ٹیگ کے محفوظات: شکل

ڈرتا ہوں دوسروں کے عمل دخل سے بہت

اُمّیدِ انتظام تو ہے عقل سے بہت
ڈرتا ہوں دوسروں کے عمل دخل سے بہت
مت بدگمان ہو جو تجھے دیکھتا ہوں میں
مِلتی ہے تیری شکل کسی شکل سے بہت
قسمت شبِ فِراق کی یونہی نہیں کھلی
شکوے ہیں عاشقوں کو شبِ وصل سے بہت
جن کی اَدائے حُسن کی اب شہر میں ہے دھُوم
پہنچا ہے اُن کو فیض تِری نقل سے بہت
دیکھا دلِ خموش نے تختہ اُلٹ دیا
لینے لگے تھے کام ذرا عقل سے بہت
باصر کاظمی

نہ جب مشکل سمجھتے تھے نہ اب شکل سمجھتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 78
ہم اہلِ عشق آساں عشق کی منزل سمجھتے ہیں
نہ جب مشکل سمجھتے تھے نہ اب شکل سمجھتے ہیں
ہم اس مشکل سے بچنا ناخدا مشکل سمجھتے ہیں
ادھر طوفان ہوتا ہے جدھر ساحل سمجھتے ہیں
یہ کہہ دے دل کی مجبوری ہمیں اٹھنے نہیں دیتی
اشارے ورنہ ہم اے بانیِ محفل سمجھتے ہیں
تعلق جب نہیں ہے آپ کی محفل میں کیوں آؤں
مجھے سرکار کیا پروانۂ محفل سمجھتے ہیں
ہماری وضع داری ہے جو ہم خاموش ہیں ورنہ
یہ رہزن ہی جنھیں ہم رہبرِ منزل سمجھتے ہیں
قمر جلالوی