ٹیگ کے محفوظات: شہرت

صاحبا! خاک نشینوں کو فراغت کیسی

کربلا نقش ہے سینوں میں ، اذیّت کیسی
صاحبا! خاک نشینوں کو فراغت کیسی
میں نہ یوسفؑ نہ مسیحائی کے فن میں یکتا
پھر یہ کم بخت مرے نام کی شہرت کیسی؟
میرؔ سے، جونؔ سے نسبت کا اثر ہے صاحب!
میں اگر شعر سناتا ہوں تو حیرت کیسی؟
اِس سے صحرا کی جلالت میں کمی آتی ہے
ساتھ لائے ہو مرے یار یہ وحشت کیسی؟
مذہبِ حُسن و محبت کے شفا خانوں پر
مے کشو! جام اُٹھانے کی اجازت کیسی؟
میں فلکؔ زاد، بلا نوش تری مرضی پر
آسماں چھوڑ کے آتا ہوں تو عجلت کیسی؟
افتخار فلک

میری وحشت تری شہرت ہی سہی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 203
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
میری وحشت تری شہرت ہی سہی
قطع کیجے نہ تعلّق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی
اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی
ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
غیر کو تجھ سے محبّت ہی سہی
اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
عمر ہر چند کہ ہے برق خرام
دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی
ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیں
نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی
کچھ تو دے اے فلکِ نا انصاف
آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی
ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
بے نیازی تری عادت ہی سہی
یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ
گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
مرزا اسد اللہ خان غالب

دار پر جاؤ مگر اوروں کی دعوت پہ نہ جاؤ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 9
اپنی وحشت کی سنو اذن و اجازت پہ نہ جاؤ
دار پر جاؤ مگر اوروں کی دعوت پہ نہ جاؤ
کتنے ہی دشت و دمن مجھ میں پڑے پھرتے ہیں
صاحبو‘ کوہکن و قیس کی شہرت پہ نہ جاؤ
لاکھ راس آئے مگر کام ہے نادانی کا
تم مرے ماحصلِ کارِ محبت پہ نہ جاؤ
ظرفِ منعم سے بڑا ہے مرا دامانِ طلب
اپنی زر مہریں گنو میری ضرورت پہ نہ جاؤ
اور اک جست میں دیوار سے ٹکرائے گا سر
قید پھر قید ہے زنجیر کی وسعت پہ نہ جاؤ
ہوُ کے صحراؤں میں ان لوگوں کی یاد آتی ہے
ہم سے گھر میں بھی جو کہتے تھے کھلی چھت پہ نہ جاؤ
عرفان صدیقی