ شکیبائی مجھے
ضامن جعفری