ٹیگ کے محفوظات: شور

کیا قیامت کا قیامت شور ہے

دیوان سوم غزل 1280
گوش ہر یک کا اسی کی اور ہے
کیا قیامت کا قیامت شور ہے
پوچھنا اس ناتواں کا خوب تھا
پر نہ پوچھا ان نے وہ بھی زور ہے
صندل درد سر مہر و وفا
عاقبت دیکھا تو خاک گور ہے
رشتۂ الفت تو نازک ہے بہت
کیا سمجھ کر خلق اس پر ڈور ہے
ناکسی سے میر اس کوچے کے بیچ
اس طرح نکلے ہے جیسے چور ہے
میر تقی میر

یاں سلیماں کے مقابل مور ہے

دیوان اول غزل 496
مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہے
یاں سلیماں کے مقابل مور ہے
مر گئے پر بھی ہے صولت فقر کی
چشم شیر اپنا چراغ گور ہے
جب سے کاغذباد کا ہے شوق اسے
ایک عالم اس کے اوپر ڈور ہے
رہنمائی شیخ سے مت چشم رکھ
وائے وہ جس کا عصاکش کور ہے
لے ہی جاتی ہے زر گل کو اڑا
صبح کی بھی بائو بادی چور ہے
دل کھنچے جاتے ہیں سارے اس طرف
کیونکے کہیے حق ہماری اور ہے
تھا بلا ہنگامہ آرا میر بھی
اب تلک گلیوں میں اس کا شور ہے
میر تقی میر

نہ نکلا کبھو عہدئہ مور سے

دیوان اول غزل 495
ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے
نہ نکلا کبھو عہدئہ مور سے
بہت دور کوئی رہا ہے مگر
کہ فریاد میں ہے جرس شور سے
مری خاک تفتہ پر اے ابرتر
قسم ہے تجھے ٹک برس زور سے
ترے دل جلے کو رکھا جس گھڑی
دھواں سا اٹھا کچھ لب گور سے
نہ پوچھو کہ بے اعتباری سے میں
ہوا اس گلی میں بتر چور سے
نہیں سوجھتا کچھ جو اس بن ہمیں
بغیر اس کے رہتے ہیں ہم کور سے
جو ہو میر بھی اس گلی میں صبا
بہت پوچھیو تو مری اور سے
میر تقی میر

کبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گھور گیا

دیوان اول غزل 56
کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیا
کبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گھور گیا
لے گیا صبح کے نزدیک مجھے خواب اے وائے
آنکھ اس وقت کھلی قافلہ جب دور گیا
گور سے نالے نہیں اٹھتے تو نے اگتی ہے
جی گیا پر نہ ہمارا سر پر شور گیا
چشم خوں بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکا
ہم نے جانا تھا کہ بس اب تو یہ ناسور گیا
ناتواں ہم ہیں کہ ہیں خاک گلی کی اس کی
اب تو بے طاقتی سے دل کا بھی مقدور گیا
لے کہیں منھ پہ نقاب اپنے کہ اے غیرت صبح
شمع کے چہرئہ رخشاں سے تو اب نور گیا
نالۂ میر نہیں رات سے سنتے ہم لوگ
کیا ترے کوچے سے اے شوخ وہ رنجور گیا
میر تقی میر

جگا رہا ہے سحر کا سفید شور مجھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 590
دکھا رہا ہے بدن پھر نیا نکور مجھے
جگا رہا ہے سحر کا سفید شور مجھے
مقابلہ کا کہے موسموں کی وحشت سے
نکل کے دھوپ کی پیٹنگ سے تازہ تھور مجھے
میں رات رات نہاتا تھا جس کی کرنوں سے
وہ بھولتا ہی نہیں ہے سیہ بلور مجھے
مثالِ مصرعِ غالب مرے بدن پہ اتر
لبِ سروش صفت اور کر نہ بور مجھے
یا مری ذات کا کوئی وجودہے ہی نہیں
یا زندگی میں ملے لوگ چشم کور مجھے
عجب ہیں میری محبت مزاجیاں منصور
سمجھ رہا ہے کوئی چاند پھر چکور مجھے
منصور آفاق

اور پاؤں کئی چوکور چلے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 558
بستی سے تری ،کمزور چلے
اور پاؤں کئی چوکور چلے
صحرا میں کہیں بھی ابر نہیں
دریا پہ گھٹا گھنگھور چلے
پھر میرے میانوالی نے کہا
تم لوگ کہاں لاہور چلے
یادوں میں مثالِ قوسِ قزح
رنگوں سے بھرا بلور چلے
گلیوں میں کہیں بندوق چلی
حکام مرے پُر شور چلے
دوچار پرندے ساتھ گریں
جس وقت یہ بارہ بور چلے
اب رنگ بدل کر پھول کھلیں
اب چال بدل کر مور چلے
میں اور جہاں خاموش رہا
سامان اٹھا کر چور چلے
منصور کہانی روندی گئی
کردار بڑے منہ زور چلے
منصور آفاق