ٹیگ کے محفوظات: شناسی

سلونی شام جیسے خوں کی پیاسی ہوتی جاتی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 338
سمٹتی دُھوپ تحریرِ حنا سی ہوتی جاتی ہے
سلونی شام جیسے خوں کی پیاسی ہوتی جاتی ہے
تھکے ہونٹوں سے بوسوں کے پرندے اُڑتے جاتے ہیں
ہوس جاڑے کی شاموں کی اُداسی ہوتی جاتی ہے
سکوتِ شب میں تم آواز کا شیشہ گرا دینا
فضا سنسان کمرے کی ننداسی ہوتی جاتی ہے
کوئی رَکھ دے کسی اِلزام کا تازہ گلاب اِس میں
بچھڑتی چاہتوں کی گود باسی ہوتی جاتی ہے
تو پھر اِک بار یہ چاکِ گریباں سب کو دِکھلا دیں
بہت بدنام اپنی خوش لباسی ہوتی جاتی ہے
غزل کی صحبتوں سے اور کچھ حاصل نہیں، لیکن
غزالوں سے ذرا صورت شناسی ہوتی جاتی ہے
عرفان صدیقی

یہی میری خدا شناسی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 595
میرے دل میں بڑی اداسی ہے
یہی میری خدا شناسی ہے
جانتا ہوں میں ایک ایسا مکاں
لامکاں بھی جہاں کا باسی ہے
میں ہی اِس عہد کا تعارف ہوں
جسم شاداب ، روح پیاسی ہے
زندگی نام کی ہے اک لڑکی
واجبی سی ہے بے وفا سی ہے
جس سے دریارواں دواں منصور
مرے ساغر میں بھی ذرا سی ہے
منصور آفاق