ٹیگ کے محفوظات: شکیبائی

انجمن میں کھا گیا احساسِ تنہائی مجھے

یہ ہُوا مانع کسی کا پاسِ رُسوائی مجھے
انجمن میں کھا گیا احساسِ تنہائی مجھے
اے دیارِ حسن! لے آئی تھی امّیدِ وفا
تیری دنیا میں وہی عنقا نظر آئی مجھے
زندگی بھر ٹھوکریں تھیں مَر کے زیبِ دوش ہُوں
مل گئے کیسے اچانک اتنے شیدائی مجھے
وہ جنوں پَروَر تھے یہ عقدہ تَو آخر میں کھُلا
کر گئی دَر گور ناصح تیری دانائی مجھے
حسن کی پیہم ادائے ناز پر قدغن نہیں
دیتے ہیں ضامنؔ سبھی درسِ شکیبائی مجھے
ضامن جعفری

کُھل گیا پَل میں بھَرَم دعویِٰ دانائی کا

دیکھا ناصح نے جو رُخ اُس بتِ ہرجائی کا
کُھل گیا پَل میں بھَرَم دعویِٰ دانائی کا
مشعلِ راہِ جنوں مَسلکِ اربابِ وفا
مُستَنَد فیصلہ ٹھہرا ترے سودائی کا
جاں کَنی میں یہ مریضِ غمِ ہجراں کا سکوت
امتحاں ہے ترے دعوائے مسیحائی کا
وہ نگاہِ غَلَط اَنداز جھُکی پھِر نہ اُٹھی
پہلوئے حُسن غَضَب تھا یہ پذیرائی کا
اَے نگاہِ غلَط انداز و قیامت آثار
دِل ہے ممنون تِری حَوصلہ اَفزائی کا
گو مرے نام سے رَغبَت نہ تھی اُن کو ضامنؔ
ذکر سُنتے رہے یارائے شکیبائی کا
ضامن جعفری

شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی

ترے خیال سے لو دے اُٹھی ہے تنہائی
شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی
تو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی
اُنھیں بھی دیکھ جنھیں راستے میں نیند آئی
پکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب
بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی
ٹھہر گئے ہیں سرِ راہ خاک اُڑانے کو
مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی
رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لیے
یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی
یہ سانحہ بھی محبت میں بارہا گزرا
کہ اُس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی
دلِ فسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اُٹھا
یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی
میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا
تمام رات ترے پہلوئوں سے آنچ آئی
جہاں بھی تھا کوئی فتنہ تڑپ کے جاگ اُٹھا
تمام ہوش تھی مستی میں تیری انگڑائی
کھلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا
وہ لوگ تھے نہ وہ جلسے نہ شہرِ رعنائی
وہ تابِ درد وہ سودائے انتظار کہاں
اُنھی کے ساتھ گئی طاقتِ شکیبائی
پھر اُس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصرؔ
بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی
ناصر کاظمی

سلسلے عرش تلک حسنِ پذیرائی کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 573
وہ تعلق ہیں زمیں زاد سے دانائی کے
سلسلے عرش تلک حسنِ پذیرائی کے
میرے سینے سے بھی دھڑکن کی صدا اٹھی تھی
اس کی آنکھوں میں بھی تھے عکس شناسائی کے
حرف نے باندھ رکھا ہے کوئی پاؤں سے سروش
مجھ پہ ہیں کشفِ مسلسل سخن آرائی کے
بادلوں سے بھی ٹپکتی ہیں لہو کی بوندیں
دیکھ لو چارہ گرو زخم مسیحائی کے
سیٹیاں بجتی ہیں بس کان میں سناٹوں کی
رابطے مجھ سے زیادہ نہیں تنہائی کے
روشنی اتنی چراغِ لب و رخ سے نکلی
ختم یک لخت ہوئے سلسلے بینائی کے
آخرش میں نے بھی تلوار اٹھا لی منصور
حوصلہ ختم ہوئے میری شکیبائی کے
منصور آفاق