ٹیگ کے محفوظات: شمیم

آخر غلام ہوں میں تمہارا قدیم کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 13
یہ فیضِ عام شیوہ کہاں تھا نسیم کا
آخر غلام ہوں میں تمہارا قدیم کا
پیمانِ ترکِ جاہ لیا پیرِ دیر نے
پیمانہ دے کے بادۂ عنبر شمیم کا
کیا ڈھونڈتی ہے قوم، کہ آنکھوں میں قوم کی
خلدِ بریں ہے طبقۂ اسفل جحیم کا
اس شوخِ کج ادا سے نہ آئی موافقت
کیونکر گلہ نہ ہو مجھے طبعِ سلیم کا
شکوے یہ اب جو ہوتے ہیں باہم، نئے نہیں
انداز ہم میں، اُن میں یہی ہے قدیم کا
اس وقت ہم گنے گئے احبابِ خاص میں
آیا جو تذکرہ کبھی لطفِ عمیم کا
بدمستیاں کبھی، کبھی مستوری و عفاف
دستور ہے طبیعتِ نا مستقیم کا
اُس رشکِ گُل کو بسترِ گل سے ہے احتراز
ممنون ہوں عدو کے مزاجِ سقیم کا
اے جانِ بے قرار ذرا صبر چاہیے
بے شک ادھر بھی آئے گا جھونکا نسیم کا
جس کی سرشت صاف نہ ہو آدمی نہیں
نیرنگ و عشوہ کام ہے دیوِ رجیم کا
اب جستجو ہے ان کو ہماری تو کیا حصول
باقی نہیں اثر بھی عظامِ رمیم کا
عاشق بھی ہم ہوئے تو عجب شخص کے ہوئے
جو ایک دم میں خون کرے سو ندیم کا
ہم نے کئے قواعدِ وحشت جو منضبط
اہلِ جنوں میں ہم کو لقب ہے حکیم کا
ہے کارنامہ جب سے بیاض اپنی شیفتہ
تقویمِ سالِ رفتہ ہے دیواں کلیم کا
مصطفٰی خان شیفتہ

یا رب ادھر بھی بھیج دے جھونکا نسیم کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 8
خواہاں ہوں بوئے باغِ تنزہ شمیم کا
یا رب ادھر بھی بھیج دے جھونکا نسیم کا
تیرے گدا کو سلطنتِ جم سے کیا، کہ ذوق
ہے کاسۂ شکستہ میں جامِ دو نیم کا
نیرنگِ جلوہ، بارقۂ ہوش سوز ہے
کیا امتیاز رنگ سے کیجے شمیم کا
تیری نسیم لطف سے گل کو شگفتگی
وابستہ تیرے حکم پہ چلنا نسیم کا
واجب کی حکمت آئے گی ممکن کی عقل میں؟
کتنا دماغ ہے خلل آگیں حکیم کا
دقت سے پہلے عجز سلامت کی راہ ہے
کیسا سپاس دار ہوں عقلِ سلیم کا
میری فنا ہے مشعلۂ محفلِ بقا
پروانہ ہوں میں پرتوِ شمعِ قدیم کا
گر تیرے شوق میں ہیں یہی بے قراریاں
لے لوں گا بوسہ پایۂ عرشِ عظیم کا
طاعت اگر نہیں تو نہ ہو یاس کس لئے
وابستۂ سبب ہے کرم کب کریم کا
جس وقت تیرے لطف کے دریا کو جوش آئے
فوارۂ جناں ہو زبانہ جحیم کا
اے شیفتہ عذابِ جہنم سے کیا مجھے
میں اُمتی ہوں نار و جناں کے قسیم کا
مصطفٰی خان شیفتہ

سبطِ علی صبا ہو یا احمد شمیم ہو؟

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 32
کیا تم بھی چل دئیے، کہو کیسے ندیم ہو
سبطِ علی صبا ہو یا احمد شمیم ہو؟
دیتا ہے کھل کے دید مگر دور دور سے
جیسے سخی کے بھیس میں کوئی لئیم ہو
بستی میں سب مکان و مکیں ایک سے ملیں
تم کون ہو بتاؤ کہاں پر مقیم ہو
ساری حقیقتوں میں حقیقت نہیں کوئی
اُس پر کھلے یہ بھید جو اپنا غتیم ہو
پاپوشِ خاک پہنئے، چلئے ہمارے ساتھ
ہاں یہ بھی شرط ہے کہ بدن بے گلیم ہو
لا کر نیا نظام چلاؤ گے کس طرح
تم تو درونِ ذات ابھی تک قدیم ہو
آفتاب اقبال شمیم

تری داستاں بھی عظیم ہے، مری داستاں بھی عظیم ہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 55
ترے فرقِ ناز پہ تاج ہے، مرے دوشِ غم پہ گلیم ہے
تری داستاں بھی عظیم ہے، مری داستاں بھی عظیم ہے
مری کتنی سوچتی صبحوں کو یہ خیال زہر پلا گیا
کسی تپتے لمحے کی آہ ہے کہ خرامِ موجِ نسیم ہے
تہہِ خاک کرمکِ دانہ جُو بھی شریکِ رقصِ حیات ہے
نہ بس ایک جلوۂ طور ہے، نہ بس ایک شوقِ کلیم ہے
یہ ہر ایک سمت مسافتوں میں گندھی پڑی ہیں جو ساعتیں
تری زندگی، مری زندگی، انہی موسموں کی شمیم ہے
کہیں محملوں کا غبار اڑے، کہیں منزلوں کے دیے جلیں
خَمِ آسماں، رہِ کارواں! نہ مقام ہے، نہ مقیم ہے
حرم اور دیر فسانہ ہے، یہی جلتی سانس زمانہ ہے
یہی گوشۂ دلِ ناصبور ہی کنجِ باغِ نعیم ہے
مجید امجد