ٹیگ کے محفوظات: شرارہ

ہے گریبان پارہ پارہ ہنوز

دیوان اول غزل 232
ضبط کرتا نہیں کنارہ ہنوز
ہے گریبان پارہ پارہ ہنوز
آتش دل نہیں بجھی شاید
قطرئہ اشک ہے شرارہ ہنوز
خاک میں ہے وہ طفل اشک اس بن
چشم ہے جس کا گاہوارہ ہنوز
اشک جھمکا ہے جب نہ نکلا تھا
چرخ پر صبح کا ستارہ ہنوز
ایک بار آ کے پھر نہیں آیا
عمر کی طرح وہ دوبارہ ہنوز
لب پہ آئی ہے جان کب کی ہے
اس کی موقوف یک اشارہ ہنوز
کب کی توبہ کی میر نے لیکن
ہے بتر از شراب خوارہ ہنوز
عمر گذری دوائیں کرتے میر
درد دل کا ہوا نہ چارہ ہنوز
میر تقی میر

ہوا طلوع افق پر مرے دوبارہ کوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 209
شہاب چہرہ کوئی گم شدہ ستارہ کوئی
ہوا طلوع افق پر مرے دوبارہ کوئی
اُمیدواروں پہ کھلتا نہیں وہ بابِ وصال
اور اس کے شہر سے کرتا نہیں کنارہ کوئی
مگر گرفت میں آتا نہیں بدن اس کا
خیال ڈھونڈتا رہتا ہے استعارہ کوئی
کہاں سے آتے ہیں یہ گھر اُجالتے ہوئے لفظ
چھپا ہے کیا مری مٹی میں ماہ پارہ کوئی
بس اپنے دل کی صدا پر نکل چلیں اس بار
کہ سب کو غیب سے ملتا نہیں اشارہ کوئی
گماں نہ کر کہ ہوا ختم کارِ دل زدگاں
عجب نہیں کہ ہو اس راکھ میں شرارہ کوئی
اگر نصیب نہ ہو اس قمر کی ہم سفری
تو کیوں نہ خاکِ گزر پر کرے گزارہ کوئی
عرفان صدیقی

یعنی میرا استعارہ رکھ دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 112
ریل کی پٹڑی پہ تارہ رکھ دیا
یعنی میرا استعارہ رکھ دیا
کھینچ کر اس نے نظر کی ایک حد
آنکھ میں شوقِ نظارہ رکھ دیا
خاک پر بھیجا مجھے اور چاند پر
میری قسمت کا ستارہ رکھ دیا
بچ بچا کر کوزہ گر کی آنکھ سے
چاک پر خود کو دوبارہ رکھ دیا
دور تک نیلا سمندر دیکھ کر
میں نے کشتی میں کنارہ رکھ دیا
انتظار آباد یوں رکھا بدن
ہر روئیں پر ایک تارہ رکھ دیا
دیکھا جو سوکھی ہوئی لکڑی کا دل
اس میں خواہش کا شرارہ رکھ دیا
پہلے رکھا یاد نے منصور ہاتھ
رفتہ رفتہ بوجھ سارا رکھ دیا
منصور آفاق