ٹیگ کے محفوظات: شاہکار

زخمی نظر سے چُوم لیا خار خار کو

یوں بھی دیا خراجِ عقیدت بہار کو
زخمی نظر سے چُوم لیا خار خار کو
دنیا اسی کو تنگ نظر کہہ رہی ہے آج
جس نے پناہ دی ہے ترے اعتبار کو
کیسے کہیں کہ ہم سے ہے توقیرِ رنگ و بُو
اب تک چھپا رہے ہیں وہ رازِ بہار کو
منزل پہ آ کے خواہشِ منزل بدل گئی
پھر کوئی جستجو ہے مرے جذبِ کار کو
بروقت آگیا ہے کوئی وعدہ کوش آج
اک دن چُھپا لیا تھا غمِ انتظار کو
تسلیم وہ حَسیں ہیں مگر میرے ذوق نے
تشکیل دی ہے ایک نئے شاہکار کو
کرنے لگا ہے چھیڑ، غمِ عشق سے، شکیبؔ
یہ حوصلہ ہوا ہے غمِ روزگار کو
شکیب جلالی

بس اک نگاہِ کرم کا اُمیدوار ہوں میں

تمھارے عشق میں مجبور و بے قرار ہوں میں
بس اک نگاہِ کرم کا اُمیدوار ہوں میں
مسرّتیں ہیں زمانے کو، اور الَم مجھ کو
کسی نرالے مصوّر کا شاہکار ہوں میں
کسی کی شانِ کریمی کی لاج رہ تو گئی
گُنَہ نہ کرنے کا بے شک گناہ گار ہوں میں
ستم ظریفیِ دوراں، ارے معاذ اللہ
گُلوں کی طرح سے اک قلبِ داغ دار ہوں میں
تری نگاہِ کرم نے شگفتگی دے دی
وگرنہ دیر کی اُجڑی ہوئی بہار ہوں میں
چلے بھی آئیں خدارا کہ وقتِ آخر ہے
ازل سے آپ کی تصویرِ انتظار ہوں میں
نہ جانے لوگ مجھے کیوں شکیبؔ کہتے ہیں
کسی کی یاد میں ہر وقت بے قرار ہوں میں
شکیب جلالی

ہے چیز کون سی جو تیرا شاہکار نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 136
یہ گل نہیں یہ شگوفے نہیں یہ خار نہیں
ہے چیز کون سی جو تیرا شاہکار نہیں
خیال تیری طرف ہو تو غم بھی بار نہیں
یہ کیا گلہ ہے کہ ماحول سازگار نہیں
چمن کو دیکھ کے دیکھو بنانے والے کو
مقام فکر بھی ہے صرف یہ بہار نہیں
تری نگاہ کرم کی امید ہے ورنہ
میرے گناہوں کا یا رب کوئی شمار نہیں
زمانہ راز ہے تو راز ہی رہے باقیؔ
اسی میں اپنا بھرم ہے کہ آشکار نہیں
باقی صدیقی

بے سدھ پڑا ہوں آخری پتھر بھی مار لو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 90
حسرت ہے جو نکال لو غصہ اتار لو
بے سدھ پڑا ہوں آخری پتھر بھی مار لو
دنیا ہے نام موت کا عقبِ حیات کا
آگے خوشی تمہاری خزاں لو بہار لو
دنیا تو اپنی بات کبھی چھوڑتی نہیں
جس طرح تم گزار سکو دن گزار لو
کچھ دیر اور بزم میں ان کی چلے گی بات
کچھ آ گئے ہیں اور مرے غمگسار لو
لے کر بیاض کیوں نہ پکاروں گلی گلی
میرا لہو خریدو، مرے شاہکار لو
باقیؔ تمہیں حیات کا ساماں تو مل گیا
اک لمحے کی خوشی بھی کسی سے ادھار لو
باقی صدیقی