ٹیگ کے محفوظات: شہروں

اب کے برف بہت پگھلی ہے خیر مناؤ شہروں کی

تم بھی دیکھ رہے ہو صورت دریاؤں اور نہروں کی
اب کے برف بہت پگھلی ہے خیر مناؤ شہروں کی
جانے اِن میں سے کب کوئی اپنا کام دِکھا جائے
دل میں اک دکان لگی ہے رنگ برنگے زہروں کی
کوئی کام کی بات کرے تو ہم سو بار سنیں ورنہ
بہتر ہے بہرے بن جائیں اک نہ سنیں بے بہروں کی
آخر ہم کو بھی اک دن دریا میں اترنا ہے باصرؔ
سو اِن روزوں دیکھ رہے ہیں کیا صورت ہے لہروں کی
باصر کاظمی

بنی ہے تتلی مری خواہشوں کے پھولوں کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
وہی کہ جس کی مجھے جستجو تھی برسوں کی
بنی ہے تتلی مری خواہشوں کے پھولوں کی
سفر میں گرچہ دُعائیں بھی کچھ تھیں شاملِ حال
نگاہِ بد بھی ہمِیں پر لگی تھی لوگوں کی
بھگوئے رکھتے ہیں یوں ریگِ آرزو ہم بھی
کہ جیسے شغل ہی تعمیر ہو گھروندوں کی
پڑاؤ ہو تو کہیں ہم بھی تازہ دم ہو لیں
ہُوا لباس ہی جیسے یہ گرد رستوں کی
ملے گا اب کسی طوفاں کے بعد ٹھہراؤ
بہت دنوں سے مکّدر فضا ہے شہروں کی
کچھ ایسے رُک سا گیا عہدِ بے بسی جیسے
جمی ہے لمحوں کے چہروں پہ گرد صدیوں کی
بیان کیا ہو کہ ماجدؔ جھلک تھی کیا اس کی
وہ تازگی تھی کہ کھیتی ہو جیسے سرسوں کی
ماجد صدیقی