ٹیگ کے محفوظات: شا

الجھائو تھا جو اس کی زلفوں سے سو گیا نہ

دیوان چہارم غزل 1484
سر تو بہت بکھیرا پر فائدہ کیا نہ
الجھائو تھا جو اس کی زلفوں سے سو گیا نہ
وے زلفیں عقدہ عقدہ ہیں آفت زمانہ
عقدہ ہمارے دل کا ان سے بھی کچھ کھلا نہ
غنچے کے دل کی کچھ تھی واشد بہار آئی
افسوس ہے کہ موسم گل کا بہت رہا نہ
مرنا ہمارا اس سے کہہ دیکھیں یار جاکر
حال اس کا یہ خبر بھی درہم کرے ہے یا نہ
کن رس بھی حیف اس کو تھا نہ کہا تو کیا کیا
قطعہ لطیفہ بذلہ شعر و غزل ترانہ
بیمارعشق بے کس جیتا رہے گا کیوں کر
احوال گیر کم ہو پہنچے بہم دوا نہ
یوں درمیاں چمن کے لے تو گئے تھے ہم کو
پر فرط بے خودی سے ہم تھے نہ درمیانہ
چھو سکتے بھی نہیں ہیں ہم لپٹے بال اس کے
ہیں شانہ گیر سے جو یہ لڑکے نرم شانہ
وحشت چمن میں ہم کو کل صبح بیشتر تھی
بے اس کے پھول گل سے جی ایک دم لگا نہ
صحبت برآر اپنی لوگوں سے کیونکے ہووے
معقول گو ہم اتنے وے ایسے ہرزہ چا نہ
رگڑے گئے ہیں جبہے ازبسکہ راستوں کے
آئینہ ہو رہا ہے وہ سنگ آستانہ
ہے عینہٖ ابلنا سیلاب رود کا سا
اے میر چشم تر ہے یا کوئی رودخانہ
میر تقی میر

کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی

دیوان دوم غزل 963
متاع دل اس عشق نے سب جلا دی
کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی
دلیل اس بیاباں میں دل ہی ہے اپنا
نہ خضر و بلد یاں نہ رہبر نہ ہادی
مزاجوں میں یاس آگئی ہے ہمارے
نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی شادی
نہ پوچھو کہ چھاتی کے جلنے نے آخر
عجب آگ دل میں جگر میں لگا دی
وفا لوگ آپس میں کرتے تھے آگے
یہ رسم کہن آہ تم نے اٹھا دی
جدا ان غزالان شہری سے ہوکر
پھرے ہم بگولے سے وادی بہ وادی
صبا اس طرف کو چلی جل گئے ہم
ہوا یہ سبب اپنے مرنے کا بادی
وہ نسخہ جو دیکھا بڑھا روگ دل کا
طبیب محبت نے کیسی دوا دی
ملے قصر جنت میں پیر مغاں کو
ہمیں زیر دیوار میخانہ جا دی
نہ ہو عشق کا شور تا میر ہرگز
چلے بس تو شہروں میں کریے منادی
میر تقی میر

کہاں تک خاک میں میں تو گیا مل

دیوان دوم غزل 853
بہت مدت گئی ہے اب ٹک آ مل
کہاں تک خاک میں میں تو گیا مل
ٹک اس بے رنگ کے نیرنگ تو دیکھ
ہوا ہر رنگ میں جوں آب شامل
نہیں بھاتا ترا مجلس کا ملنا
ملے تو ہم سے تو سب سے جدا مل
غنیمت جان فرصت آج کے دن
سحر کیا جانے کیا ہو شب ہے حامل
اگرچہ ہم نہیں ملنے کے لائق
کسو تو طرح ہم سے بھی بھلا مل
لیا زاہد نے جام بادہ کف پر
بحمد اللہ کھلا عقد انامل
وہی پہنچے تو پہنچے آپ ہم تک
نہ یاں طالع رسا نے جذب کامل
ہوا دل عشق کی سختی سے ویراں
ملائم چاہیے تھا یاں کا عامل
پس از مدت سفر سے آئے ہیں میر
گئیں وہ اگلی باتیں تو ہی جا مل
میر تقی میر

شام سے تا صبح دم بالیں پہ سر یک جا نہ تھا

دیوان اول غزل 95
کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا
شام سے تا صبح دم بالیں پہ سر یک جا نہ تھا
شہرئہ عالم اسے یمن محبت نے کیا
ورنہ مجنوں ایک خاک افتادئہ ویرانہ تھا
منزل اس مہ کی رہا جو مدتوں اے ہم نشیں
اب وہ دل گویا کہ اک مدت کا ماتم خانہ تھا
اک نگاہ آشنا کو بھی وفا کرتا نہیں
وا ہوئیں مژگاں کہ سبزہ سبزئہ بیگانہ تھا
روز و شب گذرے ہے پیچ و تاب میں رہتے تجھے
اے دل صد چاک کس کی زلف کا تو شانہ تھا
یاد ایامے کہ اپنے روز و شب کی جاے باش
یا در باز بیاباں یا در میخانہ تھا
جس کو دیکھا ہم نے اس وحشت کدے میں دہر کے
یا سڑی یا خبطی یا مجنون یا دیوانہ تھا
بعد خوں ریزی کے مدت بے حنا رنگیں رہا
ہاتھ اس کا جو مرے لوہو میں گستاخانہ تھا
غیر کے کہنے سے مارا ان نے ہم کو بے گناہ
یہ نہ سمجھا وہ کہ واقع میں بھی کچھ تھا یا نہ تھا
صبح ہوتے وہ بناگوش آج یاد آیا مجھے
جو گرا دامن پہ آنسو گوہر یک دانہ تھا
شب فروغ بزم کا باعث ہوا تھا حسن دوست
شمع کا جلوہ غبار دیدئہ پروانہ تھا
رات اس کی چشم میگوں خواب میں دیکھی تھی میں
صبح سوتے سے اٹھا تو سامنے پیمانہ تھا
رحم کچھ پیدا کیا شاید کہ اس بے رحم نے
گوش اس کا شب ادھر تا آخر افسانہ تھا
میر بھی کیا مست طافح تھا شراب عشق کا
لب پہ عاشق کے ہمیشہ نعرئہ مستانہ تھا
میر تقی میر

سزائے موت، سارے شہر کو اُس نے سنا دی ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 75
منادی ہے بموں کے طبلِ دہشت پر منادی ہے
سزائے موت، سارے شہر کو اُس نے سنا دی ہے
بگولا جو اٹھا ہے پھیل کر طوفاں نہ بن جائے
کسی نے خار و خس کو زورِ آتش سے ہوا دی ہے
اسے ہم عقدِ مستقبل کا ہنگامہ سمجھتے ہیں
یہ کوئی شورِ ماتم ہے نہ کوئی جشنِ شادی ہے
نہیں ،کچھ بھی نہیں خواب و شکستِ خواب سے آگے
یہی سمجھو کہ ساری عمر ہی ہم نے گنوا دی ہے
وہ کیا جانے کہ توہینِ غرورِ عاشقاں کیا ہے
ہمارے یار نے تو خیر سے گردن جھکا دی ہے
مفاد اول، مفاد آخر، یہی محور ہے رشتوں کا
یہاں جو آج کا دشمن ہے کل کا اتحادی ہے
آفتاب اقبال شمیم