ٹیگ کے محفوظات: شناساؤں

مگر یہ ایک چکّر جو مرے پاؤں میں رہنا ہے

مجھے بے شک انھی محدود دنیاؤں میں رہنا ہے
مگر یہ ایک چکّر جو مرے پاؤں میں رہنا ہے
سکوتِ بحر کو جب تک نہ پا جائیں مسافت میں
عجب بے چینیوں کا شور دریاؤں میں رہنا ہے
کڑی دھوپوں کا سہنا، لُو میں جلنا بھی ضروری ہے
شجر وہ کیا پھلیں پھولیں جنھیں چھاؤں میں رہنا ہے
کڑکتی دھوپ ساری خود مجھے سہنی ہے سینے پر
بھلا برگد نے بھی بولو کبھی چھاؤں میں رہنا ہے
جو تنہا چھوڑ کر خود کو زمانے کے ہوئے ہم تو
لیے اک اجنبی صورت، شناساؤں میں رہنا ہے
یاور ماجد

زخم کِھلتے ہیں ترے گاؤں سے دُور

میٹھے چشموں سے‘ خُنَک چھاؤں سے دُور
زخم کِھلتے ہیں ترے گاؤں سے دُور
سنگِ منزل نے لہو اُگلا ہے
دُور‘ ہم بادیہ پیماؤں سے دُور
کتنی شمعیں ہیں اسیرِ فانوس
کتنے یوسف ہیں زلیخاؤں سے دُور
کِشتِ امید سلگتی ہی رہی
ابر برسا بھی تو صحراؤں سے دُور
جَورِ حالات‘ بھلا ہو تیرا
چین ملتا ہے شناساؤں سے دُور
جنّتِ فکر بُلاتی ہے چلو
دَیر و کعبہ سے‘ کلیساؤں سے دُور
رقصِ آشفتہ سراں دیکھیں گے
دُور‘ ان انجمن آراؤں سے دُور
جستجو ہے درِّ یکتا کی‘ شکیبؔ
سیپیاں چُنتے ہیں دریاؤں سے دُور
شکیب جلالی