ٹیگ کے محفوظات: شرارے

یعنی وہ سب جو ترا ہجر گزارے ہوئے ہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 43
بام پر جمع ہوا، ابر ، ستارے ہوئے ہیں
یعنی وہ سب جو ترا ہجر گزارے ہوئے ہیں
زندگی، ہم سے ہی روشن ہے یہ آئینہ ترا
ہم جو مشاطہءِ وحشت کے سنوارے ہوئے ہیں
حوصلہ دینے جو آتے ہیں، بتائیں انھیں کیا؟
ہم تو ہمت ہی نہیں، خواب بھی ہارے ہوئے ہیں
شوقِ واماندہ کو درکار تھی کوئی تو پناہ
سو تمہیں خلق کیا، اور تمہارے ہوئے ہیں
خود شناسی کے، محبت کے، کمالِ فن کے
سارے امکان اُسی رنج پہ وارے ہوئے ہیں
روزنِ چشم تک آپہنچا ہے اب شعلہ ءِ دل
اشک پلکوں سے چھلکتے ہی شرارے ہوئے ہیں
ڈر کے رہ جاتے ہیں کوتاہیءِ اظہار سے چُپ
ہم جو یک رنگی ءِ احساس کے مارے ہوئے ہیں
ہم کہاں ہیں، سرِ دیوارِ عدم، نقشِ وجود
اُن نگاہوں کی توجہ نے اُبھارے ہوئے ہیں
بڑھ کے آغوش میں بھر لے ہمیں اے رُوحِ وصال
آج ہم پیرہنِ خاک اُتارے ہوئے ہیں
عرفان ستار

شہر میں ایک ہی دو ہوں گے ہمارے جیسے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 274
شمعِ تنہا کی طرح، صبح کے تارے جیسے
شہر میں ایک ہی دو ہوں گے ہمارے جیسے
چھو گیا تھا کبھی اس جسم کو اک شعلۂ درد
آج تک خاک سے اڑتے ہیں شرارے جیسے
حوصلے دیتا ہے یہ ابرِ گریزاں کیا کیا
زندہ ہوں دشت میں ہم اس کے سہارے جیسے
سخت جاں ہم سا کوئی تم نے نہ دیکھا ہو گا
ہم نے قاتل کئی دیکھے ہیں تمہارے جیسے
دیدنی ہے مجھے سینے سے لگانا اس کا
اپنے شانوں سے کوئی بوجھ اتارے جیسے
اب جو چمکا ہے یہ خنجر تو خیال آتا ہے
تجھ کو دیکھا ہو کبھی نہر کنارے جیسے
اس کی آنکھیں ہیں کہ اک ڈوبنے والا انساں
دوسرے ڈوبنے والے کو پکارے جیسے
عرفان صدیقی