ٹیگ کے محفوظات: شعور

پھر چھپا خور سا اپنے نور سے وہ

دیوان ششم غزل 1871
نظر آیا تھا صبح دور سے وہ
پھر چھپا خور سا اپنے نور سے وہ
جز برادر عزیز یوسف کو
نہیں لکھتا کبھو غرور سے وہ
دیکھیں عاشق کا جی بھی ہے کہ نہیں
تنگ ہے جان ناصبور سے وہ
کیا تصور میں پھیرے ہے صورت
کہ سرکتا نہیں حضور سے وہ
خوبی اس خوبی سے بشر میں کہاں
خوب تر ہے پری و حور سے وہ
دل لیا جس غمیں کا تونے شوخ
دے گیا جی ہی اک سرور سے وہ
خوش ہیں دیوانگی میر سے سب
کیا جنوں کر گیا شعور سے وہ
میر تقی میر

وہ منھ ٹک اودھر نہیں کرتا داغ ہے اس کے غرور سے شمع

دیوان پنجم غزل 1646
کیا جھمکا فانوس میں اپنا دکھلاتی ہے دور سے شمع
وہ منھ ٹک اودھر نہیں کرتا داغ ہے اس کے غرور سے شمع
وہ بیٹھا ہے جیسے نکلے چودھویں رات کا چاند کہیں
روشن ہے کیا ہو گی طرف اس طرح رخ پر نور سے شمع
آگے اس کے فروغ نہ تھا جلتی تھی بجھی سی مجلس میں
تب تو لوگ اٹھا لیتے تھے شتابی اس کے حضور سے شمع
جلنے کو آتی ہیں جو ستیاں میر سنبھل کر جلتی ہیں
کیا بے صرفہ رات جلی بے بہرہ اپنے شعور سے شمع
میر تقی میر

حواس گم ہیں دماغ کم ہے رہا سہا بھی گیا شعور اب

دیوان چہارم غزل 1352
ہوا جو دل خوں خرابی آئی ہر ایک اعضا میں ہے فتور اب
حواس گم ہیں دماغ کم ہے رہا سہا بھی گیا شعور اب
مریں گے غائب ہزار یوں تو نظر میں ہرگز نہ لاوے گا تو
کریں گے ضائع ہم آپ ہی کو بتنگ ہوکر ترے حضور اب
وجوب و امکاں میں کیا ہے نسبت کہ میر بندے کا پیش صاحب
نہیں ہے ہونا ضرور کچھ تو مجھے بھی ہونا ہے کیا ضرور اب
میر تقی میر

لڑکا سا ان دنوں تھا اس کو شعور کیا تھا

دیوان چہارم غزل 1322
دیوانگی میں مجنوں میرے حضور کیا تھا
لڑکا سا ان دنوں تھا اس کو شعور کیا تھا
گردن کشی سے اپنی مارے گئے ہم آخر
عاشق اگر ہوئے تھے ناز و غرور کیا تھا
غم قرب و بعد کا تھا جب تک نہ ہم نے جانا
اب مرتبہ جو سمجھے وہ اتنا دور کیا تھا
اے وائے یہ نہ سمجھے مارے پڑیں گے اس میں
اظہار عشق کرنا ہم کو ضرور کیا تھا
مرتا تھا جس کی خاطر اس کی طرف نہ دیکھا
میر ستم رسیدہ ظالم غیور کیا تھا
میر تقی میر

شمع روشن کے منھ پہ نور نہیں

دیوان اول غزل 341
بزم میں جو ترا ظہور نہیں
شمع روشن کے منھ پہ نور نہیں
کتنی باتیں بنا کے لائوں ایک
یاد رہتی ترے حضور نہیں
خوب پہچانتا ہوں تیرے تئیں
اتنا بھی تو میں بے شعور نہیں
قتل ہی کر کہ اس میں راحت ہے
لازم اس کام میں مرور نہیں
فکر مت کر ہمارے جینے کا
تیرے نزدیک کچھ یہ دور نہیں
پھر جئیں گے جو تجھ سا ہے جاں بخش
ایسا جینا ہمیں ضرور نہیں
عام ہے یار کی تجلی میر
خاص موسیٰ و کوہ طور نہیں
میر تقی میر

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

دیوان اول غزل 1
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا
پیدا ہر ایک نالے سے شورنشور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم
یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا
مجلس میں رات ایک ترے پر توے بغیر
کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا
اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا
دیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا
منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا
اس رند کی بھی رات گذر گئی جو عور تھا
ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر
اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا
کل پائوں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میر
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا
میر تقی میر

اُنہی کے دم سے منوّر ہوا شعور مرا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 4
ہزیمتیں جو فنا کر گئیں غرور مرا
اُنہی کے دم سے منوّر ہوا شعور مرا
میں حیرتی کسی منصور کی تلاش میں ہوں
کرے جو آ کے یہ آئینہ چُور چُور مرا
رواجِ ذہن سے میں اختلاف رکھتا تھا
سرِ صلیب مجھے لے گیا فتور مرا
وہ اجنبی ہے مگر اجنبی نہیں لگتا
یہی کہ اُس سے کوئی ربط ہے ضرور مرا
میں ڈوب کر بھی کسی دَور میں نہیں ڈوبا
رہا ہے مطلعِٔ اِمکان میں ظہور مرا
اِسے اب عہدِ الم کی عنایتیں کہئے
کہ ظلمتوں میں اُجاگر ہوا ہے نور مرا
میں اِس لحاظ سے بے نام، نام آور ہوں
کہ میرے بعد ہوا ذکر دُور دُور مرا
آفتاب اقبال شمیم

مرے لیے یہ ذرا سا چراغِ طور بہت

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 142
گمانِ صبح ہے کافی، خیالِ نور بہت
مرے لیے یہ ذرا سا چراغِ طور بہت
میں بارگاہِ محبت میں کس طرح جاؤں
مرے گناہ بہت ہیں مرے قصور بہت
یہی بہت کہ خزاں میں بہار ہے مجھ پر
ہے پھول پھول، یہی شاخ کو شعور بہت
تمام عہد نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھے ہیں
ہوا ہے شعر میں شاید مرا ظہور بہت
یہ میرے بیگ میں رکھ دے نا کانچ کے ٹکڑے
میں بھیج دوں گا نئی چوڑیاں ، ضرور، بہت
نصیب، نسبتِ دشتِ عرب جسے منصور
بروز حشر وہی سایۂ کھجور بہت
منصور آفاق