ٹیگ کے محفوظات: شبنمیں

تھاموں قلم تو سادہ ورق بھی حسیں لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
ہر حرف تُجھ بدن کا نظر کے قریں لگے
تھاموں قلم تو سادہ ورق بھی حسیں لگے
آتا ہو چھُو کے جیسے ترے ہی جمال کو
اب کے تو ہر خیال مجھے شبنمیں لگے
چھایا ہے وُہ خمار تری صبحِ یاد کا
جو موجۂ صبا ہے مے و انگبیں لگے
شعلے تمام اس میں تری دید ہی کے ہیں
میری نگاہ کیوں نہ بھلا آتشیں لگے
انوار اور بھی تو پہنچ میں ہیں اب مری
کیوں کریہ ایک چاند ہی تیری جبیں لگے
میرے لُہو کا حسُن بھی جھلکے بہ حرف و صوت
ہاں اپنے ہاتھ تُجھ سا اگر نازنیں لگے
خوشبُو ہے اس میں رنگ ہیں، ندرت ہے تہ بہ تہ
ماجدؔ کا شعر تیرے بدن کی زمیں لگے
ماجد صدیقی

مگر وہ زخم جو اُس دستِ شبنمیں سے ملیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 59
متاعِ قلب و جگر ہیں ،ہمیں کہیں سے ملیں
مگر وہ زخم جو اُس دستِ شبنمیں سے ملیں
نہ شام ہے ، نہ گھنی رات ہے ، نہ پچھلا پہر
عجیب رنگ تری چشمِ سُرمگیں سے ملیں
میں اِس وصال کے لمحے کا نام کیا رکھوں
ترے لباس کی شِکنیں تری جبیں سے ملیں
ستائش مرے احباب کی نوازش ہیں
مگر صلے تو مجھے اپنے نکتہ چیں سے ملیں
تمام عُمر کی نامعتبر رفاقت سے
کہیں بھلا ہو کہ پَل بھر ملیں ،یقیں سے ملیں
یہی رہا ہے مقدر، مرے کسانوں کا
کہ چاند بوئیں اور ان کو گہن زمیں سے ملیں
پروین شاکر

سارا گھر احمریں نظر آیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 37
جب وہ ناز آفریں نظر آیا
سارا گھر احمریں نظر آیا
میں نے جب بھی نگاہ کی تو مجھے
اپنا گل شبنمیں نظر آیا
حسبِ خواہش میں اس سے ملتے وقت
سخت اندوہ گیں نظر آیا
گرم گفتار ہے وہ کم گفتار
کیا اسے میں نہیں نظر آیا
وقتِ تخصت، دمِ سکوت اور صحن
آج چرخِ بریں نظر آیا
شہر ہا شہر گھومنے والو
تم کو وہ بھی کہیں نظر آیا
اُس کو گم کر کے اپنا ہر دُرِ اشک
ننگِ ہر آستیں نظر آیا
کون آیا ہے دیکھ تیرہ نگاہ!
نظر آیا؟ نہیں نظر آیا
تُو مجھے اے مرے فروغِ نگاہ
اب دمِ واپسیں نظر آیا
جون ایلیا