ٹیگ کے محفوظات: شو

بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر

دیوان پنجم غزل 1617
اک آدھ دن نکل مت اے ابر ادھر سے ہوکر
بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر
اب کل نہیں ہے تجھ کو بے قتل غم کشوں کے
کہتے تو تھے کہ ظالم خوں ریزی سے نہ خو کر
کہتے ہیں راہ پائی زاہد نے اس گلی کی
روتا کہیں نہ آوے ایمان و دیں کو کھو کر
ہے نظم کا سلیقہ ہرچند سب کو لیکن
جب جانیں کوئی لاوے یوں موتی سے پرو کر
کیا خوب زندگی کی دنیا میں شیخ جی نے
تعبیر کرتے ہیں سب اب ان کو مردہ شو کر
گو تیرے ہونٹ ظالم آب حیات ہوں اب
کیا ہم کو جی کی بیٹھے ہم جی سے ہاتھ دھو کر
کس کس ادا سے فتنے کرتے ہیں قصد ادھر کا
جب بے دماغ سے تم اٹھ بیٹھتے ہو سو کر
ٹکڑے جگر کے میرے مت چشم کم سے دیکھو
کاڑھے ہیں یہ جواہر دریا کو میں بلو کر
احوال میرجی کا مطلق گیا نہ سمجھا
کچھ زیر لب کہا بھی سو دیر دیر رو کر
میر تقی میر

ایسا تو رو کہ رونے پہ تیرے ہنسی نہ ہو

دیوان سوم غزل 1234
کہتا ہے کون میر کہ بے اختیار رو
ایسا تو رو کہ رونے پہ تیرے ہنسی نہ ہو
پایا گیا وہ گوہر نایاب سہل کب
نکلا ہے اس کو ڈھونڈنے تو پہلے جان کھو
کام اس کے لب سے ہے مجھے بنت العنب سے کیا
ہے آب زندگی بھی تو لے جائے مردہ شو
سنتے نہیں کہے جو نہ کہیے تو دم رکے
کچھ پوچھیے نہ قصہ ہمارا ہے گومگو
مشعر ہے بے دماغی پہ مطلق نہ بولنا
ہم دیں تمھیں دعا ہمیں تم گالیاں تو دو
کرنا جگر ضرور ہے دل دادگاں کو بھی
وہ بولتا نہیں تو تم آپھی سے چھیڑ لو
اے غافلان دہر یہ کچھ راہ کی ہے بات
چلنے کو قافلے ہیں یہاں تم رہے ہوسو
گردش میں جو کوئی ہو رکھے اس سے کیا امید
دن رات آپھی چرخ میں ہے آسمان تو
جب دیکھتے ہیں پائوں ہی دابو ہو اس کے میر
کیوں ہوتے ہو ذلیل تم اتنا تو مت دبو
میر تقی میر

یوناں کی طرح بستی یہ سب میں ڈبو رہا

دیوان دوم غزل 734
طوفان میرے رونے سے آخر کو ہورہا
یوناں کی طرح بستی یہ سب میں ڈبو رہا
بہتوں نے چاہا کہیے پہ کوئی نہ کہہ سکا
احوال عاشقی کا مری گومگو رہا
آخر موا ہی واں سے نکلتا سنا اسے
کوچے میں اس کے جا کے ستم دید جو رہا
آنسو تھما نہ جب سے گیا وہ نگاہ سے
پایان کار آنکھوں کو اپنی میں رو رہا
کیا بے شریک زندگی کی شیخ شہر نے
نبّاش بھی وہی تھا وہی مردہ شو رہا
یاروں نے جل کے مردے سے میرے کیا خطاب
روتے تھے ہم تو دل ہی کو تو جی بھی کھو رہا
جب رات سر پٹکنے نے تاثیر کچھ نہ کی
ناچار میر منڈکری سی مار سو رہا
میر تقی میر