ٹیگ کے محفوظات: شرمگیں

شمع ساں مجبورِ خوئے آتشیں تو کب نہ تھا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 22
آج ہی کیا آگ ہے، سرگرمِ کیں تو کب نہ تھا
شمع ساں مجبورِ خوئے آتشیں تو کب نہ تھا
آج ہی دعویٰ ہے کیا تجھ کو بتانِ دہر سے
غیرتِ غلمان و رشکِ حورِ عیں تو کب نہ تھا
آج ہی ہر بات پر بے وجہ کیا رکتا ہے تو
اے ستم گر! برسرِ پرخاش و کیں تو کب نہ تھا
آج ہی تیری جگہ کچھ سینہ و دل میں نہیں
مثلِ تیرِ غمزہ ظالم! دل نشیں تو کب نہ تھا
آج ہی کیا شرم و شوخی کو ملایا ہے بہم
غیر سے بے باک، مجھ سے شرمگیں تو کب نہ تھا
آج ہی کیا ہے فلک پر شکوۂ فریادِ خلق
اے ستم گر! آفتِ روئے زمیں تو کب نہ تھا
آج ہی کیا دشمنوں سے قتل کی تدبیر ہے
اے جفا جو! در پئے جانِ حزیں تو کب نہ تھا
آج ہی باتیں بنانی یاں کے آنے میں نہیں
حیلہ گر تو کب نہ تھا، عذر آفریں تو کب نہ تھا
آج ہی اٹھ کر یہاں سے کیا عدو کے گھر گیا
مہر وش شب کو کہیں، دن کو کہیں تو کب نہ تھا
آج ہی ٹیکہ لگانے سے لگے کیا چار چاند
بے تکلف، بے تکلف مہ جبیں تو کب نہ تھا
آج ہی کچھ سوزِ ہجراں سے نہیں پروانہ وار
شیفتہ بے تابِ روئے آتشیں تو کب نہ تھا
مصطفٰی خان شیفتہ

کہ صورت آسماں کی دیکھ کر میں نے زمیں دیکھی

دیوان سوم غزل 1301
کریہہ الشکل ہیئت آن کر ایسی نہیں دیکھی
کہ صورت آسماں کی دیکھ کر میں نے زمیں دیکھی
کبھو دیکھوگے تم جو وہ طرح دار اس طرف آیا
طرح ترکیب ایسی ہم نے اب تک تو نہیں دیکھی
مہ یک ہفتہ دلکش اس قدر کاہے کو ہوتا ہے
کروں ہوں شکر کے سجدے کہ میں نے وہ جبیں دیکھی
کہاں وہ طرز کیں اس کی کہاں چین جبیں اس کی
لگا کر بارہا اس شوخ سے تصویر چیں دیکھی
گریباں پھاڑ ڈالیں دیکھ کر دامن کشاں اس کو
پھٹے خرقے بہت جو چاک کی وہ آستیں دیکھی
ترے بیمار کی بالیں پہ جا کر ہم بہت روئے
بلا حسرت کے ساتھ اس کی نگاہ واپسیں دیکھی
نظر اس کی حیا سے میر پشت پا پر اکثر ہے
کنھوں نے کاہے کو اس کی سی چشم شرمگیں دیکھی
میر تقی میر