ٹیگ کے محفوظات: شنگ

دل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے

دیوان اول غزل 602
جاں گداز اتنی کہاں آوازعود و چنگ ہے
دل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے
رو و خال و زلف ہی ہیں سنبل و سبزہ و گل
آنکھیں ہوں تو یہ چمن آئینۂ نیرنگ ہے
بے ستوں کھودے سے کیا آخر ہوئے سب کار عشق
بعد ازاں اے کوہکن سر ہے ترا اور سنگ ہے
آہ ان خوش قامتوں کو کیونکے بر میں لایئے
جن کے ہاتھوں سے قیامت پر بھی عرصہ تنگ ہے
عشق میں وہ گھر ہے اپنا جس میں سے مجنوں یہ ایک
ناخلف سارے قبیلے کا ہمارے ننگ ہے
چشم کم سے دیکھ مت قمری تو اس خوش قد کو ٹک
آہ بھی سرو گلستان شکست رنگ ہے
ہم سے تو جایا نہیں جاتا کہ یکسر دل میں واں
دو قدم اس کی گلی کی راہ سو فرسنگ ہے
ایک بوسے پر تو کی ہے صلح پر اے زود رنج
تجھ کو مجھ کو اتنی اتنی بات اوپر جنگ ہے
پائوں میں چوٹ آنے کے پیارے بہانے جانے دے
پیش رفت آگے ہمارے کب یہ عذرلنگ ہے
فکر کو نازک خیالوں کے کہاں پہنچے ہیں یار
ورنہ ہر مصرع یہاں معشوق شوخ و شنگ ہے
سرسری کچھ سن لیا پھر واہ وا کر اٹھ گئے
شعر یہ کم فہم سمجھے ہیں خیال بنگ ہے
صبر بھی کریے بلا پر میر صاحب جی کبھو
جب نہ تب رونا ہی کڑھنا یہ بھی کوئی ڈھنگ ہے
میر تقی میر

بدل رہے تھے تسلسل سے رنگ رنگوں کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 582
ٹہل رہا تھا کوئی سنگ سنگ رنگوں کے
بدل رہے تھے تسلسل سے رنگ رنگوں کے
وہ آسمان پہ شامِ وصال پھرتی ہے
بچھے ہیں قوسِ قزح پہ پلنگ رنگوں کے
اتر نہ جائے درختوں سے گل رتوں کی شال
پہن لے کپڑے ذرا شوخ و شنگ رنگوں کے
تری گلی سے نکلتے نہیں ہیں جانِ بہار
فقیر عارضِ گل کے ملنگ رنگوں کے
مٹا رہی ہے پہاڑوں سے خامشی کے داغ
بجا رہی ہے ندی جل ترنگ رنگوں کے
تری مہک سے بڑھاتے ہیں اپنی توقیریں
میں جانتا ہوں سبھی رنگ ڈھنگ رنگوں کے
منصور آفاق