ٹیگ کے محفوظات: شانہ

وہ الجھے ہی رہیں گے زلف میں شانہ تو کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 23
اگر چھوٹا بھی اس سے آئینہ خانہ تو کیا ہو گا
وہ الجھے ہی رہیں گے زلف میں شانہ تو کیا ہو گا
بھلا اہلِ جنوں سے ترکِ ویرانہ تو کیا ہو گا
خبر آئے گی ان کی ان کا اب آنا تو کیا ہو گا
سنے جاؤ جہاں تک سن سکو جن نیند آئی گی
وہیں ہم چھوڑ دیں گے ختم افسانہ تو کیا ہو گا
اندھیری رات، زِنداں، پاؤں میں زنجیریں، تنہائی
اِس عالم میں نہ مر جائے گا دیوانہ تو کیا ہو گا
ابھی تو مطمئن ہو ظلم کا پردہ ہے خاموشی
اگر منہ سے بول اٹھا یہ دیوانہ تو کیا ہو گا
جنابِ شیخ ہم تو رند ہیں چلو سلامت ہے
جو تم نے توڑ ڈالا یہ پیمانہ تو کیا ہو گا
یہی ہے گر خوشی تو رات بھر گنتے رہو تارے
قمر اس چاندنی میں ان کا اب آنا تو کیا ہو گا
قمر جلالوی

میں خوش ہوں اسی شہر سے میخانہ جہاں ہو

دیوان پنجم غزل 1704
دل کھلتا ہے واں صحبت رندانہ جہاں ہو
میں خوش ہوں اسی شہر سے میخانہ جہاں ہو
ان بکھرے ہوئے بالوں سے خاطر ہے پریشاں
وے جمع ہوئے پر ہیں بلا شانہ جہاں ہو
رہنے سے مرے پاس کے بدنام ہوئے تم
اب جاکے رہو واں کہیں رسوا نہ جہاں ہو
کچھ حال کہیں اپنا نہیں بے خودی تجھ کو
غش آتا ہے لوگوں کو یہ افسانہ جہاں ہو
کیوں جلتا ہے ہر جمع میں مانند دیے کے
اس بزم میں جا شمع سا پروانہ جہاں ہو
ان اجڑی ہوئی بستیوں میں دل نہیں لگتا
ہے جی میں وہیں جا بسیں ویرانہ جہاں ہو
وحشت ہے خردمندوں کی صحبت سے مجھے میر
اب جا رہوں گا واں کوئی دیوانہ جہاں ہو
میر تقی میر

طپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا

دیوان اول غزل 114
جدا جو پہلو سے وہ دلبر یگانہ ہوا
طپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا
جہاں کو فتنے سے خالی کبھو نہیں پایا
ہمارے وقت میں تو آفت زمانہ ہوا
خلش نہیں کسو خواہش کی رات سے شاید
سرشک یاس کے پردے میں دل روانہ ہوا
ہم اپنے دل کی چلے دل ہی میں لیے یاں سے
ہزار حیف سر حرف اس سے وا نہ ہوا
کھلا نشے میں جو پگڑی کا پیچ اس کی میر
سمند ناز پہ ایک اور تازیانہ ہوا
میر تقی میر

یہ مرا دیس مصیبت زدہ کاشانہ ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 57
جسم دو لخت ہواجب سے جدا شانہ ہوا
یہ مرا دیس مصیبت زدہ کاشانہ ہوا
وقت پھر ایسابھی آیا کہ اسے ملتے ہوئے
کوئی آنسو نہ گرا کوئی تماشا نہ ہوا
میں نے بھی وزن کیا لوگ جہاں تلتے تھے
ڈیڑھ سرسائی ہوا ،پورا میں ماشا نہ ہوا
یہ تری جنگ ہوئی امن و اماں کی تحریک
میرے آغشتہ ء خوں عہد کا لاشہ نہ ہوا
میری بستی میں رہی جسم کی اردو رائج
بولنے والا کوئی روح کی بھاشا نہ ہوا
تھانہ ء حسن میں تفتیش ابھی جاری ہے
ابر آلود کہانی میں مرا شانہ ہوا
یہ صحیفہ ہوا، منصور کوئی میرے خلاف
کسی بدنام رسالے کا تراشا نہ ہوا
منصور آفاق