ٹیگ کے محفوظات: شناسائی

آسماں سی جس کی پہنائی لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 105
جان کے در پَے وُہ تنہائی لگے
آسماں سی جس کی پہنائی لگے
بخت میں اُس کے بھی ہے گردش کوئی
چاند سی جو شکل گہنائی لگے
آنکھ میں اُتری ہے پھر پت جھڑ وہی
جس سے پہلے کی شناسائی لگے
پھر ہمیں وہ چھوڑ کر جانے لگا
پھر کسی جنگل میں شام آئی لگے
اُونٹ ہی سے بات یہ پوچھے کوئی
سہل کتنی اُس کو اُترائی لگے
کیا کہیں ماجدؔ نجانے کیوں ہمیں
یار بھی یوسف کے ہیں بھائی لگے
ماجد صدیقی

جس بار خزاں آئی، سمجھے کہ بہار آئی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 31
ہم سادہ ہی ایسے تھے، کی یوں ہی پذیرائی
جس بار خزاں آئی، سمجھے کہ بہار آئی
آشوبِ نظر سے کی ہم نے چمن آرائی
جو شے بھی نظر آئی، گل رنگ نظر آئی
امیدِ تلطف میں‌ رنجیدہ رہے دونوں
تو اور تری محفل، میں اور مری تنہائی
یک جان نہ ہو سکیے، انجان نہ بن سکیے
یوں ٹوٹ گئی دل میں‌ شمشیرِ شناسائی
اس تن کی طرف دیکھو جو قتل گہِ دل ہے
کیا رکھا ہے مقتل میں ، اے چشمِ تماشائی
فیض احمد فیض

سلسلے عرش تلک حسنِ پذیرائی کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 573
وہ تعلق ہیں زمیں زاد سے دانائی کے
سلسلے عرش تلک حسنِ پذیرائی کے
میرے سینے سے بھی دھڑکن کی صدا اٹھی تھی
اس کی آنکھوں میں بھی تھے عکس شناسائی کے
حرف نے باندھ رکھا ہے کوئی پاؤں سے سروش
مجھ پہ ہیں کشفِ مسلسل سخن آرائی کے
بادلوں سے بھی ٹپکتی ہیں لہو کی بوندیں
دیکھ لو چارہ گرو زخم مسیحائی کے
سیٹیاں بجتی ہیں بس کان میں سناٹوں کی
رابطے مجھ سے زیادہ نہیں تنہائی کے
روشنی اتنی چراغِ لب و رخ سے نکلی
ختم یک لخت ہوئے سلسلے بینائی کے
آخرش میں نے بھی تلوار اٹھا لی منصور
حوصلہ ختم ہوئے میری شکیبائی کے
منصور آفاق

حیراں ہیں اپنی اتنی پذیرائی دیکھ کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 176
اک ایک ڈاٹ کام پہ رسوائی دیکھ کر
حیراں ہیں اپنی اتنی پذیرائی دیکھ کر
سگریٹ کی سمت بڑھ گیا پھر اس کا نرم ہاتھ
پہلے پہل ذرا ہمیں شرمائی دیکھ کر
یہ اور بات ڈوب گئے ہیں کہیں مگر
رکھا تھا پاؤں پانی کی گہرائی دیکھ کر
ہم آ گئے وہاں کہ جہاں واپسی نہیں
اس کی ذرا سی حوصلہ افزائی دیکھ کر
افسوس صبحِ عمر جہنم میں جھونک دی
اک لمس پوش رات کی رعنائی دیکھ کر
دانتوں سے کاٹ کاٹ لیں اس نے کلائیاں
میری کسی کے ساتھ شناسائی دیکھ کر
ہم نے تمام رات جلائی ہیں خواہشیں
دل ڈر گیا تھا برف سی تنہائی دیکھ کر
آتے ہیں زندگی میں کچھ ایسے مقام بھی
جب رو پڑے تماشا ، تماشائی دیکھ کر
بس انتہائیں حسن کی معلوم ہو گئیں
زیبا علی ظہور کی زیبائی دیکھ کر
واپس پلٹ گئے جنہیں شوقِ وصال تھا
بس پہلے آسمان کی پہنائی دیکھ کر
ہم آئینے کے سامنے تصویر ہو گئے
آنکھوں میں اس کی انجمن آرائی دیکھ کر
پھر ایک اور شخص گلی سے گزر گیا
پھر بج اٹھا تھا دل کوئی پرچھائی دیکھ کر
اک دلنواز گیت سا مدہم سروں کے پیچ
برسات گنگناتی تھی پروائی دیکھ کر
معجز نما ہے صبحِ ازل سے وصالِ یار
حیراں نہ ہو بدن کی مسیحائی دیکھ کر
اندھی سڑک پہ بھاگ پڑی رات کی طرف
یک لخت اتنی روشنی بینائی دیکھ کر
کس کس کے ساتھ جنگ کریں گے دیار میں
ہم سوچتے ہیں تیرے تمنائی دیکھ کر
منصور زندگی کی کہانی سمجھ گئے
دریائے تند و تیز کی دارائی دیکھ کر
منصور آفاق

کاٹنا ہے شب تنہائی کا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 36
عمر شاید نہ کرے آج وفا
کاٹنا ہے شب تنہائی کا
ایک دن راہ پہ جا پہنچے ہم
شوق تھا بادیہ پیمائی کا
کچھ تو ہے قدر تماشائی کی
ہے جو یہ شوق خود آرائی کا
یہی انجام تھا اے فصل خزاں
گل و بلبل کی شناسائی کا
محتسب عذر بہت ہیں لیکن
اذن ہم کو نہیں گویائی کا
ہوں گے حالیؔ سے بہت آوارہ
گھر ابھی دور ہے رسوائی کا
الطاف حسین حالی