ٹیگ کے محفوظات: شکیبائی

سلسلے عرش تلک حسنِ پذیرائی کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 573
وہ تعلق ہیں زمیں زاد سے دانائی کے
سلسلے عرش تلک حسنِ پذیرائی کے
میرے سینے سے بھی دھڑکن کی صدا اٹھی تھی
اس کی آنکھوں میں بھی تھے عکس شناسائی کے
حرف نے باندھ رکھا ہے کوئی پاؤں سے سروش
مجھ پہ ہیں کشفِ مسلسل سخن آرائی کے
بادلوں سے بھی ٹپکتی ہیں لہو کی بوندیں
دیکھ لو چارہ گرو زخم مسیحائی کے
سیٹیاں بجتی ہیں بس کان میں سناٹوں کی
رابطے مجھ سے زیادہ نہیں تنہائی کے
روشنی اتنی چراغِ لب و رخ سے نکلی
ختم یک لخت ہوئے سلسلے بینائی کے
آخرش میں نے بھی تلوار اٹھا لی منصور
حوصلہ ختم ہوئے میری شکیبائی کے
منصور آفاق