ٹیگ کے محفوظات: شرارا

کسی پر دل ہمارا آ گیا تھا

نینا عادل ۔ غزل نمبر 7
گنہ کرنے کا یارا آ گیا تھا
کسی پر دل ہمارا آ گیا تھا
نہ آیا دنیا داری کا سلیقہ
مگر کرنا گزارا آ گیا تھا
تیری آواز کے دو گھونٹ پی کر
نشہ رگ رگ میں سارا آ گیا تھا
تصورتاب لا پائے نہ جس کی
بدن میں وہ شرارا آ گیا تھا
عدو کا وار اب جائے نہ خالی
کوئی غیبی اشارہ آ گیا تھا
کتابِ زیست رہ جاتی ادھوری
مگر قصہ تمھارا آ گیا تھا
رواں ہونے لگی تھی سانس نیناؔ
موافق یہ خسارہ آ گیا تھا
نینا عادل

ہنسنا آیا ہے نہ رونا ہم کو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 92
غم بنا دے نہ تماشا ہم کو
ہنسنا آیا ہے نہ رونا ہم کو
ہم ابھی تک ہیں وہیں راہ نشیں
جس جگہ آپ نے چھوڑا ہم کو
اک صدا تک تھی عنایت ساری
پھر کسی نے بھی نہ پوچھا ہم کو
آج دیکھا ہے نیا رنگ ان کا
دو گھڑی چھوڑ دو تنہا ہم کو
زندگی لے گئی طوفانوں میں
دے کے تنکے کا سہارا ہم کو
تیری محفل کے چراغوں کے تلے
کچھ نشاں ملتا ہے اپنا ہم کو
ہو گئے چپ ہمیں پاگل کہہ کر
جب کسی نے بھی نہ سمجھا ہم کو
بات ہو، شعر ہو، افسانہ ہو
ہے بہت کچھ ابھی کہنا ہم کو
کوئی روزن ہو کہ دروازہ ہو
چاہئے ایک شرارا ہم کو
فصل گل آئی مگر کیا آئی
رنگ بھولا نہ خزاں کا ہم کو
لے گیا ساتھ اڑا کر باقیؔ
ایک سوکھا ہوا پتہ ہم کو
باقی صدیقی