ٹیگ کے محفوظات: شرما

میری تشنہ خواہشیں بچّہ مرا دُہرا آ گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
جب کبھی اندوہِ رفتہ بھُولنے پر آ گیا
میری تشنہ خواہشیں بچّہ مرا دُہرا آ گیا
لے لیا مٹھی میں تتلی جان کر کیسا شرر
کھیل میں خواہش کے مَیں کیسا یہ دھوکا کھا گیا
تھا تواضح میں تو مہماں کی بڑا ہی سرخرو
میں تقاضائے اعانت پر مگر شرما گیا
زلزلے ماضی کے پنہاں تھے وہ جس کی دِید میں
سرسے لے کر پاؤں تک یکسر مجھے دہلا گیا
گفتگو تو تھی خنک گوئی پہ ساری منحصر
کون سا جھونکا دبی چنگاریاں سلگا گیا
کلبلائیں بھی تو کیا اظہارِ پامالی پہ ہم
اب تو یہ انداز ہے ماجدؔ ہمیں بھی بھا گیا
ماجد صدیقی

جی فرطِ احتیاط سے گھبرا کے رہ گیا

نینا عادل ۔ غزل نمبر 8
ہونٹوں پہ میرے نام ترا آ کے رہ گیا
جی فرطِ احتیاط سے گھبرا کے رہ گیا
شرطیں تھیں انجذاب کی اتنی کڑی کہ بس
ہر عکس آئینے سے ہی ٹکرا کے رہ گیا!
صدیاں ہوئیں کہ تیری نہیں اس نے لی خبر
معبد میں دیوتا ترا پتھرا کے رہ گیا
اس یارِ طرح دار کی خاموشیوں میں تھا
ایسا سخن کہ حرف بھی شرما کے رہ گیا
کیسا لگاؤ! کیسی محبت جہان سے!!
دل یار دوستوں سے بھی کترا کے رہ گیا
اک خواب میں بدل گئیں ساری حقیقتیں
ہر عکس ایک عکس میں دھندلا کے رہ گیا
دل نے بنایا کیا اسے مہمان ایک دن
نیناؔ وہ دلنواز ’’یہیں ‘‘ آ کے رہ گیا
نینا عادل

کل تو اک احساس نے میرے سامنے آ کر رقص کیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 16
تیری یاد کی خوشبو نے بانہیں پھیلا کر رقص کیا
کل تو اک احساس نے میرے سامنے آ کر رقص کیا
اپنی ویرانی کا سارا رنج بُھلا کر صحرا نے
میری دل جوئی کی خاطر خاک اڑا کر رقص کیا
پہلے میں نے خوابوں میں پھیلائی درد کی تاریکی
پھر اُس میں اک جھلمل روشن یاد سجا کر رقص کیا
دیواروں کے سائے آ کر میرے جلو میں ناچ اٹھے
میں نے اُس پُر ہول گلی میں جب بھی جا کر رقص کیا
اُس کی آنکھوں میں کل شب ایک تلاش مجسم تھی
میں نے بھی کیسے بازو لہرا لہرا کر رقص کیا
اُس کا عالم دیکھنے والا تھا جس دم اک ہُو گونجی
پہلے پہل تو اُس نے کچھ شرما شرما کر رقص کیا
رات گئے جب سناٹا سر گرم ہوا تنہائی میں
دل کی ویرانی نے دل سے باہر آ کر رقص کیا
دن بھر ضبط کا دامن تھامے رکھا خوش اسلوبی سے
رات کو تنہا ہوتے ہی کیا وجد میں آ کر رقص کیا
مجھ کو دیکھ کے ناچ اٹھی اک موج بھنور کے حلقے میں
نرم ہوا نے ساحل پر اک نقش بنا کر رقص کیا
بے خوابی کے سائے میں جب دو آنکھیں بے عکس ہوئیں
خاموشی نے وحشت کی تصویر اٹھا کر رقص کیا
کل عرفانؔ کا ذکر ہوا جب محفل میں تو دیکھو گے
یاروں نے ان مصرعوں کو دہرا دہرا کر رقص کیا
عرفان ستار

میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 286
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
آبگینہ تندئِ صہبا سے پگھلا جائے ہے
غیر کو یا رب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرے
گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے
دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
دور چشمِ بد تری بزمِ طرب سے واہ واہ
نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
گرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشق
پر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
اس کی بزم آرائیاں سن کر دلِ رنجور، یاں
مثلِ نقشِ مدّعائے غیر بیٹھا جائے ہے
ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
رنگ کھُلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے
نقش کو اس کے مصوّر پر بھی کیا کیا ناز ہیں
کھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے
سایہ میرا مجھ سے مثلِ دود بھاگے ہے اسدؔ
پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کانپا کرے ہے جی سو ٹھہرا کے رہ گئے ہم

دیوان چہارم غزل 1438
ایک آدھ دن سنوگے سنّا کے رہ گئے ہم
کانپا کرے ہے جی سو ٹھہرا کے رہ گئے ہم
واشد ہوئی سو اپنی پژمردگی سے بدتر
موسم گئے کے گل سے مرجھا کے رہ گئے ہم
پرداغ دل کو لے کر آخر کیا کنارہ
اس باغ سے گلی میں جا جا کے رہ گئے ہم
سوز دروں نے ہم کو پردے میں مار رکھا
جوں شمع آپ ہی کو کھا کھا کے رہ گئے ہم
حیرت سے عاشقی کی پوچھا تھا دوستوں نے
کہہ سکتے کچھ تو کہتے شرما کے رہ گئے ہم
اے وائے دل گئے پر جی بھی گیا ہمارا
یعنی کہ میر برسوں پچھتا کے رہ گئے ہم
میر تقی میر

ہنس کے اس پرچے کو میرے ہی گلے بندھوا گیا

دیوان دوم غزل 706
تیغ کی اپنی صفت لکھتے جو کل وہ آگیا
ہنس کے اس پرچے کو میرے ہی گلے بندھوا گیا
دست و پا گم کرنے سے میرے کھلے اسرار عشق
دیکھ کر کھویا گیا سا مجھ کو ہر یک پا گیا
داغ محجوبی ہوں اس کا میں کہ میرے روبرو
عکس اپنا آرسی میں دیکھ کر شرما گیا
ہم بشر عاجز ثبات پا ہمارا کس قدر
دیکھ کر اس کو ملک سے بھی نہ یاں ٹھہرا گیا
یار کے بالوں کا بندھنا قہر ہے پگڑی کے ساتھ
ایک عالم دوستاں اس پیچ میں مارا گیا
ہم نہ جانا اختلاط اس طفل بازی کوش کا
گرم بازی آگیا تو ہم کو بھی بہلا گیا
کیا کروں ناچار ہوں مرنے کو اب تیار میں
دل کی روز و شب کی بیتابی سے جی گھبرا گیا
جی کوئی لگتا ہے اس کے اٹھ گئے پر باغ میں
گل نے بہتیرا کہا ہم سے نہ ٹک ٹھہرا گیا
ہو گئے تحلیل سب اعضا مرے پاکر گداز
رفتہ رفتہ ہجر کا اندوہ مجھ کو کھا گیا
یوں تو کہتا تھا کوئی ویسے کو باندھے ہے گلے
پر وہ پھندنا سا جو آیا میر بھی پھندلا گیا
میر تقی میر

طرح اس میں مجنوں کی سب پا گئی

دیوان اول غزل 439
ہمیں آمد میر کل بھا گئی
طرح اس میں مجنوں کی سب پا گئی
کہاں کا غبار آہ دل میں یہ تھا
مری خاک بدلی سی سب چھا گئی
کیا پاس بلبل خزاں نے نہ کچھ
گل و برگ بے درد پھیلا گئی
ہوئی سامنے یوں تو ایک ایک کے
ہمیں سے وہ کچھ آنکھ شرما گئی
جگر منھ تک آتے نہیں بولتے
غرض ہم بھی کرتے ہیں کیا کیا گئی
نہ ہم رہ کوئی ناکسی سے گیا
مری لاش تا گور تنہا گئی
گھٹا شمع ساں کیوں نہ جائوں چلا
تب غم جگر کو مرے کھا گئی
کوئی رہنے والی ہے جان عزیز
گئی گر نہ امروز فردا گئی
کیے دست و پا گم جو میر آگیا
وفا پیشہ مجلس اسے پا گئی
میر تقی میر