ٹیگ کے محفوظات: شکایات

کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 68
نم ہیں پلکیں تری اے موجِ ہَوا، رات کے ساتھ
کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھ
روٹھنے اور منانے کی حدیں ملنے لگیں
چشم پوشی کے سلیقے تھے، شکایات کے ساتھ
تجھ کو کھو کر بھی رہوں ،خلوتِ جاں میں تیری
جیت پائی ہے محبت نے عجب،مات کے ساتھ
نیند لاتا ہُوا،پھر آنکھ کو دُکھ دیتا ہُوا
تجربے دونوں ہیں وابستہ ہات کے ساتھ
کبھی تنہائی سے محروم نہ رکھّا مُجھ کو
دوست ہمدرد ہے،کتنے ،مری ذات کے ساتھ
پروین شاکر

لے اڑی جانے کہاں صرصرِ حالات ہمیں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 44
اب میسّر نہیں فرصت کے وہ دن رات ہمیں
لے اڑی جانے کہاں صرصرِ حالات ہمیں
آج وہ یوں نگہِ شوق سے بچ کر گزرے
جیسے یاد آئے کوئی بھولی ہوئی بات ہمیں
کیسے اڑتے ہوئے لمحوں کا تعاقب کیجے
دوستو اب تو یہی فکر ہے دن رات ہمیں
نہ سہی کوئی، ہجومِ گل و لالہ نہ سہی
دشت سے کم بھی نہیں کنجِ خیالات ہمیں
وہ اگر غیر نہ سمجھے تو کوئی بات کریں
دلِ ناداں سے بہت سی ہیں شکایات ہمیں
دھوپ کی لہر ہے تو، سایۂِ دیوار ہیں ہم
آج بھی ایک تعلق ہے ترے سات ہمیں
رنگ و مستی کے جزیروں میں لیے پھرتے ہیں
اس کی پائل سے چرائے ہوئے نغمات ہمیں
شکیب جلالی