ٹیگ کے محفوظات: شکوہ

فرطِ محرومی سے اپنے آپ کو رسوا کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
کس لئے غیروں کی کشتِ صید میں جھانکا کروں
فرطِ محرومی سے اپنے آپ کو رسوا کروں
ایک ننّھا ہے مرے جی میں بھی شوخ و شنگ سا
پا سکوں فرصت تو اُس کا حال بھی پوچھا کروں
محوِ خوابِ استراحت شہر کا والی رہے
رات بھر اندیشۂ دُزداں سے میں کھانسا کروں
ذوق پابند وسائل ہے جو اتنا ہی تو پھر
کیوں نہ چھلکے بھی پھلوں کے ساتھ اب کھایا کروں
حیف ہے اُس شوخ کی موجودگی میں بھی اگر
خشکئِ آب و ہوائے دہر کا شکوہ کروں
گُل کھلا دیکھوں کوئی ماجد تو جُوں بادِ سحر
کیوں نہ سارے گلستان میں اُس کا میں چرچا کروں
ماجد صدیقی

خود سے بہتر شہر کے لوگوں کو دیکھا کیجئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 63
حسرتیں اپنی جگانے گھر سے نکلا کیجئے
خود سے بہتر شہر کے لوگوں کو دیکھا کیجئے
بخت اُلٹے ہیں تو ہر نعمت سے کیجے احتراز
دھوپ سے محروم گھر ہی میں گزارا کیجئے
ہاتھ پاؤں مارئیے مقدور سے بڑھ کر یہاں
نرخ صَرفِ خوں سے ہی کچھ اپنا بالا کیجئے
گانٹھ کر انسان سے رشتہ حصولِ رزق کا
ہر کسی کا منہ پئے الطاف دیکھا کیجئے
اپنے حق میں لفظ بھی اِن کے غنیمت جانئے
دوستوں کی بات سے معنی نہ پیدا کیجئے
یوں نہ ہو ماجدؔ یہ ذکرِ درد اِک تہمت بنے
اِس قدر بھی نارسائی کا نہ شکوہ کیجئے
ماجد صدیقی