ٹیگ کے محفوظات: شہنائیاں

جینا ابھی دے گا مجھے رسوائیاں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
دھچکے ابھی کتنے ہیں ابھی کھائیاں کیا کیا
جینا ابھی دے گا مجھے رسوائیاں کیا کیا
کچھ قطعِ رگِ جان سے، کچھ قُلقُلِ خوں سے
بجتی ہیں محلّات میں شہنائیاں کیا کیا
خود نام پہ دھبے ہیں جو، ہاں نام پہ اُن کے
ہوتی ہیں یہاں انجمن آرائیاں کیا کیا
قوسوں میں فلک کی، خمِ ابرو میں ہَوا کے
دیکھی ہیں یہاں خلق نے دارائیاں کیا کیا
جو چھید ہوئے تھے کبھی دامانِ طلب میں
دیں دستِ غضب نے اُنہیں، پہنائیاں کیا کیا
ہٹ کر بھی ہمیں پرورشِ جان سے ماجد
کرنی ہیں بہم اور توانائیاں کیا کیا
ماجد صدیقی

تتلیوں پھولوں کی بزم آرائیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
پت جھڑوں میں کیا سے کیا یاد آئیاں
تتلیوں پھولوں کی بزم آرائیاں
آئنے چہروں کے گرد آلود ہیں
پانیوں پر جم چلی ہیں کائیاں
مفلسی ٹھہرے جہاں پا زیبِ پا
ان گھروں میں کیا بجیں شہنائیاں
مکر سے عاری ہیں جو اپنے یہاں
عیب بن جاتی ہیں وہ دانائیاں
جو نہ جانیں بے دھڑک منہ کھولنا
ہیں اُنہی کے نام سب رسوائیاں
خلق میں ماجدؔ ہو نا مقبول اور
اور لا شعروں میں تُو پہنائیاں
ماجد صدیقی