ٹیگ کے محفوظات: شہسوار

گلاب رکھ کے کتابوں میں یار، بُھول گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
نصابِ ربط کے نقش و نگار بُھول گئے
گلاب رکھ کے کتابوں میں یار، بُھول گئے
گھروں سے لے کے گھروں تک انا و نخوت کی
اُڑی وہ گرد کہ چہرے نکھار بُھول گئے
ہوائے تُند نے جھٹکے کچھ اس طرح کے دئیے
ہمارا کس پہ تھا کیا اختیار؟ بُھول گئے
جنہیں گماں تھا نمو اُن تلک بھی پہنچے گی
وہ کھیت مرحلۂ انتظار، بُھول گئے
نہ جان پائے کہ مچلے گا، پُھول چہروں میں
یہ ہم کہ خوئے دلِ نابکار، بُھول گئے
قدم کدھر کو ،ارادے کدھر کے تھے اُن کے
یہ بات رن میں سبھی شہسوار، بُھول گئے
فضائے تخت ثمر بار دیکھ کر ماجدؔ
جو روگ شہر کو تھے، شہریار، بُھول گئے
ماجد صدیقی

وہ حوصلہ رہا نہیں صبر و قرار کا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 19
اک خوشی ہو گئی ہے تحمل کی ورنہ اب
وہ حوصلہ رہا نہیں صبر و قرار کا
آؤ مٹا بھی دو خلش آرزوئے قتل
کیا اعتبار زندگی مستعار کا
سمجھو مجھے اگر ہے تمہیں آدمی کی قدر
میرا اک التفات نہ مرنا ہزار کا
گر صبح تک وفا نہ ہوا وعدہ وصال
سن لیں گے وہ مآل شب انتظار کا
ہر سمت گرد ناقۂ لیلیٰ بلند ہے
پہنچے جو حوصلہ ہو کسی شہسوار کا
حالیؔ بس اب یقین ہے کہ دلی کے ہو رہے
ہے ذرہ ذرہ مہر فزا اس دیار کا
الطاف حسین حالی