ٹیگ کے محفوظات: شکار

ہاں مِلے گر تو یوں وقار مِلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
شیر کی کھال مستعار مِلے
ہاں مِلے گر تو یوں وقار مِلے
تھے وہ درباریوں کے چھوڑے ہوئے
جو پرندے پئے شکار مِلے
ڑُخ بہ رُخ چاہے گردِ جَور سجے
تخت کو اور بھی نکھار ملے
جو بھی ہے دردمندِ خلق اُس کو
اور کیا جُز فرازِ دار مِلے
جو خلافِ فرعون اُٹّھی تھی
لب بہ لب کیوں وہی پُکار مِلے
کاسہ لیسوں میں اک سے اک تازہ
جو ملے وہ وفا شعار مِلے
وہ جو لائے بقائے حفظِ عوام
کون ماجِد کو ایسا یار مِلے
ماجد صدیقی

کہ دم بہ دم ہے بہاروں کا انتظار ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
چمن پہ ہے تو بس اِتنا سا اختیار ہمیں
کہ دم بہ دم ہے بہاروں کا انتظار ہمیں
مچلتی لُو کا فلک سے برستے ژالوں کا
نہ جانے کون سا موسم ہو ساز گار ہمیں
ہر اِک قدم پہ وہی تجربہ سکندر سا
کسی بھی خضر پہ کیا آئے اعتبار ہمیں
ذرا سا سر جو اٹھا بھی تو سیل آلے گا
یہی خبر ہے سُنائے جو، اِنکسار ہمیں
مہک تلک نہ ہماری کسی پہ کھُلنے دے
کِیا سیاستِ درباں نے یوں شکار ہمیں
جو نقش چھوڑ چلے ہم اُنہی کے ناطے سے
عزیز، جان سے جانیں گے تاجدار ہمیں
بپا جو ہو بھی تو ہو بعدِ زندگی ماجد
یہ حشر کیا ہے جلائے جو، بار بار ہمیں
ماجد صدیقی

مُنہ زور کو شکار کوئی دوسرا کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
سب منتظر ہیں وار کوئی دوسرا کرے
مُنہ زور کو شکار کوئی دوسرا کرے
وحشت ملے نہ اُس کی کبھی دیکھنے کو بھی
آنکھیں بھی اُس سے چار کوئی دوسرا کرے
ہر شخص چاہتا ہے اُسے ہو سزائے جرم
پر اُس کو سنگسار کوئی دوسرا کرے
ہاتھوں میں ہو کمان مگر تیر انتقام
اُس کے جِگر کے پار کوئی دوسرا کرے
ہو اُس کا جور ختم، سبھی چاہتے ہیں پر
یہ راہ اختیار کوئی دوسرا کرے
اعداد سب کے پاس ہیں لیکن مُصر ہیں سب
اُس کے ستم شمار کوئی دوسرا کرے
موزوں نہیں ہیں مدحِ ستم کو کچھ ایسے ہم
ماجدؔ یہ کاروبار کوئی دوسرا کرے
ماجد صدیقی

عشق کو حسن ساز گار نہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 82
دل انھیں کیا دیا قرار نہیں
عشق کو حسن ساز گار نہیں
دل کے اوپر نگاہِ یار نہیں
تیر منت کشِ شکار نہیں
اب انھیں انتظار ہے میرا
جب مجھے ان کا انتظار نہیں
شکوۂ بزمِ غیر ان سے عبث
اب انھیں اپنا اعتبار نہیں
منتظرِ شام کے رہو نہ قمر
ان کے آنے کا اعتبار نہیں
قمر جلالوی

میں تو تہِ مزار ہوں تم تو ہو مزار پر

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 44
کیونکر رکھو گے ہاتھ دلِ بے قرار پر
میں تو تہِ مزار ہوں تم تو ہو مزار پر
یہ دیکھنے، قفس میں بنی کیا ہزار پر
نکہت چلی ہے دوشِ نسیم بہار پر
گر یہ ہی جور و ظلم رہے خاکسار پر
منہ ڈھک کے روئے گا تو کسی دن مزار پر
ابرو چڑھے ہوئے ہیں دلِ بے قرار پر
دو دو کھنچی ہوئی ہیں کمانیں شکار پر
رہ رہ گئی ہیں ضعف سے وحشت میں حسرتیں
رک رک گیا ہے دستِ جنوں تار تار پر
شاید چمن میں فصلِ بہاری قریب ہے
گرتے ہیں بازوؤں سے مرے بار بار پر
یاد آئے تم کو اور پھر آئے مری وفا
تم آؤ رونے اور پھر آؤ مزار پر
کس نے کئے یہ جور، حضور آپ نے کئے
کس پر ہوئے یہ جور، دلِ بے قرار پر
سمجھا تھا اے قمر یہ تجلی انھیں کی ہے
میں چونک اٹھا جو چاندنی آئی مزار پر
قمر جلالوی

اک عبث یہ شمار ہے اماں ہاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 86
ایک ہی بار بار ہے اماں ہاں
اک عبث یہ شمار ہے اماں ہاں
ذرّہ ذرّہ ہے خود گریزانی
نظم ایک انتشار ہے اماں ہاں
ہو وہ یزداں کہ آدم و ابلیس
جو بھے خود شکار ہے اماں ہاں
وہ جو ہے جو کہیں نہیں اس کا
سب کے سینوں پہ بار ہے اماں ہاں
اپنی بے روزگارئ جاوید
اک عجب روزگار ہے اماں ہاں
شب خرابات میں تھا حشر بپا
کہ سخن ہرزہ کار ہے اماں ہاں
کیا کہوں فاصلے کے بارے میں
رہگزر ، رہگزر ہے اماں ہاں
بُھولے بُھولے سے ہیں وہ عارض و لب
یاد اب یادگار ہے اماں ہاں
جون ایلیا

نافہ دماغِ آہوئے دشتِ تتار ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 259
جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے
نافہ دماغِ آہوئے دشتِ تتار ہے
کس کا سرا غِ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
آیئنہ فرشِ شش جہتِ انتظار ہے
ہے ذرہ ذرہ تنگئِ جا سے غبارِ شوق
گردام یہ ہے و سعتِ صحرا شکار ہے
دل مدّعی و دیدہ بنا مدّعا علیہ
نظارے کا مقدّمہ پھر روبکار ہے
چھڑکے ہے شبنم آئینۂ برگِ گل پر آب
اے عندلیب وقتِ ود اعِ بہار ہے
پچ آپڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھے
وہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے
بے پردہ سوئے وادئِ مجنوں گزر نہ کر
ہر ذرّے کے نقاب میں دل بے قرار ہے
اے عندلیب یک کفِ خس بہرِ آشیاں
طوفانِ آمد آمدِ فصلِ بہار ہے
دل مت گنوا، خبر نہ سہی سیر ہی سہی
اے بے دماغ آئینہ تمثال دار ہے
غفلت کفیلِ عمر و اسدؔ ضامنِ نشاط
اے مر گِ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

وہی جی مارے جس کو پیار کرے

دیوان ششم غزل 1913
عشق کیا کوئی اختیار کرے
وہی جی مارے جس کو پیار کرے
غنچہ ہے سر پہ داغ سودا کا
دیکھیں کب تک یہ گل بہار کرے
آنکھیں پتھرائیں چھاتی پتھر ہے
وہ ہی جانے جو انتظار کرے
سہل وہ آشنا نہیں ہوتا
دیر میں کوئی اس کو یار کرے
کنج میں دامگہ کے ہوں شاید
صید لاغر کو بھی شکار کرے
کبھو سچے بھی ہو کوئی کب تک
جھوٹے وعدوں کو اعتبار کرے
پھول کیا میر جی کو وہ محبوب
سر چڑھاوے گلے کا ہار کرے
میر تقی میر

تو کیا رہیں گے جیتے ہم اس روزگار میں

دیوان ششم غزل 1856
گر روزگار ہے یہی ہجران یار میں
تو کیا رہیں گے جیتے ہم اس روزگار میں
کچھ ڈر نہیں جو داغ جنوں ہو گئے سیاہ
ڈر دل کے اضطراب کا ہے اس بہار میں
کیا بیقرار دل کی تسلی کرے کوئی
کچھ بھی ثبات ہے ترے عہد و قرار میں
بیتاب دل نہ دفن ہو اے کاش میرے ساتھ
رہنے نہ دے گا لاش کوئی دن مزار میں
وہ سنگ دل نہ آیا بہت دیکھی اس کی راہ
پتھرا چلی ہیں آنکھیں مری انتظار میں
تھمتا نہیں ہے رونا علی الاتصال کا
کیا اختیار گریۂ بے اختیار میں
مربوط کیسے کیسے کہے ریختے ولے
سمجھا نہ کوئی میری زباں اس دیار میں
تھی بزم شعر رات کو شاعر بہت تھے جمع
دو باتیں ہم نے ایسے نہ کیں چار چار میں
دنبالہ گردی قیس نے بہتیری کی ولے
آیا نظر نہ محمل لیلیٰ غبار میں
اب ذوق صید اس کو نہیں ورنہ پیش ازیں
اودھم تھا وحش و طیر سے اس کے شکار میں
منھ چاہیے جو کوئی کسو سے حساب لے
ناکس سے گفتگو نہیں روز شمار میں
گنتی کے لوگوں کی وہاں صف ہووے گی کھڑی
تو میر کس شمار میں ہے کس قطار میں
میر تقی میر

نیند آتی ہے دل جمعی میں سو تو دل کو قرار نہیں

دیوان ششم غزل 1852
آنکھ لگی ہے جب سے اس سے آنکھ لگی زنہار نہیں
نیند آتی ہے دل جمعی میں سو تو دل کو قرار نہیں
وصل میں اس کے روز و شب کیا خوب گذرتی تھی اپنی
ہجراں کا کچھ اور سماں ہے اب وہ لیل و نہار نہیں
خالی پڑے ہیں دام کہیں یا صید دشتی صید ہوئے
یا جس صید افگن کے لیے تھے اس کو ذوق شکار نہیں
سبزہ خط کا گرد گل رو بڑھ کانوں کے پار ہوا
دل کی لاگ اب اپنی ہو کیونکر وہ اس منھ پہ بہار نہیں
لطف عمیم اس کا ہی ہمدم کیوں نہ غنیمت جانیں ہم
ربط خاص کسو سے اسے ہو یہ تو طور یار نہیں
عشق میں اس بے چشم و رو کے طرفہ رویت پیدا کی
کس دن اودھر سے اب ہم پر گالی جھڑکی مار نہیں
مشتاق اس کے راہ گذر پر برسوں کیوں نہ بیٹھیں میر
ان نے راہ اب اور نکالی ایدھر اس کا گذار نہیں
میر تقی میر

ہم پھینک دیں اسے ترے منھ پر نثار کر

دیوان ششم غزل 1829
گل کیا جسے کہیں کہ گلے کا تو ہار کر
ہم پھینک دیں اسے ترے منھ پر نثار کر
آغوشیں جیسے موجیں الٰہی کشادہ ہیں
دریاے حسن اس کا کہیں ہم کنار کر
یاں چلتے دیر کچھ نہیں لگتی ہے میری جاں
رخت سفر کو اپنے شتابی سے بار کر
مختار رونے ہنسنے میں تجھ کو اگر کریں
تو اختیار گریۂ بے اختیار کر
مشق ستم ہوئی ہے بہت صاف یار کی
پشتے لگائے ان نے جوانوں کو مار کر
صیادی میں علوے تقدس تو اس کا دیکھ
روح القدس کو مار رکھا ہے شکار کر
بہنے لگی ہے تیغ کی جدول تو تیری تیز
دشمن کا کام وار میں پہلے ہی پار کر
میں بیقرار خاک میں کب تک ملا کروں
کچھ ملنے کا نہ ملنے کا تو بھی قرار کر
میں رفتہ میر مجلس تصویر کا گیا
تو بیٹھا میرا حشر تک اب انتظار کر
میر تقی میر

دشتی وحش و طیر آئے ہیں ہونے تیرے شکار بہت

دیوان ششم غزل 1818
باہر چلنے میں آبادی سے کر نہ تغافل یار بہت
دشتی وحش و طیر آئے ہیں ہونے تیرے شکار بہت
دعویٰ عاشق بیچارے کا کون سنے گا محشر میں
خیل ملائک واں بھی ہوں گے اس کے خاطر دار بہت
خشکی لب کی زردی رخ کی نمنا کی دو آنکھوں کی
جو دیکھے ہے کہے ہے ان نے کھینچا ہے آزار بہت
جسم کی حالت جی کی طاقت نبض سے کر معلوم طبیب
کہنے لگا جانبر کیا ہو گا یہ تو ہے بیمار بہت
چار طرف ابرو کے اشارے اس ظالم کے زمانے میں
ٹھہرے کیا عاشق بیکس یاں چلتی ہے تلوار بہت
پیش گئی نہ کچھ چاہت میں کافر و مسلم دونوں کی
سینکڑوں سبحے پھینکے گئے اور ٹوٹے ہیں زنار بہت
جی کے لگاؤ کہے سے ہم نے جی ہی جاتے دیکھے ہیں
اس پہ نہ جانا آہ برا ہے الفت کا آزار بہت
کس کو دماغ سیر چمن ہے کیا ہجراں میں واشد ہو
کم گلزار میں اس بن جاکر آتا ہوں بیزار بہت
میر دعا کر حق میں میرے تو بھی فقیر ہے مدت سے
اب جو کبھو دیکھوں اس کو تو مجھ کو نہ آوے پیار بہت
میر تقی میر

دور سے دیکھتے ہی پیار آیا

دیوان ششم غزل 1799
دیر بدعہد وہ جو یار آیا
دور سے دیکھتے ہی پیار آیا
بیقراری نے مار رکھا ہمیں
اب تو اس کے تئیں قرار آیا
گرد رہ اس کی اب اٹھو نہ اٹھو
میری آنکھوں ہی پر غبار آیا
اک خزاں میں نہ طیر بھی بولا
میں چمن میں بہت پکار آیا
ہار کر میں تو کاٹتا تھا گلا
وہ قماری گلے کا ہار آیا
طائر عمر کو نظر میں رکھ
غیب سے ہاتھ یہ شکار آیا
موسم آیا تو نخل دار میں میر
سر منصور ہی کا بار آیا
میر تقی میر

دل کلیجے کے پار ہوتا ہے

دیوان پنجم غزل 1771
نالہ جب گرم کار ہوتا ہے
دل کلیجے کے پار ہوتا ہے
مار رہتا ہے اس کو آخرکار
عشق کو جس سے پیار ہوتا ہے
سب مزے درکنار عالم کے
یار جب ہم کنار ہوتا ہے
دام گہ کا ہے اس کے عالم اور
ایک عالم شکار ہوتا ہے
بے قراری ہو کیوں نہ چاہت میں
ہم دگر کچھ قرار ہوتا ہے
جبر ہے قہر ہے قیامت ہے
دل جو بے اختیار ہوتا ہے
راہ تکتے ہی بیٹھیں ہیں آنکھیں
اس کا جب انتظار ہوتا ہے
شاخ گل لچکے ہے تو جانوں ہوں
جلوہ گر یوں ہی یار ہوتا ہے
کس کو پوچھے ہے کوئی دنیا میں
دیر یاں اعتبار ہوتا ہے
آہ کس جاے بار کھولا میر
یاں تو جینا بھی بار ہوتا ہے
میر تقی میر

کیا کچھ نہ ہم بھی دیکھ چکے ہجر یار میں

دیوان پنجم غزل 1695
آنکھیں سفید دل بھی جلا انتظار میں
کیا کچھ نہ ہم بھی دیکھ چکے ہجر یار میں
دنیا میں ایک دو نہیں کرتا کوئی مقام
جو ہے رواروی ہی میں ہے اس دیار میں
دیکھی تھیں ایک روز تری مست انکھڑیاں
انگڑائیاں ہی لیتے ہیں اب تک خمار میں
اخگر تھا دل نہ تھا مرا جس سے تہ زمیں
لگ لگ اٹھی ہے آگ کفن کو مزار میں
بے دم ہیں دام گاہ میں اک دم تو چل کے دیکھ
سنتے ہیں دم نہیں کسی تیرے شکار میں
محمل کے تیرے گرد ہیں محمل کئی ہزار
ناقہ ہے ایک لیلیٰ کا سو کس قطار میں
شور اب چمن میں میری غزل خوانی کا ہے میر
اک عندلیب کیا ہے کہوں میں ہزار میں
میر تقی میر

آندھی سی آوے نکلے کبھو جو غبار دل

دیوان پنجم غزل 1673
ہر لحظہ ہے کدورت خاطر سے بار دل
آندھی سی آوے نکلے کبھو جو غبار دل
تربندی خشک بندی نمک بندی ہوچکی
بے ڈول پھیلتا سا چلا ہے فگار دل
جوں رنگ لائے سیب ذقن باغ حسن میں
ووں ہیں ریاض عشق میں صد چاک انار دل
باہر ہیں حد و حصر سے کھینچے جو غم الم
کیا ہوسکے حساب غم بے شمار دل
لاکھوں جتن کیے نہ نبھی دل سے یار کے
اس کا جفا شعار وفا ہے شعار دل
اس کی گلی میں صبح دلوں کا شکار تھا
نکلا ہزار ناز سے بہر شکار دل
کیا میر پھر ثبات سے رو سوے دل کریں
ایسے نہیں گئے ہیں سکون و قرار دل
میر تقی میر

کرتے ہیں دوڑ نت ہی تماشاے یار الگ

دیوان پنجم غزل 1667
رہتے ہیں اس سے لاگ پہ ہم بے قرار الگ
کرتے ہیں دوڑ نت ہی تماشاے یار الگ
تھا گرد بوے گل سے بھی دامن ہوا کا پاک
کیا اب کے اس چمن سے گئی ہے بہار الگ
پاس اس کا بعد مرگ ہے آداب عشق سے
بیٹھا ہے میری خاک سے اٹھ کر غبار الگ
ناگاہ اس نگاہ سے میں بھی ہوا نہاں
جاتا ہے جوں نکل کے کسو کا شکار الگ
خونباری سے نہیں پڑی لوہو کی چھینٹ بھی
اب تک تو بارے اپنے ہیں جیب و کنار الگ
تا جانیں لوگ کشتۂ ہجراں ہیں یہ غریب
کریو تمام گوروں سے میری مزار الگ
بچتے نہیں ہیں بوزدگی سے گلوں کی میر
گو طائران خستہ جگر ہوں ہزار الگ
میر تقی میر

اس کا ہو جاتا دل شکار اے کاش

دیوان پنجم غزل 1637
ادھر آتا بھی وہ سوار اے کاش
اس کا ہو جاتا دل شکار اے کاش
زیر دیوار خانہ باغ اس کے
ہم کو جا ملتی خانہ وار اے کاش
کب تلک بے قرار رہیے گا
کچھ تو ملنے کا ہو قرار اے کاش
راہ تکتے تو پھٹ گئیں آنکھیں
اس کا کرتے نہ انتظار اے کاش
اس کی پامالی سرفرازی ہے
راہ میں ہو مری مزار اے کاش
پھول گل کچھ نہ تھے کھلی جب چشم
اور بھی رہتی اک بہار اے کاش
اب وہی میر جی کھپانا ہے
ہم کو ہوتا نہ اس سے پیار اے کاش
میر تقی میر

وہ گھر سے نہیں اپنے نکلتا دم بھر بھی تلوار بغیر

دیوان پنجم غزل 1618
عشق ہمارا خون کرے ہے جی نہیں رہتا یار بغیر
وہ گھر سے نہیں اپنے نکلتا دم بھر بھی تلوار بغیر
جان عزیز کی جاں بھی گئے پر آنکھیں کھلی رہ جائیں گی
یعنی کشتۂ حیرت تھا میں آئینہ سا دیدار بغیر
گوندھے گئے سو تازہ رہے جو سبد میں تھے سوملالت سے
سوکھ کے کانٹا پھول ہوئے وے اس کے گلے کے ہار بغیر
پھولوں کا موسم کا شکے ہو پردے سے ہوا کے چشمک زن
گل کھائے ہیں ہزار خزاں میں مرغ چمن نے بہار بغیر
وحشی وطیر سے دشت بھرے تھے صیادی تھی یار کی جب
خالی پڑے ہیں دام کہیں میر اس کے ذوق شکار بغیر
میر تقی میر

جو اس چمن میں یہ اک طرفہ انتشار ہے آج

دیوان پنجم غزل 1592
کہوں سو کیا کہوں نے صبر نے قرار ہے آج
جو اس چمن میں یہ اک طرفہ انتشار ہے آج
سر اپنا عشق میں ہم نے بھی یوں تو پھوڑا تھا
پر اس کو کیا کریں اوروں کا اعتبار ہے آج
گیا ہے جانب وادی سوار ہوکر یار
غبار گرد پھرے ہے بہت شکار ہے آج
جہاں کے لوگوں میں جس کی تھی کل تئیں عزت
اسی عزیز کو دیکھا ذلیل و خوار ہے آج
سحر سواد میں چل زور پھولی ہے سرسوں
ہوا ہے عشق سے کل زرد کیا بہار ہے آج
سواری اس کی ہے سرگرم گشت دشت مگر
کہ خیرہ تیرہ نمودار یک غبار ہے آج
سپہر چھڑیوں میں کل تک پھرے تھا ساتھ اپنے
عجب ہے سب کا اسی سفلے پر مدار ہے آج
بخار دل کا نکالا تھا درد دل کہہ کر
سو درد سر ہے بدن گرم ہے بخار ہے آج
کسو کے آنے سے کیا اب کہ غش ہے کل دن سے
ہمیں تو اپنا ہی اے میر انتظار ہے آج
میر تقی میر

دشتی وحش وطیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج

دیوان پنجم غزل 1590
شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج
دشتی وحش وطیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج
برافروختہ رخ ہے اس کا کس خوبی سے مستی میں
پی کے شراب شگفتہ ہوا ہے اس نو گل پہ بہار ہے آج
اس کا بحرحسن سراسر اوج و موج و تلاطم ہے
شوق کی اپنے نگاہ جہاں تک جاوے بوس و کنار ہے آج
آنکھیں اس کی لال ہوئیں ہیں اور چلے جاتے ہیں سر
رات کو دارو پی سویا تھا اس کا صبح خمار ہے آج
گھر آئے ہو فقیروں کے تو آئو بیٹھو لطف کرو
کیا ہے جان بن اپنے کنے سو ان قدموں پہ نثار ہے آج
کیا پوچھو ہو سانجھ تلک پہلو میں کیا کیا تڑپا ہے
کل کی نسبت دل کو ہمارے بارے کچھ تو قرار ہے آج
مت چوکو اس جنس گراں کو دل کی وہیں لے جائو تم
ہندستان میں ہندوبچوں کی بہت بڑی سرکار ہے آج
خوب جو آنکھیں کھول کے دیکھا شاخ گل سا نظر آیا
ان رنگوں پھولوں میں ملا کچھ محوجلوئہ یار ہے آج
جذب عشق جدھر چاہے لے جائے ہے محمل لیلیٰ کا
یعنی ہاتھ میں مجنوں کے ناقے کی اس کے مہار ہے آج
رات کا پہنا ہار جو اب تک دن کو اتارا ان نے نہیں
شاید میر جمال گل بھی اس کے گلے کا ہار ہے آج
میر تقی میر

یا تجھ کو دل شکستوں سے اخلاص پیار ہو

دیوان چہارم غزل 1471
تو وہ نہیں کسو کا تہ دل سے یار ہو
یا تجھ کو دل شکستوں سے اخلاص پیار ہو
کیا فکر میں ہو اپنی طرحداری ہی کی تم
ہم دردمند لوگوں کے بیمار دار ہو
مصروف احتیاط رہا کرتے رات دن
دینے میں دل کے اپنا جو کچھ اختیار ہو
دل میں کدر سے آندھی سی اٹھنے لگی ہے اب
نکلے گلے کی راہ تو رفع غبار ہو
کھا زہر مر رہیں کہیں کیا زندگی ہے یہ
زلفیں تنک چھوئیں تو ہمیں مار مار ہو
اے آہوان کعبہ نہ اینڈو حرم کے گرد
کھائو کسو کی تیغ کسو کے شکار ہو
منھ سے لگی گلابی ہوا کچھ شگفتہ تو
تھوڑی شراب اور بھی پی جو بہار ہو
بہتی ہے تیز جدول تیغ جفاے یار
یعنی کہ اک ہی وار لگے کام پار ہو
چھڑیوں سے کر قرار مدار اس کو لایئے
جو میر پھر لڑا نہ کریں بے قرار ہو
میر تقی میر

اور آسماں غبار سر رہ گذار عشق

دیوان چہارم غزل 1419
نزدیک عاشقوں کے زمیں ہے قرارعشق
اور آسماں غبار سر رہ گذار عشق
مقبول شہر ہی نہیں مجنوں ضعیف و زار
ہے وحشیان دشت میں بھی اعتبارعشق
گھر کیسے کیسے دیں کے بزرگوں کے ہیں خراب
القصہ ہے خرابۂ کہنہ دیارعشق
گو ضبط کرتے ہوویں جراحت جگر کے زخم
روتا نہیں ہے کھول کے دل رازدارعشق
مارا پڑے ہے انس ہی کرنے میں ورنہ میر
ہے دورگرد وادی وحشت شکارعشق
میر تقی میر

گویا کہ جا رہا کسو سوزندہ نار پاس

دیوان چہارم غزل 1401
کل ہاتھ جا رہا تھا دل بے قرار پاس
گویا کہ جا رہا کسو سوزندہ نار پاس
کس جد و کد سے حیف ہے مجھ کو کیا شکار
ٹھہرا نہ پھر وہ صیدفگن اس شکار پاس
اس گل بغیر پہروں ہیں بلبل سے نالہ کش
کرتے ہیں اپنی اور سے تو ہم ہزار پاس
خوشحال وے جو حال کہیں دلبروں سے دیر
رویا نہ میں تو ایک گھڑی اپنے یار پاس
دوری میں جس کی مر گئے رک رک کے میر ہم
نکلا نہ وہ سو ہو کے ہمارے مزار پاس
میر تقی میر

دل ہمارا ہے بے قرار عبث

دیوان چہارم غزل 1367
عہد اس کا غلط قرار عبث
دل ہمارا ہے بے قرار عبث
ہم گلا کاٹتے ہی تھے اپنا
تو گلے کا ہوا ہے ہار عبث
لوہو رونے نے سب نچوڑ لیا
اب پیے خون روزگار عبث
آہ وہ کس قدر ہے مستغنی
لوگ اس کے ہوئے شکار عبث
ہم تو آگے ہی مر رہے ہیں میر
تیغ کھینچے پھرے ہے یار عبث
میر تقی میر

مکر ہے عہد سب قرار فریب

دیوان چہارم غزل 1359
یار میرا بہت ہے یار فریب
مکر ہے عہد سب قرار فریب
راہ رکھتے ہیں اس کے دام سے صید
ہے بلا کوئی وہ شکار فریب
عہدے سے نکلیں کس طرح عاشق
ایک ادا اس کی ہے ہزار فریب
التفات زمانہ پر مت جا
میر دیتا ہے روزگار فریب
میر تقی میر

کہنے لگا چپکا سا ہوکر ہائے دریغ شکار اپنا

دیوان چہارم غزل 1317
میں جو نظر سے اس کی گیا تو وہ سرگرم کار اپنا
کہنے لگا چپکا سا ہوکر ہائے دریغ شکار اپنا
کیا یاری کر دور پھرا وہ کیا کیا ان نے فریب کیے
جس کے لیے آوارہ ہوئے ہم چھوٹا شہر و دیار اپنا
ہاتھ گلے میں ان نے نہ ڈالا میں یہ گلا جا کاٹوں گا
غم غصے سے دیکھیو ہوں گا آپھی گلے کا ہار اپنا
چھاتی پہ سانپ سا پھر جاتا ہے یاد میں اس کے بالوں کی
جی میں لہر آوے ہے لیکن رہتا ہوں من مار اپنا
بات کہی تلوار نکالی آنکھ لڑائی جی مارے
کیونکے جتاوے اس سے کوئی ربط محبت پیار اپنا
ہم نے یار وفاداری میں کوتاہی تقصیر نہ کی
کیا روویں چاہت کے اثر کو وہ نہ ہوا ٹک یار اپنا
رحم کیا کر لطف کیا کر پوچھ لیا کر آخر ہے
میر اپنا غم خوار اپنا پھر زار اپنا بیمار اپنا
میر تقی میر

کہ زندگی تو کروں جب تلک کہ یار آوے

دیوان سوم غزل 1305
خدا کرے مرے دل کو ٹک اک قرار آوے
کہ زندگی تو کروں جب تلک کہ یار آوے
کمانیں اس کی بھووں کی چڑھی ہی رہتی ہیں
نہ جب تلک سرتیرستم شکار آوے
ہمیں تو ایک گھڑی گل بغیر دوبھر ہے
خدا ہی جانے کہ اب کب تلک بہار آوے
اٹھی بھی گرد رہ اس کی کہیں تو لطف ہے کیا
جب انتظار میں آنکھوں ہی پر غبار آوے
ہر ایک شے کا ہے موسم نہ جانے تھا منصور
کہ نخل دار میں حلق بریدہ بار آوے
تمھارے جوروں سے اب حال جاے عبرت ہے
کسو سے کہیے تو اس کو نہ اعتبار آوے
نہیں ہے چاہ بھلی اتنی بھی دعا کر میر
کہ اب جو دیکھوں اسے میں بہت نہ پیار آوے
میر تقی میر

رات دن ہم امیدوار رہے

دیوان سوم غزل 1275
برسوں تک جی کو مار مار رہے
رات دن ہم امیدوار رہے
موسم گل تلک رہے گا کون
چبھتے ہی دل کو خار خار رہے
وصل یا ہجر کچھ ٹھہر جاوے
دل کو اپنے اگر قرار رہے
خوش نوا کیسے کیسے طائر قدس
اس جفا پیشہ کے شکار رہے
اس کی آنکھوں کی مستی سے عاشق
چاہیے یوں کہ ہوشیار رہے
دل لگے پر رہا نہیں جاتا
رہیے اپنا جو اختیار رہے
کم ہے کیا لذت ہم آغوشی
سب مزے میر درکنار رہے
میر تقی میر

نوگل جیسے جلوہ کرے اس رشک بہار کو دیکھا ہے

دیوان سوم غزل 1256
کیسے ناز و تبختر سے ہم اپنے یار کو دیکھا ہے
نوگل جیسے جلوہ کرے اس رشک بہار کو دیکھا ہے
چال زمانے کی ہے نظر میں شام و سحر کس کو ہے قیام
نووارد ہم یاں کے ہیں پر لیل و نہار کو دیکھا ہے
ایک نہ آیا دید میں اپنی دلکش دلچسپ اس کے رنگ
ان آنکھوں سے اس گلشن میں یوں تو ہزار کو دیکھا ہے
قدرکفر اسلام سے زائد جانی سبحہ فروشی سے
بکتے کہیں بازار میں تونے گہ زنار کو دیکھا ہے
قلب و دماغ و جگر کے گئے پر ضعف ہے جی کی غارت میں
کیا جانے یہ قلقچی ان نے کس سردار کو دیکھا ہے
بائو سے بھی گر پتا کھڑکے چوٹ چلے ہے ظالم کی
ہم نے دام گہوں میں اس کے ذوق شکار کو دیکھا ہے
جمع کرو دل میر سے تم بھی بیتابی تھی دل کو بہت
اچھے کچھ آثار نہ تھے میں اس بیمار کو دیکھا ہے
میر تقی میر

دن آج کا بھی سانجھ ہوا انتظار میں

دیوان سوم غزل 1204
دور اس سے جی چکے ہیں ہم اس روزگار میں
دن آج کا بھی سانجھ ہوا انتظار میں
داغوں سے بھر گیا ہے مرا سینۂ فگار
گل پھول زور زور کھلے اس بہار میں
کیا اعتبار طائر دل کی تڑپ کا اب
مذبوحی سی ہے کچھ حرکت اس شکار میں
بوسہ لبوں کا مانگتے ہی تم بگڑ گئے
بہتیری باتیں ہوتی ہیں اخلاص پیار میں
دل پھر کے ہم سے خانۂ زنجیر کے قریب
ٹک پہنچتا ہی ہے شکن زلف یار میں
اس بحرحسن پاس نہ خنجر تھا کل نہ تیغ
میں جان دی ہے حسرت بوس و کنار میں
چلتا ہے ٹک تو دیکھ کے چل پائوں ہر نفس
آنکھیں ہی بچھ گئی ہیں ترے رہگذار میں
کس کس ادا سے ریختے میں نے کہے ولے
سمجھا نہ کوئی میری زبان اس دیار میں
تڑپے ہے متصل وہ کہاں ایسے روز و شب
ہے فرق میر برق و دل بے قرار میں
میر تقی میر

اک مشت استخواں ہیں پر اپنے بار ہیں ہم

دیوان سوم غزل 1172
بیماری دلی سے زار و نزار ہیں ہم
اک مشت استخواں ہیں پر اپنے بار ہیں ہم
مارا تڑپتے چھوڑا فتراک سے نہ باندھا
بے چشم و رو کسو کے شاید شکار ہیں ہم
ہر دم جبیں خراشی ہر آن سینہ کاوی
حیران عشق تو ہیں پر گرم کار ہیں ہم
حور و قصور و غلماں نہر و نعیم وجنت
یہ کلہم جہنم مشتاق یار ہیں ہم
بے حد و حصر گردش اپنی ہے عاشقی میں
رسواے شہر و دیہ، و دشت و دیار ہیں ہم
اب سیل سیل آنسو آتے ہیں چشم تر سے
دیوار و در سے کہہ دو بے اختیار ہیں ہم
روتے ہیں یوں کہ جیسے شدت سے ابر برسے
کیا جانیے کہ کیسے دل کے بخار ہیں ہم
اب تو گلے بندھا ہے زنجیر و طوق ہونا
عشق و جنوں کے اپنے ناموس دار ہیں ہم
لیتا ہے میر عبرت جو کوئی دیکھتا ہے
کیا یار کی گلی میں بے اعتبار ہیں ہم
میر تقی میر

چشم پرخوں فگار کے سے رنگ

دیوان سوم غزل 1162
چاک دل ہے انار کے سے رنگ
چشم پرخوں فگار کے سے رنگ
کام میں ہے ہواے گل کی موج
تیغ خوں ریز یار کے سے رنگ
تاب ہی میں رہے ہے اس کی زلف
افعی پیچ دار کے سے رنگ
کیا جو افسردگی کے ساتھ کھلا
دل گل بے بہار کے سے رنگ
برق ابر بہار نے بھی لیے
اب دل بے قرار کے سے رنگ
کنج نخچیرگہ میں ہیں مامون
ہم بھی لاغر شکار کے سے رنگ
عمر کا بھی سرنگ جاتا ہے
ابلق روزگار کے سے رنگ
برگ گل میں نہ دل کشی ہو گی
کف پاے نگار کے سے رنگ
اس بیاباں میں میر محو ہوئے
ناتواں اک غبار کے سے رنگ
میر تقی میر

میں اور یار اور مرا کاروبار اور

دیوان سوم غزل 1137
مذہب سے میرے کیا تجھے میرا دیار اور
میں اور یار اور مرا کاروبار اور
چلتا ہے کام مرگ کا خوب اس کے دور میں
ہوتی ہے گرد شہر کے روز اک مزار اور
بندے کو ان فقیروں میں گنیے نہ شہر کے
صاحب نے میرے مجھ کو دیا اعتبار اور
دل کو تو لاگ ہی ہے تکوں راہ کب تلک
اس پر ہے یک عذاب شدید انتظار اور
بسمل پسند کر کے تڑپنا نہ دیکھنا
ہے میرے صیدپیشہ کا طور شکار اور
میں اس کی گرد رہ کا رہا منتظر بہت
سو آنکھیں دونوں لائیں مری اک غبار اور
درد سر اب جو عشق کا ہے گور تک ہے ساتھ
کچھ یہ نشہ ہی اور ہے اس کا خمار اور
کاہے کو اس قرار سے تھا اضطراب قلب
ہوتا ہے ہاتھ رکھنے سے دل بے قرار اور
کس کو فقیری میں سر و دل حرف کا ہے میر
کرتے ہیں اس دماغ پہ ہم انکسار اور
میر تقی میر

ٹک سوچ بھی ہزار ہیں دشمن ہزار دوست

دیوان سوم غزل 1114
مانند مرغ دوست نہ کہہ بار بار دوست
ٹک سوچ بھی ہزار ہیں دشمن ہزار دوست
کھڑکے ہے پات بھی تو لگا بیٹھتا ہے چوٹ
رم خوردہ وہ غزال بہت ہے شکار دوست
سب کو ہے رشک مجھ میں جو تجھ میں ہے اختلاط
دشمن ہوئے ہیں دوستی سے تیری یار دوست
تجھ سے ہزار ان نے بنا کر دیے بگاڑ
مت جان سادگی سے کہ ہے روزگار دوست
یہ تو کچھ آگے دشمن جانی سے بھی چلا
میں جانتا تھا ہو گا دل بے قرار دوست
بیگانگی خلق جہاں جاے خوف ہے
سو دشمنوں میں کیا ہے جو نکلے بھی چار دوست
مجھ بے نوا کی یاد رہے میر یہ صدا
اس میکدے میں رہیو بہت ہوشیار دوست
میر تقی میر

کوئی دل کا بخار نکلے گا

دیوان سوم غزل 1066
چشم سے خوں ہزار نکلے گا
کوئی دل کا بخار نکلے گا
اس کی نخچیرگہ سے روح الامیں
ہو کے آخر شکار نکلے گا
آندھیوں سے سیاہ ہو گا چرخ
دل کا تب کچھ غبار نکلے گا
ہوئے رے لاگ تیر مژگاں کی
کس کے سینے کے پار نکلے گا
ناز خورشید کب تلک کھینچیں
گھر سے کب اپنے یار نکلے گا
خون ہی آئے گا تو آنکھوں سے
ایک سیل بہار نکلے گا
عزلت میر عشق میں کب تک
ہو کے بے اختیار نکلے گا
میر تقی میر

پر جانیں جو گئی ہیں سو رہ پر غبار ہے

دیوان دوم غزل 1034
جانے میں قتل گہ سے ترا اختیار ہے
پر جانیں جو گئی ہیں سو رہ پر غبار ہے
ہم آپ سے گئے سو الٰہی کہاں گئے
مدت ہوئی کہ اپنا ہمیں انتظار ہے
بس وعدئہ وصال سے کم دے مجھے فریب
آگے ہی مجھ کو تیرا بہت اعتبار ہے
سرتابی اس سے طائر قدسی نہ کر سکے
اس ترک صید بند کا وہ تو شکار ہے
مائل نہیں ہے سرو ہی تنہا تری طرف
گل کو بھی تیرے دیکھنے کا خار خار ہے
پیوند میں زمیں کا ہوا اس گلی میں لیک
یوں بھی کہا نہ ان نے یہ کس کا مزار ہے
کل سرو ناز باغ میں آیا نظر مجھے
میں نے فریب شوق سے جانا کہ یار ہے
اب دیکھ کر قرار کیا کر وصال کا
دل کو بغیر تیرے تنک بھی قرار ہے
مت فکر خانہ سازی میں منعم ہلاک ہو
بنیاد زندگانی کی ناپائدار ہے
کب تک ستم کبھو تو دلاسا بھی دیجیے
بالفرض میر ایسا ہی تقصیروار ہے
میر تقی میر

اس تختے نے بھی اب کے قیامت بہار کی

دیوان دوم غزل 950
کی سیر ہم نے سینۂ یکسر فگار کی
اس تختے نے بھی اب کے قیامت بہار کی
دریاے حسن یار تلاطم کرے کہیں
خواہش ہے اپنے جی میں بھی بوس و کنار کی
اپنا بھی جی اسیر تھا آواز عندلیب
دل میں چبھا کی رات کو جوں نوک خار کی
آنکھیں غبار لائیں مری انتظار میں
دیکھوں تو گرد کب اٹھے اس رہ گذار کی
مقدور تک تو ضبط کروں ہوں پہ کیا کروں
منھ سے نکل ہی جاتی ہے اک بات پیار کی
اب گرد سر پھروں ترے ہوں میں فقیر محض
رکھتا تھا ایک جان سو تجھ پر نثار کی
کیا صید کی تڑپ کو اٹھائے دماغ یار
نازک بہت ہے طبع مرے دل شکار کی
رکھتا نہیں طریق وفا میں کبھو قدم
ہم کچھ نہ سمجھے راہ و روش اپنے یار کی
کیا جانوں چشم تر سے ادھر دل پہ کیا ہوا
کس کو خبر ہے میر سمندر کے پار کی
میر تقی میر

تصدیع کھینچی ہم نے یہ کام اختیار کر

دیوان دوم غزل 813
آخر دکھائی عشق نے چھاتی فگار کر
تصدیع کھینچی ہم نے یہ کام اختیار کر
اس باعث حیات سے کیا کیا ہیں خواہشیں
پر دم بخود ہی رہتے ہیں ہم جی کو مار کر
ٹک سامنے ہوا کہ نہ ایماں نہ دین و دل
کافر کو بھی نہ اس سے الٰہی دوچار کر
جا شوق پر نہ جا تن زار و نزار پر
اے ترک صید پیشہ ہمیں بھی شکار کر
وہ سخت باز دائو میں آتا نہیں ہے ہائے
کس طور جی کو ہم نہ لگا بیٹھیں ہار کر
ہم آپ سے گئے تو گئے پر بسان نقش
بیٹھا تو روز حشر تئیں انتظار کر
کن آنکھوں دیکھیں رنگ خزاں کے کہ باغ سے
گل سب چلے ہیں رخت سفر اپنا بار کر
جل تھل بھریں نہ جب تئیں دم تب تئیں نہ لیں
ہم اور ابر آج اٹھے ہیں قرار کر
اک صبح میری چھاتی کے داغوں کو دیکھ تو
یہ پھول گل بھی زور رہے ہیں بہار کر
مرتے ہیں میر سب پہ نہ اس بیکسی کے ساتھ
ماتم میں تیرے کوئی نہ رویا پکار کر
میر تقی میر

چاک ہے دل انار کے مانند

دیوان دوم غزل 797
تجھ بن اے نوبہار کے مانند
چاک ہے دل انار کے مانند
پہنچی شاید جگر تک آتش عشق
اشک ہیں سب شرار کے مانند
کو دماغ اس کی رہ سے اٹھنے کا
بیٹھے اب ہم غبار کے مانند
کوئی نکلے کلی تو لالے کی
اس دل داغدار کے مانند
سرو کو دیکھ غش کیا ہم نے
تھا چمن میں وہ یار کے مانند
ہار کر شب گلے پڑے اس کے
ہم بھی پھولوں کے ہار کے مانند
برق تڑپی بہت ولے نہ ہوئی
اس دل بے قرار کے مانند
ان نے کھینچی تھی صیدگہ میں تیغ
برق ابر بہار کے مانند
اس کے گھوڑے کے آگے سے نہ ٹلے
ہم بھی دبلے شکار کے مانند
زخم کھا بیٹھیو جگر پر مت
تو بھی مجھ دل فگار کے مانند
اس کی سرتیز ہر پلک ہے میر
خنجر آبدار کے مانند
میر تقی میر

گل اشتیاق سے میرے گلے کا ہار ہوا

دیوان دوم غزل 704
چمن میں جاکے جو میں گرم وصف یار ہوا
گل اشتیاق سے میرے گلے کا ہار ہوا
تمھارے ترکش مژگاں کی کیا کروں تعریف
جو تیر اس سے چلا سو جگر کے پار ہوا
ہماری خاک پہ اک بیکسی برستی ہے
ادھر سے ابر جب آیا تب اشکبار ہوا
کریں نہ کیونکے یہ ترکاں بلندپروازی
انھوں کا طائر سدرہ نشیں شکار ہوا
کبھو بھی اس کو تہ دل سے ملتے پایا پھر
فریب تھا وہ کوئی دن جو ہم سے یار ہوا
بہت دنوں سے درونے میں اضطراب سا تھا
جگر تمام ہوا خون تب قرار ہوا
شکیب میر جو کرتا تو وقر رہ جاتا
ادھر کو جاکے عبث یہ حبیب خوار ہوا
میر تقی میر

اس وہم کی نمود کا ہے اعتبار کیا

دیوان دوم غزل 698
پھرتا ہے زندگی کے لیے آہ خوار کیا
اس وہم کی نمود کا ہے اعتبار کیا
کیا جانیں ہم اسیر قفس زاد اے نسیم
گل کیسے باغ کہتے ہیں کس کو بہار کیا
آنکھیں برنگ نقش قدم ہو گئیں سفید
پھر اور کوئی اس کا کرے انتظار کیا
سیکھی ہے طرح سینہ فگاری کی سب مری
لائے تھے ساتھ چاک دل ایسا انار کیا
سرکش کسو سے ایسی کدورت رکھے وہ شوخ
ہم اس کی خاک راہ ہیں ہم سے غبار کیا
نے وہ نگہ چبھی ہے نہ وے پلکیں گڑ گئیں
کیا جانیے کہ دل کو ہے یہ خار خار کیا
لیتا ہے ابر اب تئیں اس ناحیے سے آب
روئے ہیں ہم بھی برسوں تئیں زار زار کیا
عاشق کے دل سے رکھ نہ تسلی کی چشم داشت
ہے برق پارہ یہ اسے آوے قرار کیا
صحبت رہی بگڑتی ہی اس کینہ ور سے آہ
ہم جانتے نہیں ہیں کہ ہوتا ہے پیار کیا
مارا ہو ایک دو کو تو ہو مدعی کوئی
کشتوں کا اس کے روز جزا میں شمار کیا
مدت سے جرگہ جرگہ سرتیر ہیں غزال
کم ہو گیا ہے یاروں کا ذوق شکار کیا
پاتے ہیں اپنے حال میں مجبور سب کو ہم
کہنے کو اختیار ہے پر اختیار کیا
آخر زمانہ سازی سے کھویا نہ وقر میر
یہ اختیار تم نے کیا روزگار کیا
میر تقی میر

دل کی معاملت ہے کیا کوئی خوار ہووے

دیوان اول غزل 579
وعدہ وعید پیارے کچھ تو قرار ہووے
دل کی معاملت ہے کیا کوئی خوار ہووے
فتراک سے نہ باندھے دیکھے نہ تو تڑپنا
کس آرزو پہ کوئی تیرا شکار ہووے
از بس لہو پیا ہے میں تیرے غم میں گل رو
تربت سے میری شاید حشر بہار ہووے
مرنا بھلا ہے ظالم اس زندگی بد سے
یوں چاہیے کہ کوئی تجھ سے نہ یار ہووے
میں مست مرگیا ہوں کرنا عجب نہ ساقی
گر سنگ شیشہ میرا سنگ مزار ہووے
وابست آسماں کا ملتا ہے خاک ہی میں
اس بے مدار اوپر کس کا مدار ہووے
اے غیر میر تجھ کو گر جوتیاں نہ مارے
سید نہ ہووے پھر تو کوئی چمار ہووے
میر تقی میر

بیٹھ جا چلنے ہار ہیں ہم بھی

دیوان اول غزل 465
آج کل بے قرار ہیں ہم بھی
بیٹھ جا چلنے ہار ہیں ہم بھی
آن میں کچھ ہیں آن میں کچھ ہیں
تحفۂ روزگار ہیں ہم بھی
منع گریہ نہ کر تو اے ناصح
اس میں بے اختیار ہیں ہم بھی
درپئے جان ہے قراول مرگ
کسو کے تو شکار ہیں ہم بھی
نالے کریو سمجھ کے اے بلبل
باغ میں یک کنار ہیں ہم بھی
مدعی کو شراب ہم کو زہر
عاقبت دوست دار ہیں ہم بھی
مضطرب گریہ ناک ہے یہ گل
برق ابر بہار ہیں ہم بھی
گر زخود رفتہ ہیں ترے نزدیک
اپنے تو یادگار ہیں ہم بھی
میر نام اک جواں سنا ہو گا
اسی عاشق کے یار ہیں ہم بھی
میر تقی میر

رکھے خدا جہاں میں دل بے قرار کو

دیوان اول غزل 385
آرام ہوچکا مرے جسم نزار کو
رکھے خدا جہاں میں دل بے قرار کو
پانی پہ جیسے غنچۂ لالہ پھرے بہا
دیکھا میں آنسوئوں میں دل داغدار کو
برسا تو میرے دیدئہ خوں بار کے حضور
پر اب تک انفعال ہے ابربہار کو
ہنستا ہی میں پھروں جو مرا کچھ ہو اختیار
پر کیا کروں میں دیدئہ بے اختیار کو
آیا جہاں میں دوست بھی ہوتے ہیں یک دگر
مجھ سے جو دشمنی ہی رہی میرے یار کو
سو باریوں تو غیروں سے کرتے ہو ہنس کے بات
کچھ منھ بنا رہو ہو ہماری ہی بار کو
سر گشتگی سوائے نہ دیکھا جہاں میں کچھ
اک عمر خضر سیر کیا اس دیار کو
کس کس کی خاک اب کی ملانی ہے خاک میں
جاتی ہے پھر نسیم اسی رہگذار کو
اے وہ کوئی جو آج پیے ہے شراب عیش
خاطر میں رکھیو کل کے بھی رنج و خمار کو
خوباں کا کیا جگر جو کریں مجھ کو اپنا صید
پہچانتا ہے سب کوئی تیرے شکار کو
جیتے جی فکر خوب ہے ورنہ یہ بدبلا
رکھے گا حشر تک تہ و بالا مزار کو
گر ساتھ لے گڑا تو دل مضطرب تو میر
آرام ہوچکا ترے مشت غبار کو
میر تقی میر

زمانہ ہووے مساعد تو روزگار کریں

دیوان اول غزل 356
نہ کیونکے شیخ توکل کو اختیار کریں
زمانہ ہووے مساعد تو روزگار کریں
گیا وہ زمزمۂ صبح فصل گل بلبل
دعا نہ پہنچے چمن تک ہم اب ہزار کریں
تمام صید سر تیر جمع ہیں لیکن
نصیب اس کے کہ جس کو ترا شکار کریں
تسلی تو ہو دل بے قرار خوباں سے
یہ کاش ملنے نہ ملنے کا کچھ قرار کریں
ہمیں تو نزع میں شرمندہ آ کے ان نے کیا
رہا ہے ایک رمق جی سو کیا نثار کریں
رہی سہی بھی گئی عمر تیرے پیچھے یار
یہ کہہ کہ آہ ترا کب تک انتظار کریں
کریں ہیں حادثے ہر روز وار آخر تو
سنان آہ دل شب کے ہم بھی پار کریں
یہ قتل غیر ہے کیا کام ہم نشیناں آج
جو دشمنی نہ کرے وہ تو اس کو یار کریں
ہوا ہوں خاک رہ اس واسطے کہ خوباں میر
گذار گور پہ میری بھی ایک بار کریں
میر تقی میر

سرو و قمری شکار ہوتے ہیں

دیوان اول غزل 315
خوش قداں جب سوار ہوتے ہیں
سرو و قمری شکار ہوتے ہیں
تیرے بالوں کے وصف میں میرے
شعر سب پیچ دار ہوتے ہیں
آئو یاد بتاں پہ بھول نہ جائو
یہ تغافل شعار ہوتے ہیں
دیکھ لیویں گے غیر کو تجھ پاس
صحبتوں میں بھی یار ہوتے ہیں
صدقے ہولیویں ایک دم تیرے
پھر تو تجھ پر نثار ہوتے ہیں
تو کرے ہے قرار ملنے کا
ہم ابھی بے قرار ہوتے ہیں
ہفت اقلیم ہر گلی ہے کہیں
دلی سے بھی دیار ہوتے ہیں
رفتہ رفتہ یہ طفل خوش ظاہر
فتنۂ روزگار ہوتے ہیں
اس کے نزدیک کچھ نہیں عزت
میرجی یوں ہی خوار ہوتے ہیں
میر تقی میر

اس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا

دیوان اول غزل 64
موا میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا
اس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا
جنوں میں اب کے مجھے اپنے دل کا غم ہے پہ حیف
خبر لی جب کہ نہ جامے میں ایک تار رہا
بشر ہے وہ پہ کھلا جب سے اس کا دام زلف
سر رہ اس کے فرشتے ہی کا شکار رہا
کبھو نہ آنکھوں میں آیا وہ شوخ خواب کی طرح
تمام عمر ہمیں اس کا انتظار رہا
شراب عیش میسر ہوئی جسے اک شب
پھر اس کو روز قیامت تلک خمار رہا
بتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالا
وہ دل کہ جس کا خدائی میں اختیار رہا
وہ دل کہ شام و سحر جیسے پکا پھوڑا تھا
وہ دل کہ جس سے ہمیشہ جگر فگار رہا
تمام عمر گئی اس پہ ہاتھ رکھتے ہمیں
وہ دردناک علی الرغم بے قرار رہا
ستم میں غم میں سر انجام اس کا کیا کہیے
ہزاروں حسرتیں تھیں تس پہ جی کو مار رہا
بہا تو خون ہو آنکھوں کی راہ بہ نکلا
رہا جو سینۂ سوزاں میں داغ دار رہا
سو اس کو ہم سے فراموش کاریوں لے گئے
کہ اس سے قطرئہ خوں بھی نہ یادگار رہا
گلی میں اس کی گیا سو گیا نہ بولا پھر
میں میر میر کر اس کو بہت پکار رہا
میر تقی میر

دل نے اب زور بے قرار کیا

دیوان اول غزل 58
تابہ مقدور انتظار کیا
دل نے اب زور بے قرار کیا
دشمنی ہم سے کی زمانے نے
کہ جفا کار تجھ سا یار کیا
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
ایک ناوک نے اس کی مژگاں کے
طائر سدرہ تک شکار کیا
صدرگ جاں کو تاب دے باہم
تیری زلفوں کا ایک تار کیا
ہم فقیروں سے بے ادائی کیا
آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا
سخت کافر تھا جن نے پہلے میر
مذہب عشق اختیار کیا
میر تقی میر

ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا

دیوان اول غزل 44
گل و بلبل بہار میں دیکھا
ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا
جل گیا دل سفید ہیں آنکھیں
یہ تو کچھ انتظار میں دیکھا
جیسا مضطر تھا زندگی میں دل
ووہیں میں نے قرار میں دیکھا
آبلے کا بھی ہونا دامن گیر
تیرے کوچے کے خار میں دیکھا
تیرہ عالم ہوا یہ روز سیاہ
اپنے دل کے غبار میں دیکھا
ذبح کر میں کہا تھا مرتا ہوں
دم نہیں مجھ شکار میں دیکھا
جن بلائوں کو میر سنتے تھے
ان کو اس روزگار میں دیکھا
میر تقی میر

تا بہ روح الامیں شکار ہوا

دیوان اول غزل 22
سنیو جب وہ کبھو سوار ہوا
تا بہ روح الامیں شکار ہوا
اس فریبندہ کو نہ سمجھے آہ
ہم نے جانا کہ ہم سے یار ہوا
نالہ ہم خاکساروں کا آخر
خاطر عرش کا غبار ہوا
جو نہ کہنا تھا سو بھی میں نے کہا
دل کی بے طاقتی سے خوار ہوا
پھر گیا ہے زمانہ کیا کہ مجھے
ہوتے خوار ایک روزگار ہوا
مر چلے بے قرار ہوکر ہم
اب تو تیرے تئیں قرار ہوا
وہ جو خنجر بکف نظر آیا
میر سو جان سے نثار ہوا
میر تقی میر

رہا نہیں میں ، تجھے اختیار کرتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 508
یہ اپنا آپ مسلسل نثار کرتے ہوئے
رہا نہیں میں ، تجھے اختیار کرتے ہوئے
ازل نژاد نظر اور اب کہاں جائے
ابد گزار دیا انتظار کرتے ہوئے
وہ جانتا ہے مقابل ہے آئینہ اس کے
ہزار بار وہ سوچے گا وار کرتے ہوئے
چراغ بھول گئی بام پر وہ آنکھوں کے
شبِ فراق! تجھے بے کنار کرتے ہوئے
گزر گیا مرے کوچے سے وہ مثالِ صبح
اک ایک آئینہ تمثال دار کرتے ہوئے
میں کانپ جاتا ہوں اس پر یقین اتنا تھا
کسی بھی شخص پہ اب اعتبار کرتے ہوئے
لبِ فرات پہ ہار آئی آلِ ابراہیم
فلک ولک پہ زمیں انحصار کرتے ہوئے
ہر ایک بار ترے بارے سوچتا ہوں میں
تعلقات کہیں استوار کرتے ہوئے
بیاض اپنی اسے دے دی میں نے تحفے میں
یہی کلام کیا اختصار کرتے ہوئے
یہ شہرِ دل کا لٹیرا بھی لٹ گیا منصور
شکار ہو گیا آخر شکار کرتے ہوئے
منصور آفاق

ذرا سے شہر میں ہے بے شمار تنہائی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 431
بڑی اداس بڑی بے قرار تنہائی
ذرا سے شہر میں ہے بے شمار تنہائی
مجھے اداسیاں بچپن سے اچھی لگتی ہیں
مجھے عزیز مری اشکبار تنہائی
فراق یہ کہ وہ آغوش سے نکل جائے
وصال یہ کرے بوس و کنار تنہائی
پلٹ پلٹ کے مرے پاس آئی وحشت سے
کسی کو دیکھتے ہی بار بار تنہائی
مرے مزاج سے اس کا مزاج ملتا ہے
میں سوگوار … تو ہے سوگوار تنہائی
کوئی قریب سے گزرے تو جاگ اٹھتی ہے
شبِ سیہ میں مری جاں نثار تنہائی
مجھے ہے خوف کہیں قتل ہی نہ ہو جائے
یہ میرے غم کی فسانہ نگار تنہائی
نواح جاں میں ہمیشہ قیام اس کا تھا
دیارِ غم میں رہی غمگسار تنہائی
ترے علاوہ کوئی اور ہم نفس ہی نہیں
ذرا ذرا مجھے گھر میں گزار تنہائی
یونہی یہ شہر میں کیا سائیں سائیں کرتی ہے
ذرا سے دھیمے سروں میں پکار تنہائی
نہ کوئی نام نہ چہرہ نہ رابطہ نہ فراق
کسی کا پھر بھی مجھے انتظار، تنہائی
جو وجہ وصل ہوئی سنگسار تنہائی
تھی برگزیدہ ، تہجد گزار تنہائی
مری طرح کوئی تنہا اُدھر بھی رہتا ہے
بڑی جمیل، افق کے بھی پار تنہائی
کسی سوار کی آمد کا خوف ہے، کیا ہے
بڑی سکوت بھری، کوئے دار، تنہائی
دکھا رہی ہے تماشے خیال میں کیا کیا
یہ اضطراب و خلل کا شکار تنہائی
بفیضِ خلق یہی زندگی کی دیوی ہے
کہ آفتاب کا بھی انحصار تنہائی
اگرچہ زعم ہے منصور کو مگر کیسا
تمام تجھ پہ ہے پروردگار تنہائی
منصور آفاق

آنکھوں سے گرپڑے کئی نیلم کے آبشار

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 7
میں جا رہا تھا دیکھنے فرودسِ بے کنار
آنکھوں سے گرپڑے کئی نیلم کے آبشار
شادابیوں کی آخری حد، وادئ گریز
پاؤں کے انتظار میں صدیوں سے اشکبار
ہلمت کی بے پناہ بلندی پہ تیز آب
پھرتا ہے بادلوں کے دریچوں میں بے قرار
لاکھوں برس قدیم گھنے جنگلوں کا کیل
اور اس کے بیچ زندگی باردو کا شکار
کیوں صحنِ شاردا میں ہوئی بدھ کی آتما
کتنے کروڑ لوگوں کے اشکوں سے داغدار
معصوم داؤکھن کی مقدس سفیدیاں
اک دورِ جاھلاں میں رسولوں میں انتظار
شمشہ بری کے پیچھے چناروں کا سرخ روپ
بادل بھری شعاعوں کامقتل پسِ بہار
اڑتے ہیں دھیر کوٹ کی گلیوں میں برگ و بار
جیسے بدلنے لگتی ہے تہذیبِ برف زار
شبنم کے موتیوں سے بھرا راولہ کا کوٹ
ہر سنگ میں دکھاتا ہے اک چشمِ آب دار
بنجوسہ جیسے آب درختوں کے تھال میں
بس گھومتی ہے روح میں خاموش سی پکار
دریائے تند سو گئے منگلا کی گود میں
منصور ڈھونڈتا رہا کشمیر کے سوار
منصور آفاق

کہیں کہاں ترا دیوانہ شرمسار ہوا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 41
کبھی حرم پہ کبھی بتکدے پہ بار ہوا
کہیں کہاں ترا دیوانہ شرمسار ہوا
گزر گیا ہے محبت کا مرحلہ شاید
ترے خیال سے بھی دل نہ بے قرار ہوا
تمہاری بزم میں جب آرزو کی بات چھڑی
ہمارا ذکر بھی یاروں کو ناگوار ہوا
چمن کی خاک سے پیدا ہوا ہے کانٹا بھی
یہ اور بات کہ حالات کا شکار ہوا
نسیم صبح کی شوخی میں تو کلام نہیں
مگر وہ پھول جو پامالِ رہگزار ہوا
روش روش پہ سلگتے ہوئے شگوفوں سے
کبھی کبھی ہمیں اندازۂ بہار ہوا
فسانہ خواں کوئی دنیا میں مل گیا جس کو
اسی کی ذکر فسانوں میں بار بار ہوا
کس انجمن میں جلایا ہے تو نے اے باقیؔ
ترا چراغ، چراغِ سرِ مزار ہوا
باقی صدیقی